@alitas.de.fe: Pío, pío… ¡buenas noches! 🐥✨ Un bañito calientito, muchas burbujitas y dulces sueños para descansar a gustito. 💤🤍 Que Dios cuide tus sueños y llene tu noche de paz. 🙏🏻🌟 ¿Tú también tienes tu ritual antes de dormir? 🥹🛁💛 #BuenasNoches #DulcesSueños #Descanso #AlitasDeFe #Morgan 🪽🐾

Alitas De Fe
Alitas De Fe
Open In TikTok:
Region: MX
Saturday 17 October 2026 02:19:26 GMT
886
107
23
62

Music

Download

Comments

luz.mari5476
Luz mari :
buenas noches hasta mañana bendiciones
2026-10-17 02:24:14
1
karinyeseniaalb78
karinyeseniaalb78 :
buenas noches
2026-10-17 03:42:24
1
dante.el.shark0
dante.el.shark :
bañarse después de dormir
2026-10-17 04:07:07
1
jeffersonpedroza8
jeffersonpedroza37 :
Amen 🙏, amen 🙏, amen 🙏, Amen 🙏,
2026-10-17 03:21:25
1
juan.resendiz80
Juan Resendiz :
buenas noches dulces sueños ✨✨🙏🙏🤗🥰
2026-10-17 04:12:54
1
joaquinalvarez170
Joaquín :
BUENAS NOCHES BENDICIONES. AMEN🙏❤️🌹
2026-10-17 04:36:47
1
dhaisyalvarado
Dhaisy Alvarado :
Hiper Buenas Noches Bendecidas 🙏🏼🙏🏼🙏🏼
2026-10-17 02:42:52
1
user9833967190680
Rafael :
Feliz noche que mi padre Dios derrame una lluvia en tu hogar amén
2026-10-17 05:35:54
1
kikiyyhachi
Kiki y Hachika🤓🐶🇲🇽 :
Relajado disfrutando tú baño Morgan 🍬🍬🍬😴😴😴😇😇descansen y sueñen muy bonito amiguitos 🥰🥰🥰🥰🥰
2026-10-17 03:16:00
1
luz.guzman445
Luz Guzman :
BUENAS NOCHES 🙏 QUE TENGAN LINDOS SUEÑOS
2026-10-17 08:31:29
0
la.pelirroja.xula
la pelirroja xula :
😘😘😘
2026-10-17 09:35:45
0
luz.mari5476
Luz mari :
bendiciones
2026-10-17 02:24:38
1
marcoantonioalvar3231
panda 🐼 :
[Plegaria]
2026-10-17 03:30:54
1
To see more videos from user @alitas.de.fe, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، دل میں ایک عجیب سی کسک جاگ اٹھتی ہے، اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ آخر ایک مسلمان عورت کے سر پر سجے حجاب سے کسی کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے؟ وہ حجاب جو کسی کے لیے محض ایک کپڑا ہے، مگر کسی مسلمان عورت کے لیے حیا، ایمان، شناخت اور اپنے رب سے محبت کی علامت ہے۔ آذربائیجان کی سرزمین پر حجاب کے حوالے سے عائد پابندیوں اور تعلیمی اداروں میں سر ڈھانپنے پر لگائی جانے والی قدغنوں کا ذکر دل کو افسردہ کر دیتا ہے۔ ایک مسلمان بیٹی جب اپنے سر پر حجاب سجانے کی خواہش لے کر گھر سے نکلتی ہے تو اس کے دل میں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ زندگی گزارے گی، لیکن جب اسی حجاب کو اس کی تعلیم، اس کے مستقبل اور اس کی آزادی کے راستے میں رکاوٹ بنا دیا جائے تو اس کے خوابوں پر جیسے خاموشی کی چادر تن جاتی ہے۔ ذرا تصور کیجیے! ایک معصوم لڑکی، جس کی آنکھوں میں علم حاصل کرنے کے خواب ہوں، جو کتابوں سے محبت کرتی ہو، جو اپنے والدین کا نام روشن کرنا چاہتی ہو، وہ اسکول کے دروازے پر کھڑی ہو۔ اس کے سر پر حجاب ہو، دل میں علم کی طلب ہو، مگر اسے یہ احساس دلایا جائے کہ اس کی مذہبی پہچان اس کے تعلیمی سفر میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس لمحے اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ اس کی آنکھوں میں کتنے سوال جنم لیتے ہوں گے؟ کیا اس کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنا چاہتی ہے؟ افسوس! جب ایک بیٹی کے علم اور اس کے مذہبی اظہار کے درمیان انتخاب کھڑا کر دیا جائے تو یہ صرف ایک طالبہ کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ انسان کی آزادی، وقار اور بنیادی حقوق کا سوال بن جاتا ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت دی، اسے شناخت دی، اسے اپنے کردار اور تقویٰ سے بلندی حاصل کرنے کا درس دیا۔ حجاب بہت سی مسلمان خواتین کے لیے اسی دینی وابستگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ کسی کے لیے یہ لباس کا ایک حصہ ہوگا، لیکن ایک باحجاب عورت کے لیے یہ اس کے ایمان اور قلبی اطمینان سے جڑا ہوا معاملہ ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے حجاب اتارنا محض کپڑا اتارنا نہیں، بلکہ اپنے ضمیر کے خلاف ایک فیصلہ کرنے جیسا محسوس ہو سکتا ہے۔ اور سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب ایک مسلمان معاشرے میں رہنے والی مسلمان بیٹی کو اپنی مذہبی شناخت کے اظہار کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ آذربائیجان کی تاریخ، اس کی ثقافت اور اس کے معاشرے میں اسلام کی موجودگی کے باوجود، جب حجاب کے معاملے پر پابندیوں کی خبریں سامنے آتی ہیں تو بہت سے مسلمانوں کے دلوں میں درد اور بے بسی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی شناخت سے دور ہو جائے؟ کیا جدید تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ ایک لڑکی اپنے عقیدے کی کسی علامت کو چھوڑ دے؟ کیا ایک تعلیمی ادارہ اتنا وسیع القلب نہیں ہو سکتا کہ وہاں علم حاصل کرنے والی طالبہ کی قابلیت کو اس کے لباس سے زیادہ اہمیت دی جائے؟ تعلیم کا مقصد ذہنوں کو روشن کرنا ہے، نہ کہ کسی کے ضمیر کو آزمائش میں ڈالنا۔ ایک لڑکی حجاب پہن کر بھی ڈاکٹر بن سکتی ہے، استاد بن سکتی ہے، سائنس دان بن سکتی ہے اور اپنے ملک کی خدمت کر سکتی ہے۔ اس کی ذہانت، محنت اور صلاحیت کا فیصلہ اس کے علم سے ہونا چاہیے، نہ کہ صرف اس کے سر پر موجود کپڑے سے۔ یہ تحریر کسی قوم سے نفرت کے لیے نہیں، بلکہ ان دلوں کی آواز ہے جو مذہبی آزادی اور انسانی وقار پر یقین رکھتے ہیں۔ اختلاف ہو سکتا ہے، قانون پر بحث ہو سکتی ہے، ریاست اور مذہب کے تعلق پر مختلف آرا ہو سکتی ہیں، لیکن کسی بھی پالیسی کا جائزہ لیتے وقت ان لڑکیوں کے احساسات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جن کی تعلیم، خود اعتمادی اور مستقبل اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اے دنیا کے انصاف پسند لوگو! کبھی ان بچیوں کی آنکھوں میں جھانک کر بھی دیکھیے، جن کے لیے حجاب صرف لباس نہیں بلکہ ان کے ایمان کی ایک علامت ہے۔ ان کے خوابوں کو پابندیوں کے بوجھ تلے دبنے نہ دیجیے۔ انہیں ایسا ماحول دیجیے جہاں وہ علم بھی حاصل کر سکیں، اپنے وطن کی خدمت بھی کر سکیں اور اپنے ضمیر کے مطابق زندگی بھی گزار سکیں۔ آخر میں بس اتنا کہنا ہے: حجاب کے پیچھے کوئی خواب دیکھتی ہوئی بیٹی بھی ہے، کوئی ماں کی امید بھی ہے، کسی باپ کی دعا بھی ہے۔ اس کے ہاتھ میں کتاب ہے، آنکھوں میں مستقبل کے خواب ہیں اور دل میں اپنے رب سے محبت ہے۔ اس کے خوابوں کو اس کے لباس کی وجہ سے مت توڑیے۔ اسے علم سے محروم مت کیجیے، اسے اپنی شناخت اور تعلیم میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور مت کیجیے۔ کیونکہ کسی معاشرے کی اصل خوب صورتی اس بات میں نہیں کہ وہاں سب لوگ ایک جیسے دکھائی دیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہاں مختلف شناخت رکھنے والے لوگ بھی عزت، آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا کی ہر مسلمان بیٹی کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے، اس کے ایمان کی حفاظت فرمائے اور اسے علم، عزت اور کامیابی کے راستوں پر گا
#آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، دل میں ایک عجیب سی کسک جاگ اٹھتی ہے، اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ آخر ایک مسلمان عورت کے سر پر سجے حجاب سے کسی کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے؟ وہ حجاب جو کسی کے لیے محض ایک کپڑا ہے، مگر کسی مسلمان عورت کے لیے حیا، ایمان، شناخت اور اپنے رب سے محبت کی علامت ہے۔ آذربائیجان کی سرزمین پر حجاب کے حوالے سے عائد پابندیوں اور تعلیمی اداروں میں سر ڈھانپنے پر لگائی جانے والی قدغنوں کا ذکر دل کو افسردہ کر دیتا ہے۔ ایک مسلمان بیٹی جب اپنے سر پر حجاب سجانے کی خواہش لے کر گھر سے نکلتی ہے تو اس کے دل میں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ زندگی گزارے گی، لیکن جب اسی حجاب کو اس کی تعلیم، اس کے مستقبل اور اس کی آزادی کے راستے میں رکاوٹ بنا دیا جائے تو اس کے خوابوں پر جیسے خاموشی کی چادر تن جاتی ہے۔ ذرا تصور کیجیے! ایک معصوم لڑکی، جس کی آنکھوں میں علم حاصل کرنے کے خواب ہوں، جو کتابوں سے محبت کرتی ہو، جو اپنے والدین کا نام روشن کرنا چاہتی ہو، وہ اسکول کے دروازے پر کھڑی ہو۔ اس کے سر پر حجاب ہو، دل میں علم کی طلب ہو، مگر اسے یہ احساس دلایا جائے کہ اس کی مذہبی پہچان اس کے تعلیمی سفر میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس لمحے اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ اس کی آنکھوں میں کتنے سوال جنم لیتے ہوں گے؟ کیا اس کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنا چاہتی ہے؟ افسوس! جب ایک بیٹی کے علم اور اس کے مذہبی اظہار کے درمیان انتخاب کھڑا کر دیا جائے تو یہ صرف ایک طالبہ کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ انسان کی آزادی، وقار اور بنیادی حقوق کا سوال بن جاتا ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت دی، اسے شناخت دی، اسے اپنے کردار اور تقویٰ سے بلندی حاصل کرنے کا درس دیا۔ حجاب بہت سی مسلمان خواتین کے لیے اسی دینی وابستگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ کسی کے لیے یہ لباس کا ایک حصہ ہوگا، لیکن ایک باحجاب عورت کے لیے یہ اس کے ایمان اور قلبی اطمینان سے جڑا ہوا معاملہ ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے حجاب اتارنا محض کپڑا اتارنا نہیں، بلکہ اپنے ضمیر کے خلاف ایک فیصلہ کرنے جیسا محسوس ہو سکتا ہے۔ اور سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب ایک مسلمان معاشرے میں رہنے والی مسلمان بیٹی کو اپنی مذہبی شناخت کے اظہار کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ آذربائیجان کی تاریخ، اس کی ثقافت اور اس کے معاشرے میں اسلام کی موجودگی کے باوجود، جب حجاب کے معاملے پر پابندیوں کی خبریں سامنے آتی ہیں تو بہت سے مسلمانوں کے دلوں میں درد اور بے بسی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی شناخت سے دور ہو جائے؟ کیا جدید تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ ایک لڑکی اپنے عقیدے کی کسی علامت کو چھوڑ دے؟ کیا ایک تعلیمی ادارہ اتنا وسیع القلب نہیں ہو سکتا کہ وہاں علم حاصل کرنے والی طالبہ کی قابلیت کو اس کے لباس سے زیادہ اہمیت دی جائے؟ تعلیم کا مقصد ذہنوں کو روشن کرنا ہے، نہ کہ کسی کے ضمیر کو آزمائش میں ڈالنا۔ ایک لڑکی حجاب پہن کر بھی ڈاکٹر بن سکتی ہے، استاد بن سکتی ہے، سائنس دان بن سکتی ہے اور اپنے ملک کی خدمت کر سکتی ہے۔ اس کی ذہانت، محنت اور صلاحیت کا فیصلہ اس کے علم سے ہونا چاہیے، نہ کہ صرف اس کے سر پر موجود کپڑے سے۔ یہ تحریر کسی قوم سے نفرت کے لیے نہیں، بلکہ ان دلوں کی آواز ہے جو مذہبی آزادی اور انسانی وقار پر یقین رکھتے ہیں۔ اختلاف ہو سکتا ہے، قانون پر بحث ہو سکتی ہے، ریاست اور مذہب کے تعلق پر مختلف آرا ہو سکتی ہیں، لیکن کسی بھی پالیسی کا جائزہ لیتے وقت ان لڑکیوں کے احساسات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جن کی تعلیم، خود اعتمادی اور مستقبل اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اے دنیا کے انصاف پسند لوگو! کبھی ان بچیوں کی آنکھوں میں جھانک کر بھی دیکھیے، جن کے لیے حجاب صرف لباس نہیں بلکہ ان کے ایمان کی ایک علامت ہے۔ ان کے خوابوں کو پابندیوں کے بوجھ تلے دبنے نہ دیجیے۔ انہیں ایسا ماحول دیجیے جہاں وہ علم بھی حاصل کر سکیں، اپنے وطن کی خدمت بھی کر سکیں اور اپنے ضمیر کے مطابق زندگی بھی گزار سکیں۔ آخر میں بس اتنا کہنا ہے: حجاب کے پیچھے کوئی خواب دیکھتی ہوئی بیٹی بھی ہے، کوئی ماں کی امید بھی ہے، کسی باپ کی دعا بھی ہے۔ اس کے ہاتھ میں کتاب ہے، آنکھوں میں مستقبل کے خواب ہیں اور دل میں اپنے رب سے محبت ہے۔ اس کے خوابوں کو اس کے لباس کی وجہ سے مت توڑیے۔ اسے علم سے محروم مت کیجیے، اسے اپنی شناخت اور تعلیم میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور مت کیجیے۔ کیونکہ کسی معاشرے کی اصل خوب صورتی اس بات میں نہیں کہ وہاں سب لوگ ایک جیسے دکھائی دیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہاں مختلف شناخت رکھنے والے لوگ بھی عزت، آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا کی ہر مسلمان بیٹی کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے، اس کے ایمان کی حفاظت فرمائے اور اسے علم، عزت اور کامیابی کے راستوں پر گا

About