@mewchiiiiiii: Almost done with this one~ I was too lazy to make new lineart so I just cleaned my sketch,, but I've finally laid down the flat colors and stated on shading mainly the hair~ i hope you cuties think it looks good so far ໒꒰ྀི๑ᵔ ᵕ ᵔ๑꒱ྀིა!!! Btw follow my twitter? (It's in the comments!!) #fyp #ミューチー #fypシ #newcreator #wip

ミューチー ♥︎꒰ঌ(⃔ ⌯' '⌯)⃕໒꒱
ミューチー ♥︎꒰ঌ(⃔ ⌯' '⌯)⃕໒꒱
Open In TikTok:
Region: US
Sunday 18 October 2026 01:06:34 GMT
298
5
1
1

Music

Download

Comments

mewchiiiiiii
ミューチー ♥︎꒰ঌ(⃔ ⌯' '⌯)⃕໒꒱ :
Follow my twitter :)?: @mewchiiiiiii <---- the username!!
2026-10-18 01:07:01
0
To see more videos from user @mewchiiiiiii, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پشتون قوم کی چار ہزار سالہ مکمل تاریخ پشتون کو تاریخ میں پکھتا پکتیان پختون پٹھان افغان روہیلہ کے نام سے لکھا گیا ہے رگ وید میں سب سے پہلا ذکر پکھتا قوم کے نام سے ملتا ہے جو ساڑھے تین ہزار سال پرانی کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ پکھتا لوگ دریائے کابل کے کنارے رہتے تھے یونان کا مورخ ہیروڈوٹس لکھتا ہے کہ پکتیان لوگ گندھارا میں رہتے ہیں اور بہت بہادر ہیں افغان نام سنسکرت میں اشواکن سے بنا ہے جس کا مطلب ہے گھوڑے پالنے والے پشتون نسل کہاں سے آئی اس پر تین نظریے ہیں پہلا نظریہ بنی اسرائیل والا ہے پشتونوں کی اپنی کتابوں مخزن افغانی اور تاریخ خان جہانی میں لکھا ہے کہ پشتون حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں حضرت یعقوب کے بارہ بیٹے تھے ان میں سے ایک افغانہ تھا حضرت سلیمان نے اسے ڈھونڈا اس کی اولاد بنی اسرائیل سے تھی بعد میں بخت نصر نے حملہ کیا تو یہ لوگ افغانستان آ گئے ان میں سے ایک بزرگ قیس تھا جو حضرت خالد بن ولید کے دور میں مدینہ گیا مسلمان ہوا نام عبدالرشید رکھا حضور نے اسے پٹھان کہا کیونکہ وہ بہت مضبوط تھا قیس کے تین بیٹے تھے سرابن سے درانی یوسفزئی شنواری بنے بطن سے غلزئی لودھی سوری بنے غرغشت سے خٹک بنگش آفریدی بنے دوسرا نظریہ آریائی نظریہ ہے جدید مورخین کہتے ہیں پشتون آریائی نسل سے ہیں آریائی لوگ چار ہزار سال پہلے وسطی ایشیا سے آ کر یہاں آباد ہوئے پشتو زبان بھی آریائی زبان ہے تیسرا نظریہ کہتا ہے سفید ہن جو پندرہ سو سال پہلے آئے تھے ان کی اولاد پشتون ہیں گندھارا دور تین ہزار سال پہلے یہ علاقہ گندھارا کہلاتا تھا ٹیکسلا دارالحکومت تھا پشتون یہیں آباد تھے موریہ اور اشوک کا دور تئیس سو سال پہلے اشوک کے کتبوں میں اس علاقے کا ذکر ہے یونانی سیتھی کشان دور دو ہزار سال پہلے سکندر اعظم یہاں آیا تو یہاں کے لوگوں نے سخت مقابلہ کیا بعد میں کنشک بادشاہ نے حکومت کی غزنوی دور ایک ہزار سال پہلے محمود غزنوی خود اسی علاقے سے تھا اس