@based: BASED Leave in Conditioner is the cure #BASED

BASED
BASED
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 17 October 2026 23:25:00 GMT
36713
639
21
6

Music

Download

Comments

r4yyan.4
Ray9an :
Second
2026-10-17 23:26:57
5
moz34234
𝓣𝓮𝓪𝓰𝓪𝓷 😛 :
I just bought the wavy hair pack 40 bucks 😁😁
2026-10-17 23:34:49
4
quivics1
Ĝ9röÿ :
let me get a free set pls
2026-10-17 23:29:26
5
insighter6
EGOISTA :
Can I have som
2026-10-17 23:28:24
7
user3517867123619
user3517867123619 :
hi
2026-10-19 13:04:09
2
z_vzf
/gg :
ok
2026-10-17 23:27:59
5
ajinky34
ajinkya :
send me some free products
2026-10-17 23:26:59
2
frankie_7771
frankie_777 :
Love the pal made and the sea salt spray
2026-10-18 01:22:13
4
mwii45
yuri :
give me free products
2026-10-17 23:36:49
2
m_saleh775
M^_^saleh 😜 :
2026-10-17 23:32:20
3
lingala00
Emmanuel Etaba :
thx
2026-10-17 23:27:08
2
eyad.rmr
﮼إياد🇪🇬👑🦅 :
First
2026-10-17 23:30:11
2
y_xca1
Юсеф💘 :
1
2026-10-17 23:26:33
2
m_saleh775
M^_^saleh 😜 :
2026-10-17 23:32:32
2
stxrly6764
STXRLY⭐️ :
@STXRLY⭐️: 577623667878040554 can I have a free scalp scrubber? I’ve been trying to get one for the past order and I didn’t win the giveaway please this is all I want.
2026-10-17 23:50:04
3
bladimir.quintani16
Blad :
Helping the poor
2026-10-17 23:27:06
3
lebronandmearehim
Peak🎧 :
Zetas right nut
2026-10-18 01:06:32
2
zyq.cubing
ZyqCuber :
how many likes at this comment for a free based
2026-10-17 23:27:42
3
joey_desantiago
Joey :
@BASED can you please pack my skincare order
2026-10-17 23:37:07
3
.vstar0
.vstar0 :
@BASED pack my order
2026-10-17 23:41:04
2
To see more videos from user @based, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#کل ٹرمپ کے استقبال میں عورتیں پیش کی جا رہی تھیں، آج ایک عورت کا سر تن سے جدا ہے! ایک وقت تھا جب سعودی عرب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد پر شاہانہ استقبال کیا جا رہا تھا۔ دولت کی نمائش تھی، قیمتی تحفے تھے، رقص و موسیقی کی محفلیں تھیں، اور دنیا بھر کے سامنے عرب شاہی نظام کی شان و شوکت دکھائی جا رہی تھی۔ آج اسی خطے سے ایک ایسی خبر سامنے آتی ہے جو انسان کے دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ ایک عورت، جو کسی کی بیوی تھی، کسی کی بیٹی تھی، کسی کے گھر کی عزت اور کسی کی زندگی کا حصہ تھی، اس کی زندگی ایک ایسے انجام تک پہنچی کہ اس کا سر اس کے دھڑ سے جدا کر دیا گیا۔ کیا عورت صرف استقبال کی زینت بننے کے لیے ہے؟ کیا اس کی عزت صرف محفلوں تک محدود ہے؟ اور جب وہ ایک انسان کی حیثیت سے اپنے ہی گھر میں ظلم کا شکار ہو، تو اس کی حرمت کہاں چلی جاتی ہے؟ کل تک طاقتور حکمرانوں کے سامنے مسکراہٹیں بکھیرنے، دولت لٹانے اور دنیا کو متاثر کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ آج ایک عورت کی موت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محلوں کی چمک دمک، دولت کے انبار اور طاقت کے مظاہرے کسی معاشرے کی اصل عظمت کا ثبوت نہیں ہوتے۔ اصل عظمت تو یہ ہے کہ ایک عورت اپنے گھر میں محفوظ ہو، ایک بیوی اپنے شوہر کے ہاتھوں خوف زدہ نہ ہو، ایک بیٹی اپنی زندگی کے لیے دعا کرنے پر مجبور نہ ہو، اور ایک انسان کی جان کو ہر تعلق، ہر رشتے اور ہر اختلاف سے بڑھ کر اہمیت دی جائے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم عورت کو کبھی عزت کے نام پر قید کرتے ہیں، کبھی غیرت کے نام پر اس کی زندگی چھین لیتے ہیں، اور کبھی اسے طاقتور لوگوں کی محفلوں میں محض ایک منظر بنا کر پیش کرتے ہیں۔ آخر عورت کی اپنی ذات، اس کے خواب، اس کی خواہشات اور اس کی زندگی کی قیمت کب تسلیم کی جائے گی؟ اسلام تو عورت کو عزت، وراثت، تحفظ اور زندگی کا حق دیتا ہے۔ پھر عورت پر ظلم کرنے والا کس منہ سے دین، غیرت اور عزت کی بات کرتا ہے؟ کسی عورت کو قتل کر دینا غیرت نہیں، بلکہ انسانیت کے چہرے پر ایک ایسا زخم ہے جو برسوں تک رستا رہتا ہے۔ اور حکمرانوں سے بھی ایک سوال ہے: اگر دولت سے دنیا کو حیران کیا جا سکتا ہے، تو کیا انصاف سے دل نہیں جیتے جا سکتے؟ اگر عالمی رہنماؤں کے استقبال پر بے شمار وسائل خرچ کیے جا سکتے ہیں، تو معاشرے کی ہر عورت کے تحفظ، انصاف اور وقار کے لیے پوری قوت کیوں نہیں صرف کی جاتی؟ یاد رکھیے، کسی ملک کی عظمت اس کے محلوں سے نہیں، اس کی عورتوں کے تحفظ سے پہچانی جاتی ہے۔ آج ایک عورت کی موت پر صرف اس کے گھر والے نہیں رو رہے؛ ہر وہ شخص غم زدہ ہے جس کے دل میں انسانیت ابھی زندہ ہے۔ اس عورت کی زندگی واپس نہیں آ سکتی، مگر اس کا المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ضرور کر سکتا ہے کہ ہم کیسا معاشرہ بنا رہے ہیں، جہاں عورت کی عزت کے دعوے تو بہت ہیں، مگر اس کی جان کی حفاظت سب سے بڑا امتحان بن جاتی ہے۔ اللہ ہر مظلوم عورت کو انصاف عطا فرمائے، ہر ظالم کو اس کے کیے کی سزا ملے، اور ہمیں ایسا معاشرہ نصیب ہو جہاں کسی عورت کا جنازہ اس کی بے بسی کی کہانی نہ بنے۔ کیونکہ عورت کوئی تماشا نہیں، کوئی ملکیت نہیں، کوئی بے جان شے نہیں؛ وہ ایک مکمل انسان ہے، اور اس کی زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی بادشاہ، کسی حکمران یا کسی طاقتور انسان کی۔
#کل ٹرمپ کے استقبال میں عورتیں پیش کی جا رہی تھیں، آج ایک عورت کا سر تن سے جدا ہے! ایک وقت تھا جب سعودی عرب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد پر شاہانہ استقبال کیا جا رہا تھا۔ دولت کی نمائش تھی، قیمتی تحفے تھے، رقص و موسیقی کی محفلیں تھیں، اور دنیا بھر کے سامنے عرب شاہی نظام کی شان و شوکت دکھائی جا رہی تھی۔ آج اسی خطے سے ایک ایسی خبر سامنے آتی ہے جو انسان کے دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ ایک عورت، جو کسی کی بیوی تھی، کسی کی بیٹی تھی، کسی کے گھر کی عزت اور کسی کی زندگی کا حصہ تھی، اس کی زندگی ایک ایسے انجام تک پہنچی کہ اس کا سر اس کے دھڑ سے جدا کر دیا گیا۔ کیا عورت صرف استقبال کی زینت بننے کے لیے ہے؟ کیا اس کی عزت صرف محفلوں تک محدود ہے؟ اور جب وہ ایک انسان کی حیثیت سے اپنے ہی گھر میں ظلم کا شکار ہو، تو اس کی حرمت کہاں چلی جاتی ہے؟ کل تک طاقتور حکمرانوں کے سامنے مسکراہٹیں بکھیرنے، دولت لٹانے اور دنیا کو متاثر کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ آج ایک عورت کی موت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محلوں کی چمک دمک، دولت کے انبار اور طاقت کے مظاہرے کسی معاشرے کی اصل عظمت کا ثبوت نہیں ہوتے۔ اصل عظمت تو یہ ہے کہ ایک عورت اپنے گھر میں محفوظ ہو، ایک بیوی اپنے شوہر کے ہاتھوں خوف زدہ نہ ہو، ایک بیٹی اپنی زندگی کے لیے دعا کرنے پر مجبور نہ ہو، اور ایک انسان کی جان کو ہر تعلق، ہر رشتے اور ہر اختلاف سے بڑھ کر اہمیت دی جائے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم عورت کو کبھی عزت کے نام پر قید کرتے ہیں، کبھی غیرت کے نام پر اس کی زندگی چھین لیتے ہیں، اور کبھی اسے طاقتور لوگوں کی محفلوں میں محض ایک منظر بنا کر پیش کرتے ہیں۔ آخر عورت کی اپنی ذات، اس کے خواب، اس کی خواہشات اور اس کی زندگی کی قیمت کب تسلیم کی جائے گی؟ اسلام تو عورت کو عزت، وراثت، تحفظ اور زندگی کا حق دیتا ہے۔ پھر عورت پر ظلم کرنے والا کس منہ سے دین، غیرت اور عزت کی بات کرتا ہے؟ کسی عورت کو قتل کر دینا غیرت نہیں، بلکہ انسانیت کے چہرے پر ایک ایسا زخم ہے جو برسوں تک رستا رہتا ہے۔ اور حکمرانوں سے بھی ایک سوال ہے: اگر دولت سے دنیا کو حیران کیا جا سکتا ہے، تو کیا انصاف سے دل نہیں جیتے جا سکتے؟ اگر عالمی رہنماؤں کے استقبال پر بے شمار وسائل خرچ کیے جا سکتے ہیں، تو معاشرے کی ہر عورت کے تحفظ، انصاف اور وقار کے لیے پوری قوت کیوں نہیں صرف کی جاتی؟ یاد رکھیے، کسی ملک کی عظمت اس کے محلوں سے نہیں، اس کی عورتوں کے تحفظ سے پہچانی جاتی ہے۔ آج ایک عورت کی موت پر صرف اس کے گھر والے نہیں رو رہے؛ ہر وہ شخص غم زدہ ہے جس کے دل میں انسانیت ابھی زندہ ہے۔ اس عورت کی زندگی واپس نہیں آ سکتی، مگر اس کا المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ضرور کر سکتا ہے کہ ہم کیسا معاشرہ بنا رہے ہیں، جہاں عورت کی عزت کے دعوے تو بہت ہیں، مگر اس کی جان کی حفاظت سب سے بڑا امتحان بن جاتی ہے۔ اللہ ہر مظلوم عورت کو انصاف عطا فرمائے، ہر ظالم کو اس کے کیے کی سزا ملے، اور ہمیں ایسا معاشرہ نصیب ہو جہاں کسی عورت کا جنازہ اس کی بے بسی کی کہانی نہ بنے۔ کیونکہ عورت کوئی تماشا نہیں، کوئی ملکیت نہیں، کوئی بے جان شے نہیں؛ وہ ایک مکمل انسان ہے، اور اس کی زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی بادشاہ، کسی حکمران یا کسی طاقتور انسان کی۔

About