نہیں، ان صوفیاء اور اولیاءِ کرام میں سے کسی کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ نادِ علی رسول اللہ ﷺ پر وحی کے طور پر نازل ہوئی تھی۔ [1, 2]
ان بزرگوں (شاہ ولی اللہ، امام احمد رضا خان، پیر مہر علی شاہ وغیرہ) کے نزدیک نادِ علی کی حیثیت قرآن، حدیث یا وحی کی نہیں ہے، بلکہ وہ اسے ایک صوفیانہ وظیفہ، دعا اور مشائخِ طریقت کا مجرب عمل مانتے ہیں۔ [1]
ان اولیاءِ کرام کا اس کلام کے متعلق علمی اور تاریخی موقف درج ذیل نکات سے واضح ہوتا ہے:
۱. وحی یا حدیث ہونے کی نفی
ان میں سے کسی بزرگ نے اپنی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ یہ الفاظ اللہ کی طرف سے نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئے۔ اہل سنت کے تمام صوفیاء اور فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ نادِ علی کتبِ حدیث (جیسے بخاری، مسلم وغیرہ) سے ثابت نہیں ہے۔ امام احمد رضا خان بریلویؒ کے مکتبِ فکر کے مفتیان (جیسے دارالافتاء فتویٰ آن لائن) بھی واضح لکھتے ہیں کہ "یہ نبی کریم ﷺ کے سامنے پڑھی گئی، کتبِ حدیث سے ثابت نہیں"۔ [1, 2]
۲. مشائخ کا وظیفہ اور روحانی عمل
ان بزرگوں کے نزدیک اس کلام کی اصل حیثیت یہ ہے:
جواہرِ خمسہ کی سند: یہ کلام برصغیر کے بزرگوں تک معروف صوفی شاہ محمد غوث گوالیاریؒ کی کتاب جواہرِ خمسہ کے ذریعے پہنچا۔ [1, 2]
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کا موقف: شاہ ولی اللہؒ اور ان کے خاندان (شاہ عبدالعزیزؒ وغیرہ) کو ان کے اساتذہ کے ذریعے اس وظیفے کو پڑھنے اور آگے اجازت دینے (اجازتِ عملیات) کی منتقلی ثابت ہے۔ شاہ صاحب اسے وحی نہیں، بلکہ اولیاء اللہ کے مجربات (آزمائے ہوئے روحانی علاج) کے طور پر قبول کرتے تھے۔ [1, 2]
اعلیٰ حضرت احمد رضا خان اور پیر مہر علی شاہؒ: ان متأخرین بزرگوں کے نزدیک چونکہ اس کلام کے معنی میں اللہ کے ایک مقرب ولی (حضرت علیؓ) کا وسیلہ ہے، اور احادیث سے صالحین کا وسیلہ لینا ثابت ہے، اس لیے وہ اسے بطورِ دعا پڑھنا جائز اور برکت کا باعث سمجھتے تھے، نہ کہ دین کا کوئی لازمی حصہ یا وحی۔ [1]
۳. داتا گنج بخشؒ اور بابا فریدؒ کا دور
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ اور بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے دورِ حیات میں نادِ علی برصغیر کے چشتیہ یا جنیدیہ صوفیاء کے ہاں وظیفے کے طور پر سرے سے رائج ہی نہیں تھی، اس لیے ان کی تصانیف میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ ان کا پورا زور قرآن و سنت کی پیروی پر تھا۔ [1]
حیثیتاولیاء و صوفیاء کا متفقہ عقیدہکیا یہ قرآن کی آیت ہے؟جی نہیں، ایسا کہنا یا ماننا گمراہی ہے۔کیا یہ مستند حدیثِ نبوی ہے؟جی نہیں، کتبِ حدیث میں اس کا کوئی وجود نہیں۔پھر یہ ان کے نزدیک کیا ہے؟یہ بعد کے بزرگوں اور مشائخِ طریقت کا ایک روحانی وظیفہ اور دعا ہے۔
2026-10-19 11:23:40
0
Fayyaz Butt :
❤️💕💕💕❤️very good wonderfull subhanallah masha allah on my way
2026-10-19 12:10:45
0
To see more videos from user @peer.sha7, please go to the Tikwm
homepage.