@pojokbogor: Maaf ya, rakyat sipil. Pejabat ada agenda makan malam, kalian diminta bersabar di tengah kemacetan. Suasana di kawasan Tugu Kujang, Kota Bogor, Jumat (16/10/2026), diwarnai klakson yang saling bersahutan dan teriakan protes dari pengguna jalan saat kendaraan pejabat melintas di tengah pengaturan lalu lintas. Presiden Prabowo Subianto diketahui menggelar gala dinner bersama para menteri Kabinet Merah Putih di Istana Bogor untuk menyambut kunjungan Wakil Perdana Menteri Pertama Rusia, Denis Manturov. Di balik agenda kenegaraan tersebut, muncul keluhan dari masyarakat yang terdampak penutupan jalan dan kemacetan. Bagi pengemudi ojek online, kurir, hingga pekerja yang mengejar waktu, setiap menit di jalan bisa berarti kehilangan penghasilan. Seperti ungkapan menohok dari akun TikTok @billalaita yang viral saat meluapkan kekesalannya: "Kalau pejabat kerjanya bener, rakyat juga nggak bakal se-sensi ini!" source video: billalaita//tiktok editor: megaa #pojokbogor #menterikabinet #tugukujang #istanabogor #beritabogor

Pojok Bogor Official
Pojok Bogor Official
Open In TikTok:
Region: ID
Sunday 18 October 2026 07:32:57 GMT
161857
9209
144
494

Music

Download

Comments

mblowe1
Johan_13 :
Birthday party 💥
2026-10-18 11:06:15
0
paxaygaming
yayaya :
pesta?? beneran pesta?
2026-10-18 08:18:29
446
adefirmansyahh18
Ade Firmansyah😎 :
emang kerja , serius nanya ?
2026-10-18 08:15:30
202
arsyaprakarsa
arsya :
lebay ih
2026-10-18 07:50:04
8
mmfarhan00
mhmmdfarhan :
2PRIODE PAK🩵
2026-10-19 09:13:34
4
mamat230603
raa,aaa23 :
gunanya bayar pajak apa yah klo jalan masih di tutup gtu?
2026-10-19 10:25:45
5
yozan80
yozan :
PEMERINTAH GOBLOK!!
2026-10-18 18:59:52
11
fikrihendrajat_
G2 (ふいくり) :
mau aja di palang begitu, gua yg kaga pernah mau dipalang begitu kalo dijalan para pejabat lewat, kecuali damkar/ambulan baru kasih lewat dah
2026-10-18 09:31:49
41
ariansyahputrasemendo
Ariansyah :
yang punya jalan (rakyat), ditutup sama mereka yg gak punya jalan (penjahat), stop pajak kuy
2026-10-18 08:23:34
43
dading_787
xnjendull :
di negara mana emang ini? 🤔
2026-10-18 13:41:42
6
irginsom
irginsomnia📹 :
dahar mah dahar we
2026-10-19 01:26:38
0
archive_070312
powerranggers__ :
kapan itu
2026-10-18 11:39:44
1
abu_aja0
abu"':;*"'💀👌 :
udh si ga ush bayar PAJAK udh pengen tau mereka2 yg di atas bisa apa coba klo ga ada uang rakyat yg di ambil pajak nya? gabakal bisa hidup mereka jga klo ga ngandelin dari pajak mah. simpel kan
2026-10-19 03:22:09
4
ihftulla
Ayampossible :
Lagi ngadain ultah kan ini
2026-10-18 10:52:05
0
yarbukanpakih
nme is yar :
"keadilan sosial bagi seluruh rakyat Indonesia"
2026-10-18 11:35:37
3
mhmmdairell0
😶‍🌫️ :
jangan di bogor plis
2026-10-18 11:34:42
4
dhegolz_unitedd
Dhegolz United :
buat apa bayar pajak kalo gak ada fungsinya 🗿
2026-10-18 15:25:46
0
afriaginurimam
Afriagi Nur Imam :
njir dulu waktu jaman wiwi diem istana bogor adem anyem ini jaman wowo kenapa jadi pada gedek ya[Tawa oke][Tawa oke][Tawa oke][Tawa oke]
2026-10-19 05:35:30
1
miwmiwmi_
miawuggg :
kadang gua mau ngelawan cuma kalo sendirian udh pasti ditangkep sih wkwk
2026-10-18 12:53:05
1
executetheme
executetheme :
Dl tuh cmn nunggu plg lama 5 menit, skrg stgh jam bs kali Kacau bgt
2026-10-18 10:13:27
1
n0_ru1
Nopal b :
muak kan?
