@nh_yayaaa: Anak suka coklat? Boleh cuba Brainy Plus perisa coklat 🍫😍 #brainyplus #vitaminanak

𓍯𓂃𝓝𝓪𝓷𝓪
𓍯𓂃𝓝𝓪𝓷𝓪
Open In TikTok:
Region: MY
Saturday 17 October 2026 13:00:00 GMT
252
1
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @nh_yayaaa, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پانچ سال تک ایک دوسرے کے خلاف عدالتوں میں لڑنے والے میاں بیوی، طلاق کے کاغذات ہاتھوں میں لیے عدالت پہنچے تھے۔ وکلا اپنے اپنے دلائل دے رہے تھے، جج نے شوہر سے پوچھا کہ کیا آپ اب بھی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتے ہیں؟ شوہر نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور ہلکا سا مسکرا دیا۔ بیوی نے اپنے ہاتھ میں پکڑے طلاق کے کاغذات پھاڑ دیے، دوڑ کر شوہر کے گلے لگ گئیں اور زار و قطار رونے لگیں۔ شوہر نے بھی انہیں گلے لگا لیا۔ جس عدالت میں پانچ سال کی لڑ۔ائی کے بعد دو لوگوں کو ہمیشہ کے لیے جدا ہونا تھا وہاں ایک مختصر لمحے میں دونوں نے ایک دوسرے کو دوبارہ اپنا لیا۔۔۔ یہ واقعہ انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کی تیس ہزاری عدالت میں پیش آیا۔ انڈین میڈیا کے مطابق سوربھ سنگھ اور شیکھا سنگھ کی شادی 2020 میں ہوئی تھی۔ شادی کے چند ماہ بعد ہی دونوں کے درمیان اختلافات شروع ہوگئے۔ بات اتنی بڑھی کہ شیکھا نے شوہر کے خلاف جہیز کے مطالبے، گھریلو تشد۔۔ د اور ذ۔۔ ہنی اذ۔۔ یت کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی شروع کر دی۔  اس مقدمے کی ایک اہم قانونی تاریخ 31 اگست 2024 ہے۔ اس روز ٹرائل کورٹ نے جوڑے کے کم عمر بیٹے کے لیے ماہانہ 20 ہزار انڈین روپے عبوری نان نفقہ مقرر کیا تاہم شیکھا کی اپنی نان نفقے کی درخواست مسترد کر دی۔ شیکھا نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ بعد ازاں 4 اکتوبر 2025 کو تیس ہزاری عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج ابھیشیک گوئل نے اس فیصلے میں ترمیم کرتے ہوئے شیکھا کے لیے بھی ماہانہ 15 ہزار روپے عبوری نان نفقہ منظور کیا جبکہ بیٹے کے لیے 20 ہزار روپے کی ادائیگی برقرار رکھی۔ اس دوران دونوں خاندانوں کو مالی اور ذہنی طور پر شد۔۔ید مشکلا۔ ت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر جون 2026 کے ابتدائی دنوں میں اس کہانی میں ایک ایسا موڑ آیا جس نے پانچ سال کی تلخی کو بدل کر رکھ دیا۔ شیکھا کے والد کو دل کا دورہ پڑا۔ گھر کے مالی حالات بھی ایسے نہیں تھے کہ انہیں فوری طور پر کسی مہنگے نجی ہسپتال میں علاج کے لیے لے جایا جاتا چنانچہ انہیں سرکاری ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ جب سوربھ کو اپنے سسر کی بیماری کا علم ہوا تو اس نے پرانے اختلافات اور مقدمات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان کی مدد کا فیصلہ کیا۔ وہ انہیں بہتر علاج کے لیے گروگرام کے معروف نجی ہسپتال میڈانتا لے گیا اور علاج میں تعاون کیا۔ رپورٹس کے مطابق بروقت اور بہتر علاج کے بعد ان کی طبیعت سنبھل گئی۔ اس کے اگلے روز دونوں ایک مرتبہ پھر عدالت پہنچے جہاں ان کے مقدمے کی سماعت ہونا تھی۔ وکلا دلائل دے رہے تھے کہ جج نے سوربھ سے پوچھا کہ کیا وہ  اب بھی طلاق دینا چاہتے ہیں؟ سوربھ نے شیکھا کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔ بس پھر کیا تھا شیکھا نے طلاق کے کاغذات پھاڑ دیے اور اپنے شوہر سے لپٹ گئیں۔ یہ منظر دیکھ کر وہاں موجود لوگ بھی جذباتی ہوگئے۔۔۔ کبھی کبھار زندگی میں ایک لمحہ ایسا ضرور آتا ہے جو برسوں کی تلخی پر بھاری پڑ جاتا ہے۔۔۔۔اور برسوں کی دوریوں کو سمیٹ کر آپ کو اپنوں کے قریب لا دیتا ہے۔۔ ❤️  ادیب یوسفزئی  #divorce #husbandwife4life #marriagelife  Disclaimer: This report is based on publicly available media reports and is shared for informational, educationa and public awareness purposes. It does not intend to defame, harass, target or harm the reputation of any individual or family. All individuals are entitled to privacy, dignity and the presumption of innocence. The content is presented in good faith to encourage constructive discussion about relationships, family values, and reconciliation. This report is intended to comply with Facebook Community Standards and does not promote hate, harassment, discrimination, or violence.
