@zainabo314: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں، سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہنا* > *حوالہ: صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2162* اصل عربی متن: > *عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ: رَدُّ السَّلَامِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ* ایک دوسری روایت میں چھٹا حق بھی ہے: > *حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ... وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ* - *صحیح بخاری: 1240 کتاب الجنائز، صحیح مسلم: 2162 کتاب السلام باب من حق المسلم للمسلم رد السلام (ترقیم فواد عبدالباقی: 2162، ترقیم عالمہ: 5650-5651)* - *راوی:* حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ - *درجہ:* *متفق علیہ - صحیح* a5ff *2. تفصیلی تشریح - تصویر میں جو 5 منظر ہیں وہی 5 حقوق ہیں:* تصویر میں نیچے 5 چھوٹی تصویریں بنی ہیں - سلام، بیمار کی عیادت، جنازہ، دعوت، چھینک - بالکل اس حدیث کے مطابق۔ *حَقُّ الْمُسْلِمِ کا مطلب کیا؟* امام شوکانی، ابن بطال فرماتے ہیں: *الْمُرَادُ بِالْحَقِّ هُنَا الْحُرْمَةُ وَالصُّحْبَةُ* - یعنی یہ حرمت اور بھائی چارے کا حق ہے۔ کوئی چھوڑے تو گناہ گار، کوئی کرے تو اجر۔ بعض واجب عینی (ہر ایک پر)، بعض واجب کفائی (کچھ کر لیں تو باقی سے ساقط)، بعض مستحب مؤکد۔ *5 حقوق کی ترتیب:* *1. رَدُّ السَّلَامِ - سلام کا جواب دینا:* سلام کرنا سنت، جواب دینا واجب۔ اگر ایک آدمی کو سلام کیا تو اس پر واجب عینی، جماعت کو کیا تو واجب کفائی - ایک نے دے دیا تو سب کی طرف سے ہو گیا۔ جواب پورا دو: *وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ*۔ یہ مسلم کی پہچان ہے۔ *2. عِيَادَةُ الْمَرِيضِ - بیمار کی عیادت:* نبی ﷺ نے فرمایا: بیمار کی عیادت کرنے والا جنت کے باغ میں ہوتا ہے جب تک واپس نہ آئے (مسلم: 2568)۔ 70 ہزار فرشتے دعا کرتے ہیں۔ شرط: تکلیف نہ دو، لمبا نہ بیٹھو، اگر متعدی مرض ہے تو فون پر پوچھ لو۔ مقصد دل جوئی، دعا: *لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ* *3. اتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ - جنازے کے ساتھ جانا:* دو حق: نماز جنازہ پڑھنا (فرض کفایہ)، اور دفن تک ساتھ جانا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: جو جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط (احد پہاڑ برابر)، جو دفن تک رہے اسے دو قیراط (بخاری)۔ یہ آخری حق ہے - مرنے کے بعد بھی بھائی کو تنہا نہ چھوڑو۔ *4. إِجَابَةُ الدَّعْوَةِ - دعوت قبول کرنا:* خاص کر ولیمہ کی دعوت۔ اگر جائز دعوت ہے، کوئی حرام کام نہیں، تو قبول کرنا سنت مؤکدہ / واجب کے قریب۔ اس سے محبت بڑھتی ہے۔ اگر کوئی عذر ہو تو معذرت کر لو، دل میں حقارت نہ ہو۔ *5. تَشْمِيتُ الْعَاطِسِ - چھینکنے والے کو یَرْحَمُكَ اللَّهُ کہنا:* جب وہ *الْحَمْدُ لِلَّهِ* کہے تو تم *يَرْحَمُكَ اللَّهُ* کہو، پھر وہ کہے *يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ*۔ یہ اللہ کی نعمت کا شکر ہے - چھینک سے جسم کی گندگی نکلتی ہے۔ *اور چھٹا حق جو دوسری روایت میں ہے:* *وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ* - جب تم سے مشورہ / نصیحت مانگے تو خیر خواہی سے سچی نصیحت دو، دھوکہ نہ دو۔ *آج کے لیے سبق:* اسلام نے معاشرہ جوڑنے کے لیے یہ 5 کیلیں گاڑی ہیں۔ - سلام سے اجنبیت ختم، - عیادت سے ہمدردی، - جنازہ سے آخرت یاد، - دعوت سے محبت، - تشمیت سے اللہ یاد۔ جو قوم یہ 5 حق چھوڑ دے، وہ ٹوٹ جاتی ہے۔ آج ہم سلام میں کنجوسی، بیمار کو اکیلا، جنازہ میں دیر، دعوت میں نخرے، چھینک پر مذاق - اسی لیے دل دور ہو گئے۔ ان حقوق کو زندہ کرو، امت زندہ ہو جائے گی۔