@wrxtvy: پختونوں کی دلیر بیٹی فاطمہ کو سلام! ✊❤️ میری بہادر بیٹی فاطمہ، جس کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے، بھرے ہال میں کھڑے ہو کر حکومت سے ایک ایسا سوال کر رہی تھی جس نے پورے ہال کو تالیوں سے گونجنے پر مجبور کر دیا۔ فاطمہ کا سوال تھا: گزشتہ تیرہ سالوں میں آپ کے صوبے کے ایم این اے اور ایم پی ایز کے خزانوں کے علاوہ ترقی کہاں ہوئی؟ عوام کو کیا ملا؟ تعلیم، صحت، روزگار اور عوامی وسائل کے لیے کیا کیا گیا؟ یہ صرف ایک سوال نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کے ہر باشعور نوجوان، ہر بہن، ہر بھائی اور ہر پختون مشر کے دل کی آواز ہے۔ میری پختون قوم کے نوجوانوں! فاطمہ جیسی بہادر بیٹیاں آپ کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ اپنی تعلیم، اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے صوبے کے وسائل کے لیے کھڑے ہوں۔ سیاست کو شخصیت پرستی کے بجائے عوامی خدمت، کارکردگی اور احتساب کے پیمانے پر پرکھیں۔ اگر کسی کو یہ حقیقت پسند نہیں تو نہ مانے، لیکن عوام کے سوالات کو دبایا نہیں جا سکتا۔ ہمیں اپنے صوبے کی ترقی کا حساب مانگنا ہوگا، اپنے وسائل کے استعمال کا حساب لینا ہوگا اور گزشتہ تیرہ سالوں میں جن لوگوں نے بھی کرپشن کی، عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالا یا اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا، انہیں قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔ عمران نیازی ہو یا کوئی دوسرا سیاسی رہنما، ایم این اے ہو یا ایم پی اے، کوئی بھی احتساب سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ ہر منصوبے، ہر سرکاری خرچ اور عوام کے ایک ایک پیسے کا حساب شفاف طریقے سے لیا جائے۔ پختون قوم کو نفرت، انتشار اور شخصیت پرستی سے نکال کر تعلیم، شعور، امن، ترقی اور اپنے حقوق کی جدوجہد کی طرف لے جانا ہوگا۔ آئیے! اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے متحد ہوں، سوال اٹھائیں، ثبوت مانگیں اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر صاحبِ اختیار کا احتساب یقینی بنائیں۔ فاطمہ! تم نے سوال اٹھا کر ثابت کیا کہ باشعور بیٹیاں قوم کا فخر ہوتی ہیں۔ تمہاری آواز ہر اس نوجوان کی آواز ہے جو اپنے صوبے کو تعلیم یافتہ، پُرامن، خوشحال اور کرپشن سے پاک دیکھنا چاہتا ہے۔ پختون قوم زندہ باد! شعور، تعلیم اور عوامی احتساب پائندہ باد! ✊📚