@meenamajeedbaloch1: #fyp #foryou #fypシ #minister #sports

Meena Rind Baloch
Meena Rind Baloch
Open In TikTok:
Region: PK
Friday 16 October 2026 17:34:16 GMT
97502
9225
0
390

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @meenamajeedbaloch1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

31 اکتوبر 1919 کو ترکی کے شہر مرعش، جسے آج قہرمان مرعش کہا جاتا ہے، میں پیش آنے والا ایک واقعہ مقامی مزاحمت کی تاریخ میں اہم موڑ ثابت ہوا۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد شہر پر قابض فرانسیسی افواج کے دور میں، تاریخی روایات کے مطابق، چند فوجیوں نے حمام سے نکلنے والی مسلمان خواتین کے نقاب کھینچنے کی کوشش کی۔ روایات کے مطابق، چاکماکچی سعید نے خواتین کے دفاع کے لیے مداخلت کی، جس کے دوران وہ گولی لگنے سے زخمی ہوئے یا بعض روایات کے مطابق جان سے گئے۔ اس کے بعد دودھ فروخت کرنے والے مقامی شخص امام نے پستول سے قابض فوجیوں پر فائرنگ کی، جس میں ایک فوجی ہلاک ہوا۔ یہ واقعہ سوتچو امام کے نام سے مشہور ہوا اور اسے قہرمان مرعش میں فرانسیسی قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت کی ابتدائی چنگاریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 1920 میں ہونے والی لڑائیوں کے بعد فرانسیسی افواج کو علاقے سے پسپا ہونا پڑا۔ آج سوتچو امام ترکی کی قومی تاریخ میں مزاحمت کی علامت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ تاہم، واقعے کی بعض جزئیات مختلف تاریخی روایات میں مختلف انداز سے بیان ہوئی ہیں۔ #SutcuImam #TurkishHistory #Kahramanmaras #HistoricalResistance #IslamicHeritage           This post is for informational and report-based purposes only. Details may vary depending on sources and official confirmations. Image is AI-generated for illustrative purposes only and may not depict actual events or persons.
31 اکتوبر 1919 کو ترکی کے شہر مرعش، جسے آج قہرمان مرعش کہا جاتا ہے، میں پیش آنے والا ایک واقعہ مقامی مزاحمت کی تاریخ میں اہم موڑ ثابت ہوا۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد شہر پر قابض فرانسیسی افواج کے دور میں، تاریخی روایات کے مطابق، چند فوجیوں نے حمام سے نکلنے والی مسلمان خواتین کے نقاب کھینچنے کی کوشش کی۔ روایات کے مطابق، چاکماکچی سعید نے خواتین کے دفاع کے لیے مداخلت کی، جس کے دوران وہ گولی لگنے سے زخمی ہوئے یا بعض روایات کے مطابق جان سے گئے۔ اس کے بعد دودھ فروخت کرنے والے مقامی شخص امام نے پستول سے قابض فوجیوں پر فائرنگ کی، جس میں ایک فوجی ہلاک ہوا۔ یہ واقعہ سوتچو امام کے نام سے مشہور ہوا اور اسے قہرمان مرعش میں فرانسیسی قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت کی ابتدائی چنگاریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 1920 میں ہونے والی لڑائیوں کے بعد فرانسیسی افواج کو علاقے سے پسپا ہونا پڑا۔ آج سوتچو امام ترکی کی قومی تاریخ میں مزاحمت کی علامت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ تاہم، واقعے کی بعض جزئیات مختلف تاریخی روایات میں مختلف انداز سے بیان ہوئی ہیں۔ #SutcuImam #TurkishHistory #Kahramanmaras #HistoricalResistance #IslamicHeritage This post is for informational and report-based purposes only. Details may vary depending on sources and official confirmations. Image is AI-generated for illustrative purposes only and may not depict actual events or persons.

About