@abaidullah___khan01: اپیل برائے حصول انصاف بنام وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ۔۔جناب مشتاق سکھیرا صاحب Rpo سرگودھا۔۔جناب وقار عظیم کھرل صاحب Dpo میانوالی۔۔جملہ صحافی برادری ضلع میانوالی۔۔ہیومن رائٹس کمیشن۔تمام سوشل میڈیا ایکٹویسٹ۔ زیر نظر ویڈیو میں زیشان خان ولد عزت خان شاہوخیل کمرمشانی تحصیل عیسئ خیل نے ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا ہے۔جسمیں وہ بیانی ہیکہ 10/12 دن قبل مجھ پر رات کو ڈکیتی ہوئ۔میرا کوئ کریمینل ریکارڈ نہیں۔۔حصول انصاف کیلیئے زندگی میں پہلی بار تھانہ کمرمشانی درخواست دی۔۔انصاف دینے کی بجائے الٹا مجھے تھانہ بٹھا دیا گیا۔پولیس ملازمان وسیم۔عامر عرف ماما ۔وقاص سرمت خیل مجھے تھانہ مکڑوال لے گئے۔وہاں جا کر مجھ پر شدید تشدد کیا۔۔جب مجھے چھوڑا گیا۔تو وارثان مجھے میانوالی لے گئے۔۔میانوالی کے ڈاکٹرز نے مجھے لاعلاج کرتے ہوئے پنڈی ریفر کر دیا۔پنڈی میں ڈاکٹرز دو دن تک مجھے مستقل معزوری اور زندگی بچانے کیلیئے علاج میں لگے رہے۔۔لیکن شدید تشدد کے آگے بے بس ہو کر گردے واش کر دیئے۔۔۔۔ عالیجاہ۔۔۔ہر زی شعور بندہ جانتا ہیکہ جب ایک بار گردے واش ہو جائیں تو بندہ بمشکل ایک سال اپنی زندگی جی پاتا ہے۔۔پولیس ملازمان/ملزمان نے ہمارے جوان کو تشدد کرکے زندہ لاش میں تبدیل کر دیا ہے۔۔شاہوخیل قوم ہمیشہ پولیس معاون رہی ہے۔۔لہزا وارثان سمیت تمام شاہوخیل برادری کی پولیس افسران سے درخواست ہیکہ ان تین پولیس ملازمان/ملزمان کیخلاف بعد از میرٹ پر انکوائری کرتے ہوئے اندراج مقدمہ کریں۔اور محکمہ سے برخاست کریں۔۔تاکہ کسی اور ماں کی جھولی نہ اجاڑ دیں۔جملہ صحافی برادری میانوالی خاصکر کمرمشانی صحافی برادری سے بھی درخواست ہیکہ ہمیں انصاف دلوانے کیلیئے کیس کو ہائ لائٹ کریں۔۔