@kami.quotes7: بلوچستان کی سنگلاخ چٹانوں اور بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان، جہاں ہوا بھی خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے رک رک کر چلتی ہے، نائیک توحید شہید کی یاد آج بھی تازہ ہے۔ ان کے نام "توحید" میں ہی وہ غیر متزلزل ایمان جھلکتا تھا جس نے انہیں فرض کی راہ پر قربان ہونے کا حوصلہ دیا۔ تصور کریں، اکتوبر کی وہ سرد شام جب سورج غروب ہو رہا تھا اور آسمان نارنجی اور گہرے سرخ رنگوں میں رنگا ہوا تھا۔ نائیک توحید اپنی پوسٹ پر مستعد کھڑے تھے، ان کی گہری سنجیدہ آنکھیں چوکسی سے وادی کی نگرانی کر رہی تھیں۔ ان کے چہرے پر وہ پرسکون عزم تھا جو صرف ان لوگوں میں پایا جاتا ہے جنہوں نے اپنی جان سے زیادہ اپنے وطن کی سلامتی کو عزیز رکھا ہو۔ ان کی وردی پر لگا "FC BLN" کا بیج اور نام کی تختی، ان کے فخر اور ذمہ داری کا ثبوت تھی۔ اچانک وادی کا سکون گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے ٹوٹ گیا۔ دشمن نے حملہ کر دیا تھا۔ نائیک توحید نے لمحہ بھر کی تاخیر کے بغیر پوزیشن سنبھالی۔ ان کا ہر عمل نپا تلا تھا، ہر گولی دشمن کے لیے موت کا پیغام۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ایک ساتھی خطرے میں ہے، تو انہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کی۔ وہ آگے بڑھے اور دشمن کی گولیوں کو اپنی طرف موڑ لیا۔ ان کا حوصلہ پہاڑوں سے زیادہ بلند اور ایمان فولاد سے زیادہ سخت تھا۔ آخری لمحے میں، جب دشمن کی گولی ان کے سینے میں لگی، ان کی آنکھوں میں تکلیف کے بجائے ایک عجب سا نور اور اطمینان تھا۔ ان کی زبان پر کلمہ طیبہ اور "پاکستان زندہ باد" کی گونج تھی۔ نائیک توحید افسر نے مسکراتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور ہمیشہ کے لیے سرخرو ہو گئے۔ آج جب بھی کوئی ان پہاڑوں سے گزرتا ہے، تو اسے لگتا ہے کہ ہوا ان کی بہادری کی کہانی سنا رہی ہے۔ ان کی قربانی نے بلوچستان کی مٹی کو مزید مقدس بنا دیا ہے۔ نائیک توحید شہید مرے نہیں، وہ تو ہمارے دلوں میں اور اس پرچم کی بلندیوں میں ہمیشہ زندہ ہیں۔ ان کی داستانِ شجاعت آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے، جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آزادی کی قیمت کیا ہے اور اسے کیسے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ سلام ہے اس عظیم سپوت پر اور اس کی ماں پر جس نے اسے جنم دیا۔