کی فوج میں سب سے زیادہ پشتون تھے غوری دور آٹھ سو سال پہلے محمد غوری پشتون تھا اس نے دہلی فتح کیا خلجی لودھی اور سوری سلطنت چھ سو سے پانچ سو سال پہلے یہ پشتونوں کا سنہری دور تھا دہلی پر تین سو سال پشتونوں نے حکومت کی بہلول لودھی نے لودھی سلطنت بنائی سکندر لودھی نے آگرہ شہر بسایا شیر شاہ سوری سب سے بڑا پشتون بادشاہ تھا اس نے جی ٹی روڈ بنائی جو کابل سے کلکتہ تک جاتی ہے روپیہ کرنسی سب سے پہلے اس نے بنائی ڈاک کا نظام بنایا روہتاس قلعہ بنایا مغلوں کے خلاف جنگیں چار سو سال پہلے خوشحال خان خٹک نے اورنگزیب کے خلاف جنگ کی دریا خان آفریدی نے خیبر میں مغلوں کو شکست دی درانی سلطنت سترہ سو سینتالیس میں احمد شاہ ابدالی نے افغانستان کو ایک ملک بنایا اسے بابائے افغانستان کہتے ہیں سکھوں اور انگریزوں کے خلاف جنگیں دو سو سال پہلے تین افغان انگریز جنگیں ہوئیں پہلی جنگ میں انگریزوں کی پوری فوج تباہ ہوئی دوسری میں میوند میں ایوب خان نے شکست دی تیسری میں امان اللہ خان نے آزادی لی ڈیورنڈ لائن اٹھارہ سو ترانوے میں انگریز افسر ڈیورنڈ نے کھینچی جو آج پاکستان اور افغانستان کا بارڈر ہے باچا خان انیس سو تیس میں انہوں نے انگریزوں کے خلاف تحریک چلائی قیام پاکستان انیس سو سینتالیس میں خیبر پختونخواہ نے پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کیا پشتون قبائل آفریدی باڑہ خیبر درہ آدم خیل شنواری لنڈی کوتل باڑہ یوسفزئی سوات مردان خٹک نوشہرہ کرک محسود وزیر مہمند بنگش اورکزئی درانی غلزئی افغانستان میں پشتون ولی مہمان نوازی پناہ دینا جرگہ بدل ننگ تورہ حیا وفا حجرہ اتن رقص کھانوں میں چپلی کباب نمکین گوشت کابلی پلاؤ شینواری کڑاہی پشتون کی پہچان زبان کا سچا مہمان نواز وعدے کا پکا #پشتون_تاریخ #پختون_ولی #آفریدی #پٹھان_کلچر #خیبر_پختونخواہ
پشتون قوم کی چار ہزار سالہ مکمل تاریخ پشتون کو تاریخ میں پکھتا پکتیان پختون پٹھان افغان روہیلہ کے نام سے لکھا گیا ہے رگ وید میں سب سے پہلا ذکر پکھتا قوم کے نام سے ملتا ہے جو ساڑھے تین ہزار سال پرانی کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ پکھتا لوگ دریائے کابل کے کنارے رہتے تھے یونان کا مورخ ہیروڈوٹس لکھتا ہے کہ پکتیان لوگ گندھارا میں رہتے ہیں اور بہت بہادر ہیں افغان نام سنسکرت میں اشواکن سے بنا ہے جس کا مطلب ہے گھوڑے پالنے والے پشتون نسل کہاں سے آئی اس پر تین نظریے ہیں پہلا نظریہ بنی اسرائیل والا ہے پشتونوں کی اپنی کتابوں مخزن افغانی اور تاریخ خان جہانی میں لکھا ہے کہ پشتون حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں حضرت یعقوب کے بارہ بیٹے تھے ان میں سے ایک افغانہ تھا حضرت سلیمان نے اسے ڈھونڈا اس کی اولاد بنی اسرائیل سے تھی بعد میں بخت نصر نے حملہ کیا تو یہ لوگ افغانستان آ گئے ان میں سے ایک بزرگ قیس تھا