@lee.loux: How well do we know each other 🤪

Lee
Lee
Open In TikTok:
Region: TR
Saturday 17 October 2026 10:57:38 GMT
13001
135
1
0

Music

Download

Comments

julialobban
Julia Lobban :
❤️❤️❤️
2026-10-17 15:06:44
1
To see more videos from user @lee.loux, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#دو مرغیوں کی خواہش سے شروع ہونے والی کہانی، جس نے پورے الجزائر کو ایک یتیم بیٹی کا خاندان بنا دیا! 💔🥹 الجزائر کے صوبے عین الدفلی کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’سیدی لخضر‘ میں رہنے والی ایک غریب اور یتیم لڑکی شہرزاد کی شادی اس وقت ایک غیر معمولی اور یادگار جشن میں بدل گئی، جب اس کی ایک معصومانہ فریاد نے ہزاروں لوگوں کے دلوں کو چھو لیا۔ شہرزاد اپنے قریبی رشتہ دار کریم کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھنے جا رہی تھی، لیکن غربت اور مالی مشکلات نے اس خوشی کے موقع پر بھی اس کے لیے کئی پریشانیاں کھڑی کر رکھی تھیں۔ شادی میں صرف چند دن باقی تھے اور اسے آنے والے مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنے کی فکر ستا رہی تھی۔ ایسے میں اس نے سوشل میڈیا پر ایک نہایت سادہ اور عاجزانہ اپیل کی کہ اگر کوئی مخیر شخص یا پڑوسی اسے صرف دو مرغیاں عطیہ کر دے تو وہ اپنی شادی کی رات آنے والے مہمانوں کے لیے کھانے کا بندوبست کر سکے گی۔ شہرزاد کو شاید اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس کی دو مرغیوں کی یہ چھوٹی سی درخواست اتنی بڑی کہانی بن جائے گی۔ اس کی اپیل سوشل میڈیا پر پھیلتی چلی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے الجزائر کے مختلف علاقوں سے لوگ اس کی مدد کے لیے آگے آنے لگے۔ لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اس بیٹی کو زندگی کے سب سے اہم دن پر غربت اور تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیں گے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے شہرزاد کے گھر کی طرف مدد کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ مختلف علاقوں سے گاڑیاں اور ٹرک تحائف لے کر پہنچنے لگے۔ کسی نے گھر کے لیے قیمتی فرنیچر پیش کیا، کسی نے جدید الیکٹرانکس دیے، کسی نے مہینوں کے لیے راشن فراہم کیا، جبکہ بعض لوگوں نے دلہن کو سونے کے قیمتی زیورات تحفے میں دیے۔ یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ اطلاعات کے مطابق، ایک سعودی تاجر نے نئے جوڑے کے لیے عمرے کے مکمل سفر کی ذمہ داری اٹھائی، جبکہ ایک مقامی کاروباری شخصیت نے دولہا کے لیے مستقل ملازمت کا انتظام کیا اور شہرزاد کی والدہ کے لیے تاحیات ماہانہ وظیفہ مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا۔ جس لڑکی کو اپنی شادی کے مہمانوں کے لیے دو مرغیوں کی فکر تھی، اس کے گھر میں اب مدد، محبت اور خوشیوں کے تحائف جمع ہو رہے تھے۔ جس شادی کو شاید چند لوگوں کی موجودگی میں سادگی سے گزر جانا تھا، وہ ایک بڑے عوامی اجتماع اور یادگار جشن کی صورت اختیار کر گئی۔ شادی کے روز دور دراز علاقوں سے مرد اور خواتین شہرزاد کو رخصت کرنے پہنچے۔ گاڑیوں کے طویل قافلے، روایتی موسیقی، لوگوں کے ہجوم اور سیکیورٹی کے انتظامات کے درمیان دلہن کو ایسے رخصت کیا گیا جیسے وہ کسی شاہی خاندان کی شہزادی ہو۔ اس منظر میں سب سے خوبصورت بات قیمتی تحائف یا گاڑیوں کی لمبی قطاریں نہیں، بلکہ وہ احساس تھا کہ ایک ایسی لڑکی، جو خود کو بے سہارا سمجھتی تھی، اس کے دکھ کو ہزاروں لوگوں نے اپنا دکھ سمجھ لیا۔ اس موقع پر شہرزاد جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور اس سے منسوب ایک جملہ لوگوں کے دلوں کو چھو گیا: ”آج میں خود کو یتیم محسوس نہیں کر رہی، بلکہ مجھے فخر ہے کہ میں پورے الجزائر کی بیٹی ہوں!“  یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کسی انسان کی زندگی بدلنے کے لیے ہمیشہ بڑی دولت یا بڑے وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی کسی کی چھوٹی سی ضرورت کو محسوس کرنا، اس کے دکھ میں شریک ہونا اور مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھام لینا ہی سب سے بڑی نیکی بن جاتا ہے۔ شہرزاد کو شاید صرف دو مرغیوں کی ضرورت تھی، مگر لوگوں نے اسے یہ احساس دے دیا کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔ اس کے سر پر والدین کا سایہ نہ سہی، لیکن اس کے دکھ کو بانٹنے کے لیے ہزاروں دل موجود ہیں۔ کیونکہ اصل امیری دولت کے انبار میں نہیں، بلکہ اس دل میں ہوتی ہے جو کسی بے سہارا انسان کی خوشی کے لیے دھڑک اٹھے۔  #CTNNews #Algeria #Humanity #Kindness