پانچ سال تک ایک دوسرے کے خلاف عدالتوں میں لڑنے والے میاں بیوی، طلاق کے کاغذات ہاتھوں میں لیے عدالت پہنچے تھے۔ وکلا اپنے اپنے دلائل دے رہے تھے، جج نے شوہر سے پوچھا کہ کیا آپ اب بھی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتے ہیں؟ شوہر نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور ہلکا سا مسکرا دیا۔ بیوی نے اپنے ہاتھ میں پکڑے طلاق کے کاغذات پھاڑ دیے، دوڑ کر شوہر کے گلے لگ گئیں اور زار و قطار رونے لگیں۔ شوہر نے بھی انہیں گلے لگا لیا۔ جس عدالت میں پانچ سال کی لڑ۔ائی کے بعد دو لوگوں کو ہمیشہ کے لیے جدا ہونا تھا وہاں ایک مختصر لمحے میں دونوں نے ایک دوسرے کو دوبارہ اپنا لیا۔۔۔ یہ واقعہ انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کی تیس ہزاری عدالت میں پیش آیا۔ انڈین میڈیا کے مطابق سوربھ سنگھ اور شیکھا سنگھ کی شادی 2020 میں ہوئی تھی۔ شادی کے چند ماہ بعد ہی دونوں کے درمیان اختلافات شروع ہوگئے۔ بات اتنی بڑھی کہ شیکھا نے شوہر کے خلاف جہیز کے مطالبے، گھریلو تشد۔۔ د اور ذ۔۔ ہنی اذ۔۔ یت کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی شروع کر دی۔ اس مقدمے کی ایک اہم قانونی تاریخ 31 اگست 2024 ہے۔ اس روز ٹرائل کورٹ نے جوڑے کے کم عمر بیٹے کے لیے ماہانہ 20 ہزار انڈین روپے عبوری نان نفقہ مقرر کیا تاہم شیکھا کی اپنی نان نفقے کی درخواست مسترد کر دی۔ شیکھا نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ بعد ازاں 4 اکتوبر 2025 کو تیس ہزاری عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج ابھیشیک گوئل نے اس فیصلے میں ترمیم کرتے ہوئے شیکھا کے لیے بھی ماہانہ 15 ہزار روپے عبوری نان نفقہ منظور کیا جبکہ بیٹے کے لیے 20 ہزار روپے کی ادائیگی برقرار رکھی۔ اس دوران دونوں خاندانوں کو مالی اور ذہنی طور پر شد۔۔ید مشکلا۔ ت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر جون 2026 کے ابتدائی دنوں میں اس کہانی میں ایک ایسا موڑ آیا جس نے پانچ سال کی تلخی کو بدل کر رکھ دیا۔ شیکھا کے والد کو دل کا دورہ پڑا۔ گھر کے مالی حالات بھی ایسے نہیں تھے کہ انہیں فوری طور پر کسی مہنگے نجی ہسپتال میں علاج کے لیے لے جایا جاتا چنانچہ انہیں سرکاری ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ جب سوربھ کو اپنے سسر کی بیماری کا علم ہوا تو اس نے پرانے اختلافات اور مقدمات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان کی مدد کا فیصلہ کیا۔ وہ انہیں بہتر علاج کے لیے گروگرام کے معروف نجی ہسپتال میڈانتا لے گیا اور علاج میں تعاون کیا۔ رپورٹس کے مطابق بروقت اور بہتر علاج کے بعد ان کی طبیعت سنبھل گئی۔ اس کے اگلے روز دونوں ایک مرتبہ پھر عدالت پہنچے جہاں ان کے مقدمے کی سماعت ہونا تھی۔ وکلا دلائل دے رہے تھے کہ جج نے سوربھ سے پوچھا کہ کیا وہ اب بھی طلاق دینا چاہتے ہیں؟ سوربھ نے شیکھا کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔ بس پھر کیا تھا شیکھا نے طلاق کے کاغذات پھاڑ دیے اور اپنے شوہر سے لپٹ گئیں۔ یہ منظر دیکھ کر وہاں موجود لوگ بھی جذباتی ہوگئے۔۔۔ کبھی کبھار زندگی میں ایک لمحہ ایسا ضرور آتا ہے جو برسوں کی تلخی پر بھاری پڑ جاتا ہے۔۔۔۔اور برسوں کی دوریوں کو سمیٹ کر آپ کو اپنوں کے قریب لا دیتا ہے۔۔ ❤️ ادیب یوسفزئی #divorce #husbandwife4life #marriagelife Disclaimer: This report is based on publicly available media reports and is shared for informational, educationa and public awareness purposes. It does not intend to defame, harass, target or harm the reputation of any individual or family. All individuals are entitled to privacy, dignity and the presumption of innocence. The content is presented in good faith to encourage constructive discussion about relationships, family values, and reconciliation. This report is intended to comply with Facebook Community Standards and does not promote hate, harassment, discrimination, or violence.

About