میرے پیارے پشتون بھائیو اور غیرت مند قوم!
آج میں آپ کے سامنے ایک ایسا سوال لے کر آیا ہوں جو میرے اور آپ کے دل کی آواز ہے۔ یہ سوال ہماری بقا، ہمارے مستقبل اور ہماری غیرت کا ہے۔ آخر ہم کب تک ذہنی غلامی کی ان زنجیروں میں جکڑے رہیں گے؟ ہم خود کو اس فکری قید سے نجات کیوں نہیں دلاتے؟
یہ یاد رکھیے، سب سے بڑی جنگ وہ نہیں جو باہر لڑی جاتی ہے، بلکہ سب سے بڑی جنگ وہ ہے جو انسان کے اپنے اندر، اس کے اپنے وجود کے خلاف ہوتی ہے۔ ہم اپنے اندر کی یہ جنگ کیوں نہیں جیت پا رہے؟
آخر کیا وجہ ہے کہ ہم سب ایک ہی جھنڈے کے نیچے، ایک قوم بن کر متحد نہیں ہو سکتے؟ کیوں ہم نے خود کو مختلف تنظیموں، پارٹیوں اور مصلحتوں کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے؟ ہم نے اپنی آواز، اپنا دل اور اپنا دماغ دوسروں کے حوالے کیوں کر دیا ہے؟
یہ لوگ جو خود کو ہمارے "لیڈران" کہتے ہیں، ہم نے کیوں اپنے ذہنوں کا ریموٹ کنٹرول ان کے ہاتھوں میں تھما دیا ہے؟ وہ جیسا چاہتے ہیں ہمیں چلاتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں لڑا دیتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جاگ جائیں! ہمیں اپنے فیصلوں کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا، اپنے ضمیر کی آواز سننی ہوگی اور ایک ہو کر جینا ہوگا۔ جب تک ہم ذہنی طور پر آزاد نہیں ہوں گے، ہم کبھی ایک متحد اور مضبوط قوم نہیں بن سکتے۔
آئیے، آج سے اپنے دماغوں کو آزاد کریں اور صرف حق اور اتحاد کا ساتھ دیں!
2026-10-18 17:50:47
11
Nov :
Jui aw ANP Wala be sok poha kri 🤔
2026-10-18 16:53:25
16
Khalid khan :
right pukhtuanu pa itfaq shay ow da khafal Haq tafos wake