@tafsirgaye8:

Tafsir gaye 8
Tafsir gaye 8
Open In TikTok:
Region: FR
Sunday 18 October 2026 23:31:51 GMT
31239
10085
336
255

Music

Download

Comments

oumardiongue705
Mame Oumar :
Salalahou Ala Mohamed 🙏🙏🙏
2026-10-19 12:13:28
31
amargaye56
amargaye56 :
Hshdgpjgsk khhhhfc jhbvgfhhshdjx jvxxjcc jgxhc
2026-10-19 14:53:10
0
le.maestro.103
LE MAESTRO 10⚽ :
sallalahou allah mouhamadine
2026-10-19 07:48:56
8
g.mm0957
ØG mømø,🔥 :
salalahou ala Mouha MD 🙏🙏🙏
2026-10-19 20:31:15
2
codou.gaye82
Omar Diaw :
salalahou allah Mohamed 🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍🤍
2026-10-19 16:26:53
5
barra8972
Coura Ndiaye :
sallalahou Allah mouhamad
2026-10-19 17:04:26
8
coumbaba117
coumba :
Salalahou Ala Mouhamad
2026-10-19 09:12:59
7
sadio.deme1
Sadio :
Salalouh Allah Mouhamed
2026-10-19 15:36:09
4
user1621777624106
user1621777624106 :
sallahou hala mouhamed
2026-10-19 17:49:42
3
yaya.diallo5199
yaya diallo :
alhamdouilah
2026-10-19 13:56:12
4
user2295525896032
demba Ndiaye :
sallalahou allah mouhamed
2026-10-19 07:21:22
5
niassbounabi
niass internet Bou lasana 🇪🇦 :
2026-10-19 13:48:22
3
sir.thiam2
siré thiam :
sallalahou Allahou mouhamad 🙏🙏🙏❤️
2026-10-19 22:06:42
0
user8154615790812
Ali Gaye :
2026-10-19 13:17:42
2
dembakane4
dembakane422 :
salalahou allah mohamed
2026-10-19 19:26:32
1
rone.gueye63
Rone Gueye :
Sallalahou alla Mouhamed ❤️
2026-10-19 21:42:09
0
birikama37
Birikama barber Shop ⍟ :
صلى الله عليه
2026-10-19 19:55:17
0
domoumbourbi
domou mbour :
sallalahou Allah mouhamed
2026-10-19 15:38:09
4
pape.samb93
BABA LE VRAI // 41 :
salalahou ala mouhamed
2026-10-19 15:43:31
0
fatoubakhoum79
fatoubakhoum :
Merci
2026-10-19 15:30:57
0
b6535282
ngor bou Serigne Babacar sy :
2026-10-19 15:55:03
0
oumardiaw2007
oumardiaw :
sallahou alamouhamed🤲🤲❤️❤️🥰🥰
2026-10-19 21:43:59
0
samba.gaye25
samba gaye :
❤️❤️❤️
2026-10-19 08:57:34
2
moustapha.4752
Moustapha 47 :
♥️♥️♥️
2026-10-19 22:09:43
0
pathekhole2025
Pathekhole2025 :
❤️❤️❤️
2026-10-18 23:33:41
0
To see more videos from user @tafsirgaye8, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#ایک معصوم میاں بیوی کا قتل، انسانیت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ کبھی کبھی انسانیت اس قدر بے بس اور خاموش دکھائی دیتی ہے کہ دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ جب کسی بے گناہ انسان کی جان لی جاتی ہے، جب کسی ماں کی گود اجڑتی ہے، جب کسی باپ کا سہارا چھن جاتا ہے، اور جب محبت کے رشتے خون میں نہلا دیے جاتے ہیں، تو صرف دو انسانوں کی زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ انسانیت کا ضمیر بھی زخمی ہو جاتا ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے ایک میاں بیوی کے سر قلم کیے جانے کی خبر نے دل کو غم اور افسوس سے بھر دیا ہے۔ اگر واقعی یہ دونوں بے گناہ تھے، تو ان کی جانوں کا چھن جانا ایک ایسا سانحہ ہے جس کا دکھ الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ ایک میاں بیوی، جنہوں نے زندگی کے سفر میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے وعدے کیے ہوں گے، جنہوں نے مل کر خواب دیکھے ہوں گے، جن کے دلوں میں اپنے مستقبل کی امیدیں بسی ہوں گی، آج ان کے بارے میں سوچ کر ہی دل کانپ اٹھتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے، وہ گھر جہاں کبھی زندگی کی رونقیں ہوں گی، جہاں ہنسی کی آوازیں گونجتی ہوں گی، جہاں ایک دوسرے کے ساتھ جینے اور بڑھاپا گزارنے کے خواب دیکھے گئے ہوں گے، وہاں ان کی جدائی کا غم کس طرح قیامت بن کر ٹوٹا ہوگا۔ ان کے پیاروں پر کیا گزری ہوگی؟ ان کی ماؤں کے دل کس طرح ٹوٹے ہوں گے؟ ان کے عزیزوں کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کا حساب کون دے گا؟ کیا انصاف کا مقصد صرف سزا دینا ہے، یا حق اور سچ کی حفاظت کرنا بھی ہے؟ کسی بھی حکومت کی اصل عظمت اس کی طاقت، اس کے اقتدار یا اس کے شاہانہ محلات سے نہیں بلکہ اس کے عدل و انصاف سے پہچانی جاتی ہے۔ انصاف وہ ہے جس میں بے گناہ کو تحفظ ملے، مظلوم کو آواز ملے اور کسی انسان کی جان لینے سے پہلے ہر پہلو کو پوری دیانت داری سے جانچا جائے۔ اگر کسی بے گناہ کو سزا مل جائے تو یہ محض ایک فرد کے ساتھ ناانصافی نہیں، بلکہ پورے نظامِ انصاف کے لیے ایک سنگین سوال بن جاتا ہے۔ اسلام تو ایک انسان کی جان کی حرمت کو انتہائی بلند مقام دیتا ہے۔ قرآنِ مجید ہمیں انسانی جان کی عظمت کا احساس دلاتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی معاشرے میں سزا اور انصاف کے معاملات میں رحم، احتیاط اور حقائق کی مکمل جانچ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ تحریر کسی قوم یا مذہب سے نفرت کے لیے نہیں، بلکہ انسانیت کے درد اور انصاف کی ضرورت کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ کسی حکومت سے اختلاف کا مطلب کسی قوم کے خلاف نفرت نہیں ہوتا۔ سعودی عرب بھی کروڑوں انسانوں کا وطن ہے، اور وہاں کے عام لوگ بھی امن، محبت اور انصاف کے مستحق ہیں۔ ہمارا دکھ کسی قوم سے نہیں، بلکہ ہر اس واقعے سے ہے جس میں انسانی جان، انسانی وقار اور انصاف کے تقاضوں پر سوال اٹھتے ہیں۔ آج دل یہی سوال کرتا ہے کہ آخر کب تک طاقت کے فیصلوں کے سامنے کمزور انسانوں کے آنسو بے آواز رہیں گے؟ کب دنیا میں ایسا انصاف قائم ہوگا جہاں کسی بے گناہ کو خوف کے سائے میں زندگی نہ گزارنی پڑے؟ کب انسان کی جان کو اقتدار، سیاست اور طاقت سے بلند سمجھا جائے گا؟ اے اللہ! اگر ان دونوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو ان کے حق میں انصاف کے دروازے کھول دے۔ ان کے لواحقین کو صبر عطا فرما، ان کے دلوں کے زخموں پر رحم کی مرہم رکھ، اور دنیا کے ہر مظلوم کو انصاف نصیب فرما۔ یاد رکھیے، کسی انسان کی جان چلی جائے تو وہ واپس نہیں آتی، کسی اجڑے ہوئے گھر کی رونقیں پہلے جیسی نہیں رہتیں، اور کسی ماں کے دل میں پیدا ہونے والا خلا الفاظ سے پُر نہیں ہوتا۔ انسانیت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ کون کتنا طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ طاقت رکھنے والا کمزور کے ساتھ کتنا انصاف کرتا ہے۔ اللہ کرے کہ دنیا میں تلواروں سے زیادہ انصاف کی آواز بلند ہو، نفرت سے زیادہ محبت کو جگہ ملے، اور کسی بے گناہ کے گھر میں کبھی ایسا اندھیرا نہ اترے جس کی صبح کبھی طلوع نہ ہو۔ کیونکہ جب انصاف خاموش ہو جائے تو صرف انسان نہیں مرتے، انسانیت بھی اپنا سر جھکا لیتی ہے۔ — ایک دکھی دل کی آواز 🥀
#ایک معصوم میاں بیوی کا قتل، انسانیت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ کبھی کبھی انسانیت اس قدر بے بس اور خاموش دکھائی دیتی ہے کہ دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ جب کسی بے گناہ انسان کی جان لی جاتی ہے، جب کسی ماں کی گود اجڑتی ہے، جب کسی باپ کا سہارا چھن جاتا ہے، اور جب محبت کے رشتے خون میں نہلا دیے جاتے ہیں، تو صرف دو انسانوں کی زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ انسانیت کا ضمیر بھی زخمی ہو جاتا ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے ایک میاں بیوی کے سر قلم کیے جانے کی خبر نے دل کو غم اور افسوس سے بھر دیا ہے۔ اگر واقعی یہ دونوں بے گناہ تھے، تو ان کی جانوں کا چھن جانا ایک ایسا سانحہ ہے جس کا دکھ الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ ایک میاں بیوی، جنہوں نے زندگی کے سفر میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے وعدے کیے ہوں گے، جنہوں نے مل کر خواب دیکھے ہوں گے، جن کے دلوں میں اپنے مستقبل کی امیدیں بسی ہوں گی، آج ان کے بارے میں سوچ کر ہی دل کانپ اٹھتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے، وہ گھر جہاں کبھی زندگی کی رونقیں ہوں گی، جہاں ہنسی کی آوازیں گونجتی ہوں گی، جہاں ایک دوسرے کے ساتھ جینے اور بڑھاپا گزارنے کے خواب دیکھے گئے ہوں گے، وہاں ان کی جدائی کا غم کس طرح قیامت بن کر ٹوٹا ہوگا۔ ان کے پیاروں پر کیا گزری ہوگی؟ ان کی ماؤں کے دل کس طرح ٹوٹے ہوں گے؟ ان کے عزیزوں کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کا حساب کون دے گا؟ کیا انصاف کا مقصد صرف سزا دینا ہے، یا حق اور سچ کی حفاظت کرنا بھی ہے؟ کسی بھی حکومت کی اصل عظمت اس کی طاقت، اس کے اقتدار یا اس کے شاہانہ محلات سے نہیں بلکہ اس کے عدل و انصاف سے پہچانی جاتی ہے۔ انصاف وہ ہے جس میں بے گناہ کو تحفظ ملے، مظلوم کو آواز ملے اور کسی انسان کی جان لینے سے پہلے ہر پہلو کو پوری دیانت داری سے جانچا جائے۔ اگر کسی بے گناہ کو سزا مل جائے تو یہ محض ایک فرد کے ساتھ ناانصافی نہیں، بلکہ پورے نظامِ انصاف کے لیے ایک سنگین سوال بن جاتا ہے۔ اسلام تو ایک انسان کی جان کی حرمت کو انتہائی بلند مقام دیتا ہے۔ قرآنِ مجید ہمیں انسانی جان کی عظمت کا احساس دلاتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی معاشرے میں سزا اور انصاف کے معاملات میں رحم، احتیاط اور حقائق کی مکمل جانچ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ تحریر کسی قوم یا مذہب سے نفرت کے لیے نہیں، بلکہ انسانیت کے درد اور انصاف کی ضرورت کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ کسی حکومت سے اختلاف کا مطلب کسی قوم کے خلاف نفرت نہیں ہوتا۔ سعودی عرب بھی کروڑوں انسانوں کا وطن ہے، اور وہاں کے عام لوگ بھی امن، محبت اور انصاف کے مستحق ہیں۔ ہمارا دکھ کسی قوم سے نہیں، بلکہ ہر اس واقعے سے ہے جس میں انسانی جان، انسانی وقار اور انصاف کے تقاضوں پر سوال اٹھتے ہیں۔ آج دل یہی سوال کرتا ہے کہ آخر کب تک طاقت کے فیصلوں کے سامنے کمزور انسانوں کے آنسو بے آواز رہیں گے؟ کب دنیا میں ایسا انصاف قائم ہوگا جہاں کسی بے گناہ کو خوف کے سائے میں زندگی نہ گزارنی پڑے؟ کب انسان کی جان کو اقتدار، سیاست اور طاقت سے بلند سمجھا جائے گا؟ اے اللہ! اگر ان دونوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو ان کے حق میں انصاف کے دروازے کھول دے۔ ان کے لواحقین کو صبر عطا فرما، ان کے دلوں کے زخموں پر رحم کی مرہم رکھ، اور دنیا کے ہر مظلوم کو انصاف نصیب فرما۔ یاد رکھیے، کسی انسان کی جان چلی جائے تو وہ واپس نہیں آتی، کسی اجڑے ہوئے گھر کی رونقیں پہلے جیسی نہیں رہتیں، اور کسی ماں کے دل میں پیدا ہونے والا خلا الفاظ سے پُر نہیں ہوتا۔ انسانیت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ کون کتنا طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ طاقت رکھنے والا کمزور کے ساتھ کتنا انصاف کرتا ہے۔ اللہ کرے کہ دنیا میں تلواروں سے زیادہ انصاف کی آواز بلند ہو، نفرت سے زیادہ محبت کو جگہ ملے، اور کسی بے گناہ کے گھر میں کبھی ایسا اندھیرا نہ اترے جس کی صبح کبھی طلوع نہ ہو۔ کیونکہ جب انصاف خاموش ہو جائے تو صرف انسان نہیں مرتے، انسانیت بھی اپنا سر جھکا لیتی ہے۔ — ایک دکھی دل کی آواز 🥀

About