@sonam.shahzadi66: اس بات کا مطلب یہ ہے کہ کبھی کبھی ہم کسی انسان کی حقیقت جان لینے کے بعد بھی اُس سے نفرت نہیں کر پاتے، کیونکہ ہماری محبت اُس کی خامیوں سے کہیں زیادہ گہری ہوتی ہے۔ ہم اُس کی غلطیاں، بے وفائیاں اور بدلتا ہوا رویہ دیکھ لیتے ہیں، مگر دل پھر بھی بددعا دینے کے بجائے خاموش ہو جاتا ہے۔ کسی کا اصل چہرہ سامنے آ جانا تکلیف ضرور دیتا ہے، مگر ہر حقیقت نفرت پیدا نہیں کرتی۔ کچھ لوگ ہمیں اتنا دکھ دے کر بھی ہماری انسانیت نہیں چھین پاتے۔ ہم اُن سے دور ہو جاتے ہیں، مگر دل میں زہر نہیں رکھتے۔ اور شاید یہی اصل نقصان اُن کا ہوتا ہے—انہوں نے ایک ایسے شخص کو کھو دیا جو اُن کی حقیقت جاننے کے بعد بھی اُن کے لیے برا نہیں چاہتا تھا، جو خلوص سے ساتھ تھا، جو اُن کی کمیوں کے باوجود اُنہیں قبول کرتا تھا۔ کبھی کسی کو کھونا سزا نہیں ہوتا، سزا تو یہ ہوتی ہے کہ کوئی مخلص انسان تمہاری زندگی سے چلا جائے، اور تمہیں اُس کی قدر اُس کے جانے کے بعد سمجھ آئے۔