2026-10-19 11:40:16
0
bbaksobaka
- :
ultah doang gituh???
2026-10-19 13:01:00
0
londoireng111
wakil RAKYAT :
woy min, narasi Lo manas2in orang aja 😁
2026-10-19 22:58:38
0
6a99y0
6a99y0 :
Aku kena macet sialan! aku juga mau pulang, cape!! PEJABAT JUGA MANUSIA BUKAN MAHKLUK SPESIAL!!!
2026-10-19 13:21:51
0
To see more videos from user @pojokbogor, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، دل میں ایک عجیب سی کسک جاگ اٹھتی ہے، اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ آخر ایک مسلمان عورت کے سر پر سجے حجاب سے کسی کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے؟ وہ حجاب جو کسی کے لیے محض ایک کپڑا ہے، مگر کسی مسلمان عورت کے لیے حیا، ایمان، شناخت اور اپنے رب سے محبت کی علامت ہے۔ آذربائیجان کی سرزمین پر حجاب کے حوالے سے عائد پابندیوں اور تعلیمی اداروں میں سر ڈھانپنے پر لگائی جانے والی قدغنوں کا ذکر دل کو افسردہ کر دیتا ہے۔ ایک مسلمان بیٹی جب اپنے سر پر حجاب سجانے کی خواہش لے کر گھر سے نکلتی ہے تو اس کے دل میں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ زندگی گزارے گی، لیکن جب اسی حجاب کو اس کی تعلیم، اس کے مستقبل اور اس کی آزادی کے راستے میں رکاوٹ بنا دیا جائے تو اس کے خوابوں پر جیسے خاموشی کی چادر تن جاتی ہے۔ ذرا تصور کیجیے! ایک معصوم لڑکی، جس کی آنکھوں میں علم حاصل کرنے کے خواب ہوں، جو کتابوں سے محبت کرتی ہو، جو اپنے والدین کا نام روشن کرنا چاہتی ہو، وہ اسکول کے دروازے پر کھڑی ہو۔ اس کے سر پر حجاب ہو، دل میں علم کی طلب ہو، مگر اسے یہ احساس دلایا جائے کہ اس کی مذہبی پہچان اس کے تعلیمی سفر میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس لمحے اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ اس کی آنکھوں میں کتنے سوال جنم لیتے ہوں گے؟ کیا اس کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنا چاہتی ہے؟ افسوس! جب ایک بیٹی کے علم اور اس کے مذہبی اظہار کے درمیان انتخاب کھڑا کر دیا جائے تو یہ صرف ایک طالبہ کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ انسان کی آزادی، وقار اور بنیادی حقوق کا سوال بن جاتا ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت دی، اسے شناخت دی، اسے اپنے کردار اور تقویٰ سے بلندی حاصل کرنے کا درس دیا۔ حجاب بہت سی مسلمان خواتین کے لیے اسی دینی وابستگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ کسی کے لیے یہ لباس کا ایک حصہ ہوگا، لیکن ایک باحجاب عورت کے لیے یہ اس کے ایمان اور قلبی اطمینان سے جڑا ہوا معاملہ ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے حجاب اتارنا محض کپڑا اتارنا نہیں، بلکہ اپنے ضمیر کے خلاف ایک فیصلہ کرنے جیسا محسوس ہو سکتا ہے۔ اور سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب ایک مسلمان معاشرے میں رہنے والی مسلمان بیٹی کو اپنی مذہبی شناخت کے اظہار کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ آذربائیجان کی تاریخ، اس کی ثقافت اور اس کے معاشرے میں اسلام کی موجودگی کے باوجود، جب حجاب کے معاملے پر پابندیوں کی خبریں سامنے آتی ہیں تو بہت سے مسلمانوں کے دلوں میں درد اور بے بسی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی شناخت سے دور ہو جائے؟ کیا جدید تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ ایک لڑکی اپنے عقیدے کی کسی علامت کو چھوڑ دے؟ کیا ایک تعلیمی ادارہ اتنا وسیع القلب نہیں ہو سکتا کہ وہاں علم حاصل کرنے والی طالبہ کی قابلیت کو اس کے لباس سے زیادہ اہمیت دی جائے؟ تعلیم کا مقصد ذہنوں کو روشن کرنا ہے، نہ کہ کسی کے ضمیر کو آزمائش میں ڈالنا۔ ایک لڑکی حجاب پہن کر بھی ڈاکٹر بن سکتی ہے، استاد بن سکتی ہے، سائنس دان بن سکتی ہے اور اپنے ملک کی خدمت کر سکتی ہے۔ اس کی ذہانت، محنت اور صلاحیت کا فیصلہ اس کے علم سے ہونا چاہیے، نہ کہ صرف اس کے سر پر موجود کپڑے سے۔ یہ تحریر کسی قوم سے نفرت کے لیے نہیں، بلکہ ان دلوں کی آواز ہے جو مذہبی آزادی اور انسانی وقار پر یقین رکھتے ہیں۔ اختلاف ہو سکتا ہے، قانون پر بحث ہو سکتی ہے، ریاست اور مذہب کے تعلق پر مختلف آرا ہو سکتی ہیں، لیکن کسی بھی پالیسی کا جائزہ لیتے وقت ان لڑکیوں کے احساسات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جن کی تعلیم، خود اعتمادی اور مستقبل اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اے دنیا کے انصاف پسند لوگو! کبھی ان بچیوں کی آنکھوں میں جھانک کر بھی دیکھیے، جن کے لیے حجاب صرف لباس نہیں بلکہ ان کے ایمان کی ایک علامت ہے۔ ان کے خوابوں کو پابندیوں کے بوجھ تلے دبنے نہ دیجیے۔ انہیں ایسا ماحول دیجیے جہاں وہ علم بھی حاصل کر سکیں، اپنے وطن کی خدمت بھی کر سکیں اور اپنے ضمیر کے مطابق زندگی بھی گزار سکیں۔ آخر میں بس اتنا کہنا ہے: حجاب کے پیچھے کوئی خواب دیکھتی ہوئی بیٹی بھی ہے، کوئی ماں کی امید بھی ہے، کسی باپ کی دعا بھی ہے۔ اس کے ہاتھ میں کتاب ہے، آنکھوں میں مستقبل کے خواب ہیں اور دل میں اپنے رب سے محبت ہے۔ اس کے خوابوں کو اس کے لباس کی وجہ سے مت توڑیے۔ اسے علم سے محروم مت کیجیے، اسے اپنی شناخت اور تعلیم میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور مت کیجیے۔ کیونکہ کسی معاشرے کی اصل خوب صورتی اس بات میں نہیں کہ وہاں سب لوگ ایک جیسے دکھائی دیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہاں مختلف شناخت رکھنے والے لوگ بھی عزت، آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا کی ہر مسلمان بیٹی کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے، اس کے ایمان کی حفاظت فرمائے اور اسے علم، عزت اور کامیابی کے راستوں پر گا
#آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، دل میں ایک عجیب سی کسک جاگ اٹھتی ہے، اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ آخر ایک مسلمان عورت کے سر پر سجے حجاب سے کسی کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے؟ وہ حجاب جو کسی کے لیے محض ایک کپڑا ہے، مگر کسی مسلمان عورت کے لیے حیا، ایمان، شناخت اور اپنے رب سے محبت کی علامت ہے۔ آذربائیجان کی سرزمین پر حجاب کے حوالے سے عائد پابندیوں اور تعلیمی اداروں میں سر ڈھانپنے پر لگائی جانے والی قدغنوں کا ذکر دل کو افسردہ کر دیتا ہے۔ ایک مسلمان بیٹی جب اپنے سر پر حجاب سجانے کی خواہش لے کر گھر سے نکلتی ہے تو اس کے دل میں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ زندگی گزارے گی، لیکن جب اسی حجاب کو اس کی تعلیم، اس کے مستقبل اور اس کی آزادی کے راستے میں رکاوٹ بنا دیا جائے تو اس کے خوابوں پر جیسے خاموشی کی چادر تن جاتی ہے۔ ذرا تصور کیجیے! ایک معصوم لڑکی، جس کی آنکھوں میں علم حاصل کرنے کے خواب ہوں، جو کتابوں سے محبت کرتی ہو، جو اپنے والدین کا نام روشن کرنا چاہتی ہو، وہ اسکول کے دروازے پر کھڑی ہو۔ اس کے سر پر حجاب ہو، دل میں علم کی طلب ہو، مگر اسے یہ احساس دلایا جائے کہ اس کی مذہبی پہچان اس کے تعلیمی سفر میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس لمحے اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ اس کی آنکھوں میں کتنے سوال جنم لیتے ہوں گے؟ کیا اس کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنا چاہتی ہے؟ افسوس! جب ایک بیٹی کے علم اور اس کے مذہبی اظہار کے درمیان انتخاب کھڑا کر دیا جائے تو یہ صرف ایک طالبہ کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ انسان کی آزادی، وقار اور بنیادی حقوق کا سوال بن جاتا ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت دی، اسے شناخت دی، اسے اپنے کردار اور تقویٰ سے بلندی حاصل کرنے کا درس دیا۔ حجاب بہت سی مسلمان خواتین کے لیے اسی دینی وابستگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ کسی کے لیے یہ لباس کا ایک حصہ ہوگا، لیکن ایک باحجاب عورت کے لیے یہ اس کے ایمان اور قلبی اطمینان سے جڑا ہوا معاملہ ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے حجاب اتارنا محض کپڑا اتارنا نہیں، بلکہ اپنے ضمیر کے خلاف ایک فیصلہ کرنے جیسا محسوس ہو سکتا ہے۔ اور سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب ایک مسلمان معاشرے میں رہنے والی مسلمان بیٹی کو اپنی مذہبی شناخت کے اظہار کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ آذربائیجان کی تاریخ، اس کی ثقافت اور اس کے معاشرے میں اسلام کی موجودگی کے باوجود، جب حجاب کے معاملے پر پابندیوں کی خبریں سامنے آتی ہیں تو بہت سے مسلمانوں کے دلوں میں درد اور بے بسی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی شناخت سے دور ہو جائے؟ کیا جدید تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ ایک لڑکی اپنے عقیدے کی کسی علامت کو چھوڑ دے؟ کیا ایک تعلیمی ادارہ اتنا وسیع القلب نہیں ہو سکتا کہ وہاں علم حاصل کرنے والی طالبہ کی قابلیت کو اس کے لباس سے زیادہ اہمیت دی جائے؟ تعلیم کا مقصد ذہنوں کو روشن کرنا ہے، نہ کہ کسی کے ضمیر کو آزمائش میں ڈالنا۔ ایک لڑکی حجاب پہن کر بھی ڈاکٹر بن سکتی ہے، استاد بن سکتی ہے، سائنس دان بن سکتی ہے اور اپنے ملک کی خدمت کر سکتی ہے۔ اس کی ذہانت، محنت اور صلاحیت کا فیصلہ اس کے علم سے ہونا چاہیے، نہ کہ صرف اس کے سر پر موجود کپڑے سے۔ یہ تحریر کسی قوم سے نفرت کے لیے نہیں، بلکہ ان دلوں کی آواز ہے جو مذہبی آزادی اور انسانی وقار پر یقین رکھتے ہیں۔ اختلاف ہو سکتا ہے، قانون پر بحث ہو سکتی ہے، ریاست اور مذہب کے تعلق پر مختلف آرا ہو سکتی ہیں، لیکن کسی بھی پالیسی کا جائزہ لیتے وقت ان لڑکیوں کے احساسات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جن کی تعلیم، خود اعتمادی اور مستقبل اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اے دنیا کے انصاف پسند لوگو! کبھی ان بچیوں کی آنکھوں میں جھانک کر بھی دیکھیے، جن کے لیے حجاب صرف لباس نہیں بلکہ ان کے ایمان کی ایک علامت ہے۔ ان کے خوابوں کو پابندیوں کے بوجھ تلے دبنے نہ دیجیے۔ انہیں ایسا ماحول دیجیے جہاں وہ علم بھی حاصل کر سکیں، اپنے وطن کی خدمت بھی کر سکیں اور اپنے ضمیر کے مطابق زندگی بھی گزار سکیں۔ آخر میں بس اتنا کہنا ہے: حجاب کے پیچھے کوئی خواب دیکھتی ہوئی بیٹی بھی ہے، کوئی ماں کی امید بھی ہے، کسی باپ کی دعا بھی ہے۔ اس کے ہاتھ میں کتاب ہے، آنکھوں میں مستقبل کے خواب ہیں اور دل میں اپنے رب سے محبت ہے۔ اس کے خوابوں کو اس کے لباس کی وجہ سے مت توڑیے۔ اسے علم سے محروم مت کیجیے، اسے اپنی شناخت اور تعلیم میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور مت کیجیے۔ کیونکہ کسی معاشرے کی اصل خوب صورتی اس بات میں نہیں کہ وہاں سب لوگ ایک جیسے دکھائی دیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہاں مختلف شناخت رکھنے والے لوگ بھی عزت، آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا کی ہر مسلمان بیٹی کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے، اس کے ایمان کی حفاظت فرمائے اور اسے علم، عزت اور کامیابی کے راستوں پر گا

About