@waseempardesi985: 20 سال سے سعودی عرب میں محنت کرنے والا بنگلہ دیشی شہری، جوانی پردیس میں گزار دی، اب بال سفید ہونے لگے سعودی عرب: روزگار کی تلاش میں پردیس جانے والے لاکھوں افراد کی زندگی ایسی کہانیوں سے بھری ہوئی ہے، جہاں خاندان کا مستقبل سنوارنے کی کوشش میں انسان اپنی زندگی کے قیمتی سال گھر والوں سے دور گزار دیتا ہے۔ ایسی ہی ایک کہانی بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے محنت کش کی ہے، جو تقریباً 20 سال قبل سعودی عرب آئے تھے۔ ان کا ارادہ صرف دو سے تین سال محنت کرکے پیسے جمع کرنے اور وطن واپس جانے کا تھا، لیکن وقت گزرتا گیا، ذمہ داریاں بڑھتی گئیں اور واپسی کا خواب ادھورا رہ گیا۔ تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے بعد اب ان کی عمر 50 سال کے قریب پہنچ رہی ہے اور بال سفید ہونے لگے ہیں، لیکن وہ آج بھی سعودی عرب میں پینٹ اور رنگ و روغن کا کام کرکے روزی کما رہے ہیں۔ ان کی کہانی پردیس میں محنت کرنے والے ان لاکھوں افراد کی مشکلات کی عکاسی کرتی ہے، جو بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات اور خاندان کی بہتر زندگی کے لیے اپنے پیاروں سے دور رہتے ہیں۔ ان برسوں میں نہ جانے کتنی عیدیں اہل خانہ کے بغیر گزریں اور کتنی خوشیوں میں شریک نہ ہوسکے۔ بہت سے لوگ چند سال کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں، لیکن معاشی مجبوریوں اور بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے باعث کئی دہائیاں پردیس میں گزار دیتے ہیں۔ ایسے میں وطن واپسی کا فیصلہ آسان نہیں رہتا، کیونکہ کسی کے ذمے بچوں کی تعلیم ہوتی ہے، کسی کو قرض ادا کرنا ہوتا ہے اور کسی کو خاندان کے اخراجات پورے کرنے ہوتے ہیں۔ یہ کہانی یاد دلاتی ہے کہ پیسہ زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ضروری ہے، لیکن جوانی، اپنوں کے ساتھ گزارے گئے لمحات اور زندگی کی خوشیاں وقت گزرنے کے بعد واپس نہیں آتیں۔ سعودی عرب میں 20 سال سے محنت کرنے والے اس بنگلہ دیشی شہری کی زندگی ہر اس پردیسی کے لیے ایک پیغام ہے جو اپنے پیاروں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی زندگی کے قیمتی سال قربان کر رہا ہے۔ #pardesi #saudiarabia #pardesilife #unfrezzmyaccount