@usa_almalki_ksa: #whattowatchchallenge

Travel-USA🇸🇦🇺🇸
Travel-USA🇸🇦🇺🇸
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 17 October 2026 01:03:56 GMT
25
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @usa_almalki_ksa, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

*حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی ﷺ خشک کھجور، کھجور، شہد اور گوشت کھانا زیادہ پسند فرماتے تھے۔* > *حوالہ: صحیح بخاری: 5447، صحیح مسلم: 2045* اصل میں یہ دو الگ صحیح احادیث ہیں جن کو جوڑ کر لکھا گیا: *الف) کھجور اور مٹھاس کے بارے میں:* > *عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ* - *صحیح بخاری: 5431، 5599، 5614 کتاب الاطعمۃ باب الحلواء والعسل، صحیح مسلم: 1474* - یہ بخاری 5447 کے قریب نمبر ہے جو تصویر میں ہے، مختلف ایڈیشن میں نمبر بدلتا ہے۔ اصل بخاری میں 5115 / 5431 ہے، لیکن حوالہ درست ہے۔ *ب) گوشت اور کھجور کے بارے میں:* > *كَانَ أَحَبَّ الشَّاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَدَّمُهَا، وَكَانَ يُحِبُّ الذِّرَاعَ* > *وَكَانَ يُحِبُّ مِنَ التَّمْرِ الْعَجْوَةَ* - *گوشت کے لیے: بخاری: 3340، مسلم: 1942، ابوداؤد: 3783 - حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ: كَانَ يَعْجَبُهُ الذِّرَاعُ* - *کھجور کے لیے: بخاری: 5440، مسلم: 2043 - حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا: كَانَ يَأْكُلُ الْقُثَّاءَ بِالرُّطَبِ* - *شہد: قرآن میں بھی: فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ (النحل: 69)* *درجہ:* *متفق علیہ صحیح* *2. تفصیلی تشریح - تصویر میں جو کھجور ہے وہی نبی ﷺ کی محبوب غذا:* تصویر میں نیچے عجوہ کھجور نظر آرہی ہے، مدینہ کی کالی کھجور۔ یہی نبی ﷺ کو سب سے زیادہ پسند تھی۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: نبی ﷺ کی ساری زندگی میں دو چیزیں ہمیشہ گھر میں رہتیں تو وہ *الأسودان: التمر والماء* - کھجور اور پانی۔ بعض اوقات مہینہ گزر جاتا چولہا نہیں جلتا تھا، صرف کھجور اور پانی پر گزارا۔ (بخاری: 6459) *نبی ﷺ کو یہ چار چیزیں کیوں پسند تھیں؟ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:* > *وَهَذِهِ الثَّلَاثَةُ - اللَّحْمُ وَالْعَسَلُ وَالْحَلْوَاءُ - مِنْ أَفْضَلِ الْأَغْذِيَةِ، وَأَنْفَعِهَا لِلْبَدَنِ وَالْكَبِدِ وَالْأَعْضَاءِ، وَلِلِاغْتِذَاءِ بِهَا نَفْعٌ عَظِيمٌ فِي حِفْظِ الصِّحَّةِ وَالْقُوَّةِ، وَلَا يَنْفِرُ مِنْهَا إِلَّا مَنْ بِهِ عِلَّةٌ وَآفَةٌ* 0d0d 1. *خشک کھجور (خشك) / کھجور (رطب و تمر):* یہ عرب کا قوت بخش کھانا تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: *يَا عَائِشَةُ بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ* (مسلم: 2046) - جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ بھوکا ہے۔ عجوہ کے بارے میں فرمایا: *مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ* (بخاری: 5445)۔ 2. *شہد:* نبی ﷺ صبح نہار منہ شہد کو پانی میں ملا کر پیتے تھے۔ *قدح عسل ممزوج بماء على الريق* - یہ صحت کی حفاظت کی حکمت ہے۔ 3. *گوشت:* سب سے زیادہ دستی (بازو) کا گوشت پسند تھا، کیونکہ وہ ہلکا، جلد ہضم، لذیذ ہے۔ *لحم الذراع أخف اللحم وألذه وألطفه وأبعده من الأذى وأسرعه انهضاما*۔ آپ ﷺ گوشت کو بہت پسند فرماتے، لیکن روز نہیں ملتا تھا، کبھی کبھار۔ ثرید (گوشت کے شوربے میں روٹی) آپ ﷺ کا محبوب ترین کھانا تھا۔ db05 *حلواء کیا ہے؟* عرب میں حلواء سے مراد ہر میٹھی چیز تھی۔ بعض محدثین کہتے ہیں: *المجيع* - کھجور کو دودھ میں گوندھ کر بنائی ہوئی میٹھی، یا فالوذج جیسی۔ یعنی قدرتی مٹھاس، آج کی بازاری مٹھائی نہیں۔ تو تصویر کا خلاصہ صحیح ہے: نبی ﷺ سادہ، قدرتی، طاقتور غذا پسند کرتے تھے - کھجور، شہد، گوشت - نہ کہ مرغن، مصنوعی کھانے۔
*حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی ﷺ خشک کھجور، کھجور، شہد اور گوشت کھانا زیادہ پسند فرماتے تھے۔* > *حوالہ: صحیح بخاری: 5447، صحیح مسلم: 2045* اصل میں یہ دو الگ صحیح احادیث ہیں جن کو جوڑ کر لکھا گیا: *الف) کھجور اور مٹھاس کے بارے میں:* > *عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ* - *صحیح بخاری: 5431، 5599، 5614 کتاب الاطعمۃ باب الحلواء والعسل، صحیح مسلم: 1474* - یہ بخاری 5447 کے قریب نمبر ہے جو تصویر میں ہے، مختلف ایڈیشن میں نمبر بدلتا ہے۔ اصل بخاری میں 5115 / 5431 ہے، لیکن حوالہ درست ہے۔ *ب) گوشت اور کھجور کے بارے میں:* > *كَانَ أَحَبَّ الشَّاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَدَّمُهَا، وَكَانَ يُحِبُّ الذِّرَاعَ* > *وَكَانَ يُحِبُّ مِنَ التَّمْرِ الْعَجْوَةَ* - *گوشت کے لیے: بخاری: 3340، مسلم: 1942، ابوداؤد: 3783 - حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ: كَانَ يَعْجَبُهُ الذِّرَاعُ* - *کھجور کے لیے: بخاری: 5440، مسلم: 2043 - حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا: كَانَ يَأْكُلُ الْقُثَّاءَ بِالرُّطَبِ* - *شہد: قرآن میں بھی: فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ (النحل: 69)* *درجہ:* *متفق علیہ صحیح* *2. تفصیلی تشریح - تصویر میں جو کھجور ہے وہی نبی ﷺ کی محبوب غذا:* تصویر میں نیچے عجوہ کھجور نظر آرہی ہے، مدینہ کی کالی کھجور۔ یہی نبی ﷺ کو سب سے زیادہ پسند تھی۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: نبی ﷺ کی ساری زندگی میں دو چیزیں ہمیشہ گھر میں رہتیں تو وہ *الأسودان: التمر والماء* - کھجور اور پانی۔ بعض اوقات مہینہ گزر جاتا چولہا نہیں جلتا تھا، صرف کھجور اور پانی پر گزارا۔ (بخاری: 6459) *نبی ﷺ کو یہ چار چیزیں کیوں پسند تھیں؟ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:* > *وَهَذِهِ الثَّلَاثَةُ - اللَّحْمُ وَالْعَسَلُ وَالْحَلْوَاءُ - مِنْ أَفْضَلِ الْأَغْذِيَةِ، وَأَنْفَعِهَا لِلْبَدَنِ وَالْكَبِدِ وَالْأَعْضَاءِ، وَلِلِاغْتِذَاءِ بِهَا نَفْعٌ عَظِيمٌ فِي حِفْظِ الصِّحَّةِ وَالْقُوَّةِ، وَلَا يَنْفِرُ مِنْهَا إِلَّا مَنْ بِهِ عِلَّةٌ وَآفَةٌ* 0d0d 1. *خشک کھجور (خشك) / کھجور (رطب و تمر):* یہ عرب کا قوت بخش کھانا تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: *يَا عَائِشَةُ بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ* (مسلم: 2046) - جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ بھوکا ہے۔ عجوہ کے بارے میں فرمایا: *مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ* (بخاری: 5445)۔ 2. *شہد:* نبی ﷺ صبح نہار منہ شہد کو پانی میں ملا کر پیتے تھے۔ *قدح عسل ممزوج بماء على الريق* - یہ صحت کی حفاظت کی حکمت ہے۔ 3. *گوشت:* سب سے زیادہ دستی (بازو) کا گوشت پسند تھا، کیونکہ وہ ہلکا، جلد ہضم، لذیذ ہے۔ *لحم الذراع أخف اللحم وألذه وألطفه وأبعده من الأذى وأسرعه انهضاما*۔ آپ ﷺ گوشت کو بہت پسند فرماتے، لیکن روز نہیں ملتا تھا، کبھی کبھار۔ ثرید (گوشت کے شوربے میں روٹی) آپ ﷺ کا محبوب ترین کھانا تھا۔ db05 *حلواء کیا ہے؟* عرب میں حلواء سے مراد ہر میٹھی چیز تھی۔ بعض محدثین کہتے ہیں: *المجيع* - کھجور کو دودھ میں گوندھ کر بنائی ہوئی میٹھی، یا فالوذج جیسی۔ یعنی قدرتی مٹھاس، آج کی بازاری مٹھائی نہیں۔ تو تصویر کا خلاصہ صحیح ہے: نبی ﷺ سادہ، قدرتی، طاقتور غذا پسند کرتے تھے - کھجور، شہد، گوشت - نہ کہ مرغن، مصنوعی کھانے۔

About