@nature0978: # بعض اوقات اتنے سخت امتحان لیتی ہے کہ انسان کے پاس صبر اور آنسوؤں کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں پیش آنے والے سکول کی چھت گ۔رنے کے دلخراش ح۔ادث۔ے نے پورے علاقے کو غم و اندوہ میں ڈبو دیا ہے۔ اس ح۔ادث۔ے میں جاں بحق ہونے والا 10 سالہ عبدالبصیر عام بچہ نہیں تھا، بلکہ اپنے والدین کی 21 سالہ منتوں، مرادوں اور دعاؤں کا ثمر تھا۔ 21 سال کا انتظار اور محبت کی داستان عبدالبصیر کے والدین نے شادی کے بعد 21 طویل سال آس اور امید کے ساتھ کاٹے۔ جب عبدالبصیر ان کی دنیا میں آیا تو پورے گھر میں خوشیوں کا چراغ جل اٹھا۔ اسے پالنے پوسنے کے لیے والدین نے اپنے تمام ناز و نخرے اور محبتیں نچھاور کر دیں۔ وہ گھر کی رونق، ماں باپ کی آنکھوں کا تارا اور ان کے بڑھاپے کا واحد سہارا تھا۔ غم سے نڈھال والد نے کہا میں جب بھی تھکا ہارا کام سے گھر لوٹتا، عبدالبصیر دور سے بھاگتا ہوا آتا اور مجھ سے لپٹ جاتا تھا۔ اس کی معصوم ہنسی میری دن بھر کی تھکاوٹ مٹا دیتی تھی۔ آج میرا وہ گھر ویران ہو گیا ہے، اب مجھے گھر جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ مجھے لپٹنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ ایک ہنستا بستا گھر اور سنسان آنگن عبدالبصیر کی ناگہانی جدائی میں نہ صرف اس کے والدین صدمے کی حالت میں ہیں بلکہ رشتہ دار اور تمام عزیز و اقارب بھی غم سے نڈھال ہیں۔ ننھے عبدالبصیر کا سکول کا بستہ اور اس کے کھیلنے کا سامان اب بھی کمرے میں موجود ہے، لیکن انہیں استعمال کرنے والا معصوم لعل اب ہمیشہ کے لیے منوں مٹی تلے جا سویا ہے۔ اس المیے نے ایک بار پھر تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت اور انتظامی غفلت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں ایک معصوم جان کے ساتھ ساتھ والدین کی 21 سالہ امیدوں کا خون ہو گیا۔ #creatorsearchinsights #funniestfancommentthread #treding #viralvideo #foryoupage