@junaid.bhutta170: الجزائر کے صوبے عین الدفلی کے ایک چھوٹے سے گاؤں 'سیدی لخضر' سے تعلق رکھنے والی ایک غریب اور یتیم لڑکی، شہرزاد کی شادی اس وقت ایک تاریخی اور شاہی جشن میں بدل گئی جب اس کی ایک انتہائی معصومانہ اور عاجزانہ فریاد نے پورے ملک کے عوام کے دل پگھلا دیے۔ اپنے قریبی رشتہ دار 'کریم' سے شادی کے بندھن میں بندھنے والی شہرزاد شدید مالی مشکلات کا شکار تھی۔ شادی سے چند روز قبل، اس نے سوشل میڈیا پر ایک انتہائی سادہ سی اپیل کی کہ کوئی مخیر شخص یا پڑوسی اسے محض دو مرغیاں عطیہ کر دے، تاکہ وہ اپنی شادی کی رات آنے والے چند مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کر سکے۔ شہرزاد کی یہ عاجزانہ پکار دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس نے الجزائر کے تمام 58 صوبوں کے عوام کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ الجزائر کی اس بیٹی کو اس کے سب سے بڑے دن پر اکیلا اور اداس نہیں چھوڑا جائے گا۔ چند ہی گھنٹوں میں، ملک کے کونے کونے سے گاڑیوں اور ٹرکوں کے قافلے شہرزاد کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ لوگوں نے دل کھول کر شہرزاد کی مدد کی، قیمتی فرنیچر، جدید الیکٹرانکس اور مہینوں کا راشن، دلہن کو سونے کے قیمتی تحفے دیے، ایک سعودی تاجر نے نئے جوڑے کے لیے عمرہ کا مکمل سفر سپانسر کیا، جبکہ ایک مقامی بزنس مین نے دولہا کے لیے مستقل ملازمت کا انتظام کیا اور دلہن کی والدہ کے لیے تاحیات ماہانہ وظیفہ مقرر کر دیا۔ شادی کے دن، ہزاروں اجنبی مَرد و خواتین جزائر کے دور دراز علاقوں سے سفر کر کے دلہن کو رخصت کرنے پہنچے۔ گاڑیوں کا ایک طویل ترین قافلہ، روایتی موسیقی اور سیکیورٹی کی موجودگی میں شہرزاد کو کسی شہزادی کی طرح رخصت کیا گیا۔ اس موقع پر دلہن شہرزاد اپنے آنسو نہ روک سکی اور روتے ہوئے تاریخی جملہ کہا: "آج میں خود کو یتیم محسوس نہیں کر رہی، بلکہ مجھے فخر ہے کہ میں پورے الجزائر کی بیٹی ہوں!"