#دو مرغیوں کی خواہش سے شروع ہونے والی کہانی، جس نے پورے الجزائر کو ایک یتیم بیٹی کا خاندان بنا دیا! 💔🥹 الجزائر کے صوبے عین الدفلی کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’سیدی لخضر‘ میں رہنے والی ایک غریب اور یتیم لڑکی شہرزاد کی شادی اس وقت ایک غیر معمولی اور یادگار جشن میں بدل گئی، جب اس کی ایک معصومانہ فریاد نے ہزاروں لوگوں کے دلوں کو چھو لیا۔ شہرزاد اپنے قریبی رشتہ دار کریم کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھنے جا رہی تھی، لیکن غربت اور مالی مشکلات نے اس خوشی کے موقع پر بھی اس کے لیے کئی پریشانیاں کھڑی کر رکھی تھیں۔ شادی میں صرف چند دن باقی تھے اور اسے آنے والے مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنے کی فکر ستا رہی تھی۔ ایسے میں اس نے سوشل میڈیا پر ایک نہایت سادہ اور عاجزانہ اپیل کی کہ اگر کوئی مخیر شخص یا پڑوسی اسے صرف دو مرغیاں عطیہ کر دے تو وہ اپنی شادی کی رات آنے والے مہمانوں کے لیے کھانے کا بندوبست کر سکے گی۔ شہرزاد کو شاید اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس کی دو مرغیوں کی یہ چھوٹی سی درخواست اتنی بڑی کہانی بن جائے گی۔ اس کی اپیل سوشل میڈیا پر پھیلتی چلی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے الجزائر کے مختلف علاقوں سے لوگ اس کی مدد کے لیے آگے آنے لگے۔ لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اس بیٹی کو زندگی کے سب سے اہم دن پر غربت اور تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیں گے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے شہرزاد کے گھر کی طرف مدد کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ مختلف علاقوں سے گاڑیاں اور ٹرک تحائف لے کر پہنچنے لگے۔ کسی نے گھر کے لیے قیمتی فرنیچر پیش کیا، کسی نے جدید الیکٹرانکس دیے، کسی نے مہینوں کے لیے راشن فراہم کیا، جبکہ بعض لوگوں نے دلہن کو سونے کے قیمتی زیورات تحفے میں دیے۔ یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ اطلاعات کے مطابق، ایک سعودی تاجر نے نئے جوڑے کے لیے عمرے کے مکمل سفر کی ذمہ داری اٹھائی، جبکہ ایک مقامی کاروباری شخصیت نے دولہا کے لیے مستقل ملازمت کا انتظام کیا اور شہرزاد کی والدہ کے لیے تاحیات ماہانہ وظیفہ مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا۔ جس لڑکی کو اپنی شادی کے مہمانوں کے لیے دو مرغیوں کی فکر تھی، اس کے گھر میں اب مدد، محبت اور خوشیوں کے تحائف جمع ہو رہے تھے۔ جس شادی کو شاید چند لوگوں کی موجودگی میں سادگی سے گزر جانا تھا، وہ ایک بڑے عوامی اجتماع اور یادگار جشن کی صورت اختیار کر گئی۔ شادی کے روز دور دراز علاقوں سے مرد اور خواتین شہرزاد کو رخصت کرنے پہنچے۔ گاڑیوں کے طویل قافلے، روایتی موسیقی، لوگوں کے ہجوم اور سیکیورٹی کے انتظامات کے درمیان دلہن کو ایسے رخصت کیا گیا جیسے وہ کسی شاہی خاندان کی شہزادی ہو۔ اس منظر میں سب سے خوبصورت بات قیمتی تحائف یا گاڑیوں کی لمبی قطاریں نہیں، بلکہ وہ احساس تھا کہ ایک ایسی لڑکی، جو خود کو بے سہارا سمجھتی تھی، اس کے دکھ کو ہزاروں لوگوں نے اپنا دکھ سمجھ لیا۔ اس موقع پر شہرزاد جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور اس سے منسوب ایک جملہ لوگوں کے دلوں کو چھو گیا: ”آج میں خود کو یتیم محسوس نہیں کر رہی، بلکہ مجھے فخر ہے کہ میں پورے الجزائر کی بیٹی ہوں!“ یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کسی انسان کی زندگی بدلنے کے لیے ہمیشہ بڑی دولت یا بڑے وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی کسی کی چھوٹی سی ضرورت کو محسوس کرنا، اس کے دکھ میں شریک ہونا اور مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھام لینا ہی سب سے بڑی نیکی بن جاتا ہے۔ شہرزاد کو شاید صرف دو مرغیوں کی ضرورت تھی، مگر لوگوں نے اسے یہ احساس دے دیا کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔ اس کے سر پر والدین کا سایہ نہ سہی، لیکن اس کے دکھ کو بانٹنے کے لیے ہزاروں دل موجود ہیں۔ کیونکہ اصل امیری دولت کے انبار میں نہیں، بلکہ اس دل میں ہوتی ہے جو کسی بے سہارا انسان کی خوشی کے لیے دھڑک اٹھے۔ #CTNNews #Algeria #Humanity #Kindness

About