@rashidali09: باہر سے نظر آتے ہیں آباد مگر ہم اندر سے کسی شہر کی مانند لٹے ہیں ظاہر کی بات اور ہے اندر کے اور دکھ ہم مسکراتے لوگ ہیں زہراب پی کے بھی کتنے ہی چہرے بدل کر دیکھ لیے ہم نے روح میں جو اتر جائے وہ دکھ الگ ہوتا ہے تمہارے بعد کہاں دل لگا ہے پہلے سا ہمیں تو ہر نیا دن ملا خسارے میں کوئی پوچھے تو کہہ دینا کہ ہم بھی مسکراتے تھے مگر کچھ حادثے ایسے ہوئے کہ بکھر کر رہ گئے مجھ کو تو کوئی زخم بھی گہرا نہیں لگا شاید میرے وجود کا شیشہ ہی ٹوٹا تھا