@awaisaslampk: قبر کی طویل ذندگی آپ کے ساتھ کیا کچھ ہو گا! #قبر #islamicreminder #foryou #islam مٹی ڈالنے کی آوازیں اب تھم چکی تھیں۔ قدموں کی چاپ آہستہ آہستہ دور جا رہی تھی۔ عبداللہ اب منوں مٹی تلے اپنی تاریک قبر میں بالکل اکیلا تھا۔ اچانک اسے محسوس ہوا کہ جیسے وہ نیند سے جاگ گیا ہے اور اس کی روح جسم میں لوٹا دی گئی ہے۔ یہ ایک نئی، ان دیکھی دنیا تھی—عالمِ برزخ۔ حدیثِ مبارکہ (مسند احمد) کے مطابق، جوں ہی دنیا کا شور ختم ہوا، دو ہیبت ناک فرشتے، منکر اور نکیر، اس کے پاس آئے۔ انہوں نے عبداللہ کو بٹھایا۔ عبداللہ، جس نے دنیا میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی تھی، کو اللہ کی رحمت سے ایک عجیب سکون ملا۔ فرشتوں نے گرجدار آواز میں پوچھا: "مَنْ رَبُّكَ؟" (تیرا رب کون ہے؟) عبداللہ نے بے ساختہ اور اطمینان سے جواب دیا: "میرا رب اللہ ہے۔" انہوں نے پھر پوچھا: "مَا دِينُكَ؟" (تیرا دین کیا ہے؟) جواب ملا: "میرا دین اسلام ہے۔" پھر نبی کریم ﷺ کی مبارک ہستی کے بارے میں پوچھا گیا: "اس شخص کے بارے میں تو کیا کہتا تھا جو تم میں بھیجے گئے تھے؟" عبداللہ کے دل میں محبت چھلک اٹھی: "وہ اللہ کے سچے رسول، حضرت محمد ﷺ ہیں۔" قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اسی منظر کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت (قبر) میں پکی بات پر ثابت قدم رکھتا ہے۔" (سورہ ابراہیم: 27) عبداللہ کے درست جوابات سنتے ہی آسمان سے ایک منادی نے آواز دی: "میرے بندے نے سچ کہا، اس کے لیے جنت کا بستر بچھا دو، اسے جنت کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو۔" قبر، جو بظاہر ایک تنگ گڑھا تھی، اچانک حدِ نگاہ تک وسیع ہو گئی اور اس میں جنت کی ٹھنڈی اور خوشبودار ہوائیں آنے لگیں۔ کچھ دیر بعد، ایک نہایت خوبصورت اور خوشبودار شخص مسکراتا ہوا عبداللہ کے پاس آیا۔ عبداللہ نے حیرت سے پوچھا: "تم کون ہو؟ تمہارا چہرہ ہی خیر لانے والا ہے۔" اس نے مسکرا کر جواب دیا: "میں تمہارا نیک عمل ہوں (تمہاری نمازیں، روزے، صدقات اور تلاوت)۔ دنیا میں تم اللہ کی نافرمانی سے ڈرتے تھے، آج قیامت تک میں تمہارا ساتھی ہوں، تم تنہا نہیں ہو۔" یہ سن کر عبداللہ خوشی سے پکار اٹھا: "اے رب! قیامت جلدی قائم کر دے۔" اس کے برعکس، عبداللہ کو یہ بھی معلوم تھا کہ اگر کوئی شخص دنیا میں اللہ کو بھول کر گناہوں کی زندگی گزارتا ہے، تو اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ فرشتے جب اس سے یہی تین سوال کرتے ہیں تو وہ گھبرا کر کہتا ہے: "ہائے ہائے! مجھے کچھ نہیں معلوم۔" پھر اس کے لیے جہنم کا بستر بچھا دیا جاتا ہے، قبر اسے اس زور سے دباتی ہے کہ دائیں پسلیاں بائیں جانب دھنس جاتی ہیں، اور ایک بدشکل، بدبودار شخص (اس کے گناہ) قیامت تک کے لیے اس پر مسلط کر دیا جاتا ہے۔ یہ قبر کی وہ حقیقی تصویر ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کے سامنے پیش کی ہے۔ حدیث کے مطابق: "قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، جس نے اس سے نجات پا لی، اس کے بعد کی منزلیں اس کے لیے اور بھی آسان ہیں۔" (جامع ترمذی)