@sh75final: #яхшилик

꧁🇺🇿༺R A H I M O V༻🇷🇺꧂
꧁🇺🇿༺R A H I M O V༻🇷🇺꧂
Open In TikTok:
Region: KZ
Sunday 18 October 2026 18:46:41 GMT
4469
300
17
9

Music

Download

Comments

user6701611115810
Багдагуль :
Әмин. Әмин
2026-10-19 05:03:48
1
........7938
Улугбек :
2026-10-19 10:26:37
1
lobarka_2000_10
ЛОБАР :
2026-10-19 04:42:44
1
lobarka_2000_10
ЛОБАР :
2026-10-19 04:42:38
1
saydullo.ysupov
saydullo ysupov :
🥰
2026-10-19 09:54:05
1
muminjooon
haitovv :
🥰🥰🥰
2026-10-19 08:37:35
0
ari7i654
Azizbek :
🥰🥰🥰
2026-10-19 04:08:51
1
oktam885
Oktambek :
🥰🥰🥰
2026-10-19 05:17:30
1
usermirzahidnumanjanov
Mirza xit :
🥰🥰🥰
2026-10-19 04:44:39
1
user6241853315113
м :
🥰🥰🥰
2026-10-18 21:17:03
1
jadyra1630598783045
Жадра Д :
🤲🤲🤲
2026-10-19 05:45:49
1
To see more videos from user @sh75final, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سیدنا حضرت ہود علیہ السلام اور قومِ عاد کی داستان: ​یمن کے سرسبز و شاداب خطے اور ریت کے وسیع و عریض ٹیلوں (احقاف) کے درمیان ایک ایسی قوم آباد تھی جسے دنیا نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ قومِ عاد تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں طویل قامت، فولادی جسمانی طاقت اور ایسی زبردست قوت سے نوازا تھا کہ وہ پہاڑوں کو تراش کر شاندار اور مضبوط گھر بناتے تھے۔ وہ اس بات پر فخر کرتے تھے کہ زمین پر ان سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں ہے۔ اپنی قوت کے غرور میں وہ اللہ کو بھول بیٹھے اور پتھر کے بتوں کی پوجا کرنے لگے۔ ​نبی کی پرخلوص پکار اور دعوتِ تبلیغ ​اس معاشرے میں جب ظلم، تکبر اور شرک اپنی انتہا کو پہنچ گیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک نرم خو، باوقار اور سچے انسان حضرت ہود علیہ السلام کو اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا۔ ​حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو کسی دنیاوی غرض کے بغیر محبت اور شفقت سے پکارا: ​
سیدنا حضرت ہود علیہ السلام اور قومِ عاد کی داستان: ​یمن کے سرسبز و شاداب خطے اور ریت کے وسیع و عریض ٹیلوں (احقاف) کے درمیان ایک ایسی قوم آباد تھی جسے دنیا نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ قومِ عاد تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں طویل قامت، فولادی جسمانی طاقت اور ایسی زبردست قوت سے نوازا تھا کہ وہ پہاڑوں کو تراش کر شاندار اور مضبوط گھر بناتے تھے۔ وہ اس بات پر فخر کرتے تھے کہ زمین پر ان سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں ہے۔ اپنی قوت کے غرور میں وہ اللہ کو بھول بیٹھے اور پتھر کے بتوں کی پوجا کرنے لگے۔ ​نبی کی پرخلوص پکار اور دعوتِ تبلیغ ​اس معاشرے میں جب ظلم، تکبر اور شرک اپنی انتہا کو پہنچ گیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک نرم خو، باوقار اور سچے انسان حضرت ہود علیہ السلام کو اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا۔ ​حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو کسی دنیاوی غرض کے بغیر محبت اور شفقت سے پکارا: ​"اے میری قوم! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ہر اونچے ٹیلے پر بے مقصد یادگاریں بناتے ہو اور ایسے محلات تعمیر کرتے ہو جیسے تم نے یہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے؟ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو!" ​آپ نے انہیں یاد دلایا کہ جو طاقت اور مال تمہیں ملا ہے، یہ اللہ کی عطا ہے، اس پر شکر کرو اور سرکشی چھوڑ دو۔ آپ دن رات، چھپ کر اور اعلانیہ، ہر محفل میں انہیں نیکی کی دعوت دیتے رہے۔ ​عوام کا مغرورانہ ردِ عمل ​قومِ عاد نے جب ایک حق گو انسان کو اپنے آبائی رسوم اور بت پرستی کے خلاف بولتے دیکھا، تو ان کا غرور بھڑک اٹھا۔ انہوں نے حق کو قبول کرنے کے بجائے ہنسی اڑائی اور تکبر سے جواب دیا: ​"اے ہود! تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے اور نہ ہی ہم تمہاری بات پر اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں۔ ہم تو تمہیں نادان سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہو کہ تم جھوٹوں میں سے ہو!" ​قوم کے سرداروں نے طنز کرتے ہوئے کہا: "تم میں اور ہم میں کیا فرق ہے؟ تمہاری ماننے والے تو وہ غریب لوگ ہیں جو معاشرے میں کمزور ہیں، ہم تمہاری بات کیوں مانیں؟" انہوں نے حضرت ہود علیہ السلام کو جھٹلایا اور دھمکیاں دیں۔ ​مٹھی بھر ایمان لانے والے ​اس طوفانِ بدتمیزی اور تکبر کے دور میں بھی کچھ دل ایسے تھے جو حق کی روشنی سے منور ہو چکے تھے۔ معاشرے کے کچھ نادار، سچے اور زیرک افراد نے حضرت ہود علیہ السلام کی پکار پر لبیک کہا۔ انہوں نے دنیا کی طاقتور ترین قوم کے طعنوں، ظلم اور بائیکاٹ کی پروا کیے بغیر اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کیا۔ حضرت ہود علیہ السلام نے ان چند مٹھی بھر مومنین کے ساتھ مل کر صبر کا دامن تھامے رکھا اور اللہ کی عبادت میں جُڑے رہے۔ ​قحط اور اصرار ​جب قومِ عاد کی سرکشی اور ظلم حد سے بڑھ گیا اور انہوں نے عذاب کی دھمکیوں کا مذاق اڑانا شروع کر دیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر آسمان کے دروازے بند کر دیے اور بارش روک دی۔ کئی سالوں تک شدید قحط رہا۔ زمین بنجر ہو گئی، چشمے خشک ہو گئے اور باغات اجڑ گئے۔ اس مصیبت میں بھی حضرت ہود علیہ السلام نے ان سے التجا کی: "اب بھی وقت ہے، اپنے رب سے معافی مانگو، وہ تم پر آسمان سے رحمت کی بارش برسائے گا اور تمہاری طاقت میں مزید اضافہ کرے گا۔" مگر ان کے دل پتھر سے زیادہ سخت ہو چکے تھے، انہوں نے توبہ کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ ​اللہ کا عذاب: ریت کا ہولناک طوفان ​ایک دن، جب سورج تپ رہا تھا، قومِ عاد نے افق پر ایک سیاہ بادل دیکھا جو ان کی وادیوں کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وہ خوشی سے ناچ اٹھے اور بول اٹھے: "یہ دیکھو! یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا اور ہمارے کھیتوں کو سیراب کرے گا! ​مگر حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں خبردار کرتے ہوئے فرمایا: ​"ہرگز نہیں! یہ وہ چیز نہیں جس کی تم جلدی مچا رہے تھے، بلکہ یہ وہ دردناک عذاب ہے جو ہوا کی شکل میں آ رہا ہے، جو اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ و برباد کر دے گا! ​وہ کوئی عام بادل نہیں تھا، بلکہ ایک انتہائی سرد، غضب ناک اور تند و تیز طوفانی ہوا تھی (ریح صرصر عاتية)۔ وہ عذاب لگاتار آٹھ دن اور سات راتیں اس سرکش قوم پر مسلط رہا۔ وہ ہوا اتنی طاقتور تھی کہ بڑے بڑے قوی جسم کے انسانوں کو جڑوں سے اکھڑ کر کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح زمین پر پٹخ دیتی تھی۔ وادی کے شاندار محلات، بلند و بالا عمارات اور سرسبز و شاداب علاقے ریت کے طوفان میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئے۔ ​ ​اس ہولناک عذاب میں جہاں پوری سرکش قوم مٹی میں مل گئی، وہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے چند مومنین کو اپنی خاص رحمت سے بالکل محفوظ رکھا۔ عذاب تھمنے کے بعد وہ محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے۔ ​یہ داستان ہمیشہ کے لیے انسانیت کو یہ درس دے گئی کہ انسان کتنا ہی طاقتور، مالدار اور محلات کا مالک کیوں نہ ہو، اللہ کی نافرمانی اور تکبر اسے پل بھر میں مٹی میں ملا سکتا ہے۔

About