جو حضرت خالد بن ولید کے دور میں مدینہ گیا مسلمان ہوا نام عبدالرشید رکھا حضور نے اسے پٹھان کہا کیونکہ وہ بہت مضبوط تھا قیس کے تین بیٹے تھے سرابن سے درانی یوسفزئی شنواری بنے بطن سے غلزئی لودھی سوری بنے غرغشت سے خٹک بنگش آفریدی بنے دوسرا نظریہ آریائی نظریہ ہے جدید مورخین کہتے ہیں پشتون آریائی نسل سے ہیں آریائی لوگ چار ہزار سال پہلے وسطی ایشیا سے آ کر یہاں آباد ہوئے پشتو زبان بھی آریائی زبان ہے تیسرا نظریہ کہتا ہے سفید ہن جو پندرہ سو سال پہلے آئے تھے ان کی اولاد پشتون ہیں گندھارا دور تین ہزار سال پہلے یہ علاقہ گندھارا کہلاتا تھا ٹیکسلا دارالحکومت تھا پشتون یہیں آباد تھے موریہ اور اشوک کا دور تئیس سو سال پہلے اشوک کے کتبوں میں اس علاقے کا ذکر ہے یونانی سیتھی کشان دور دو ہزار سال پہلے سکندر اعظم یہاں آیا تو یہاں کے لوگوں نے سخت مقابلہ کیا بعد میں کنشک بادشاہ نے حکومت کی غزنوی دور ایک ہزار سال پہلے محمود غزنوی خود اسی علاقے سے تھا اس کی فوج میں سب سے زیادہ پشتون تھے غوری دور آٹھ سو سال پہلے محمد غوری پشتون تھا اس نے دہلی فتح کیا خلجی لودھی اور سوری سلطنت چھ سو سے پانچ سو سال پہلے یہ پشتونوں کا سنہری دور تھا دہلی پر تین سو سال پشتونوں نے حکومت کی بہلول لودھی نے لودھی سلطنت بنائی سکندر لودھی نے آگرہ شہر بسایا شیر شاہ سوری سب سے بڑا پشتون بادشاہ تھا اس نے جی ٹی روڈ بنائی جو کابل سے کلکتہ تک جاتی ہے روپیہ کرنسی سب سے پہلے اس نے بنائی ڈاک کا نظام بنایا روہتاس قلعہ بنایا مغلوں کے خلاف جنگیں چار سو سال پہلے خوشحال خان خٹک نے اورنگزیب کے خلاف جنگ کی دریا خان آفریدی نے خیبر میں مغلوں کو شکست دی درانی سلطنت سترہ سو سینتالیس میں احمد شاہ ابدالی نے افغانستان کو ایک ملک بنایا اسے بابائے افغانستان کہتے ہیں سکھوں اور انگریزوں کے خلاف جنگیں دو سو سال پہلے تین افغان انگریز جنگیں ہوئیں پہلی جنگ میں انگریزوں کی پوری فوج تباہ ہوئی دوسری میں میوند میں ایوب خان نے شکست دی تیسری میں امان اللہ خان نے آزادی لی ڈیورنڈ لائن اٹھارہ سو ترانوے میں انگریز افسر ڈیورنڈ نے کھینچی جو آج پاکستان اور افغانستان کا بارڈر ہے باچا خان انیس سو تیس میں انہوں نے انگریزوں کے خلاف تحریک چلائی قیام پاکستان انیس سو سینتالیس میں خیبر پختونخواہ نے پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کیا پشتون قبائل آفریدی باڑہ خیبر درہ آدم خیل شنواری لنڈی کوتل باڑہ یوسفزئی سوات مردان خٹک نوشہرہ کرک محسود وزیر مہمند بنگش اورکزئی درانی غلزئی افغانستان میں پشتون ولی مہمان نوازی پناہ دینا جرگہ بدل ننگ تورہ حیا وفا حجرہ اتن رقص کھانوں میں چپلی کباب نمکین گوشت کابلی پلاؤ شینواری کڑاہی پشتون کی پہچان زبان کا سچا مہمان نواز وعدے کا پکا #پشتون_تاریخ #پختون_ولی #آفریدی #پٹھان_کلچر #خیبر_پختونخواہ

About