@mehr_o_mah_0: عبادت انسان کو اللّٰہ کے قریب کرتی ہے مگر اچھے معاملات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اُس قربت نے انسان کے کردار پر کتنا اثر ڈالا ہے سجدوں میں جھکنے والا سر اگر انسانوں کے سامنے اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہیں تسبیح پڑھنے والی زبان اگر دوسروں کی عزت اچھالنے سے باز نہیں آتی اور دعاؤں میں اٹھنے والے ہاتھ اگر کسی کا حق مارنے کے بعد بھی مطمئن ہیں تو پھر انسان کو اپنے باطن میں جھانکنے کی ضرورت ہے ہم نے شاید دین کو چند عبادات تک محدود کر دیا ہے ہمیں لگتا ہے کہ نمازیں پڑھ لینا عمرے کر لینا تسبیح کے دانے گن لینا اور مذہبی لباس اختیار کر لینا ہماری تمام کوتاہیوں پر پردہ ڈال دے گا حالانکہ دین صرف اللّٰہ کے حضور جھکنے کا نام نہیں بلکہ اللّٰہ کی مخلوق کے ساتھ انصاف کرنے کا نام بھی ہے عبادت کا مقصد محض پیشانی پر سجدوں کے نشان سجانا نہیں ہوتا بلکہ دل میں عاجزی زبان میں سچائی رویّوں میں نرمی اور کردار میں دیانت پیدا کرنا بھی ہے کعبے کے گرد چکر لگانے سے پہلے کبھی اُن لوگوں کے دلوں کا بھی خیال کیجیے جنہیں آپ اپنی اَنا اپنے غرور اور اپنے مفاد کے گرد چکر لگواتے رہے ہیں کسی کو امید دلا کر تنہا چھوڑ دینا کسی کی مجبوری سے فائدہ اُٹھانا کسی کی عزت کو اپنی زبان سے مجروح کرنا کسی کا حق دبا لینا کسی کی خاموشی کو اُس کی کمزوری سمجھ لینا اور پھر عبادت گاہوں میں جا کر سکون تلاش کرنا یہ سب وہ سوالات ہیں جن سے انسان کو اپنے ضمیر کی عدالت میں گزرنا پڑتا ہے اللّٰہ کے گھر جانا یقیناً سعادت ہے مگر اللّٰہ کے بندوں کے حقوق پامال کرکے وہاں جانا اور پھر خود کو ہر احتساب سے بالاتر سمجھ لینا کیسی خود فریبی ہے؟ حرم کی حاضری انسان کے لیے توبہ اصلاح اور نیا آغاز بننی چاہیے نہ کہ اپنے اعمال پر مہرِ تصدیق لگانے کا ذریعہ۔۔۔ ذرا سوچیے! ایک شخص مسجد میں پہلی صف میں کھڑا ہے مگر گھر لوٹ کر اپنے ہی گھر والوں کی تذلیل کرتا ہے وہ تسبیح کے دانوں پر اللّٰہ کا ذکر کرتا ہے مگر کسی غریب کی مجبوری دیکھ کر اُس کا استحصال کرتا ہے وہ لوگوں کو صبر کی تلقین کرتا ہے مگر جب کسی کے حق کی بات آئے تو طاقت کے نشے میں چُور ہو کر انصاف کرنا بھول جاتا ہے یا وہ حلال و حرام کے بڑے بڑے درس دیتا ہے مگر اپنے مفاد کے لیے جھوٹ دھوکے اور حق تلفی کو معمولی سمجھتا ہے تو سوال یہ نہیں کہ وہ کتنی عبادت کرتا ہے سوال یہ ہے کہ اُس کی عبادت نے اُسے دوسروں کے لیے کتنا محفوظ کتنا منصف اور کتنا سچا انسان بنایاہے۔۔۔؟ کسی کا دل دکھا کر صرف یہ کہہ دینا کہ اللّٰہ بڑا غفور و رحیم ہے اپنے ضمیر کو خاموش کرانے کا بہانہ نہیں بن سکتا اللّٰہ کی رحمت سے مایوس ہونا درست نہیں لیکن اُس کی رحمت پر بھروسا کرکے بندوں کے حقوق کو معمولی سمجھ لینا بھی درست نہیں ہے جہاں کسی کا حق مارا گیا ہو وہاں حق واپس کرنا جہاں کسی پر ظلم ہوا ہو وہاں تلافی کرنا اور جہاں کسی کی عزت مجروح کی گئی ہو وہاں اپنی غلطی تسلیم کرنا بھی اَصلاح کا حصہ ہے ہم اکثر اپنی نیکیوں کا حساب رکھتے ہیں مگر اپنے رویّوں کا حساب نہیں رکھتے کتنی نمازیں پڑھیں کتنے روزے رکھے کتنے عمرے کیے کتنی تسبیحات پڑھیں یہ سب یاد رہتا ہے لیکن کتنے لوگوں کو ہماری وجہ سے اذیت پہنچی کتنے رشتے ہمارے غرور کی نذر ہوئے کتنے کمزور ہماری خاموش بے حسی کے باعث تنہا رہ گئے اور کتنے لوگوں کے حقوق ہم نے یہ سوچ کر دبا دیے کہ وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتےاِن سوالوں سے ہم نظریں چرا لیتے ہیں اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو دوسروں کی اصلاح کرنے سے پہلے اپنی اَصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ ابوجہل کا مکہ میں ہونا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کسی مقدس مقام سے نسبت، اپنے آپ میں، کسی کے کردار کی پاکیزگی کی ضمانت نہیں دیتا اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان حق کے سامنے کتنا جھکتا ہے اپنی غلطی کو کتنا تسلیم کرتا ہے اور اپنے اختیار کو دوسروں کے لیے رحمت بناتا ہے یا زحمت کیونکہ مقدس مقامات تک پہنچ جانا ایک سعادت ہے مگر اپنے کردار کو پاکیزہ بنانا ایک مسلسل جدوجہد ہوتی ہے۔۔۔💗💐 #foryou #foryoupage #foryouviral #hearttouching #100klikes