Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@nurainiess: Jumpaa kaftan comeii bawak p kenduri #fyp #kaftan #cantik
Nrainiess
Open In TikTok:
Region: MY
Monday 19 October 2026 09:00:00 GMT
10
4
2
0
Music
Download
No Watermark .mp4 (
4.18MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
4.18MB
)
Watermark .mp4 (
4.27MB
)
Music .mp3
Comments
Cik Bie :
Cantikkknya ..
2026-10-19 13:30:22
1
To see more videos from user @nurainiess, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
#putin #heartsofiron4 #hoi4 #thefirerises #tfr #Russia #путин #meme
#ad #jiyu #tiktokshopblackfriday #tiktokshopcybermonday #discoveryourgift Affiliate link — I may earn a commission from purchases made through my link. Review the ingredients and directions before use, patch-test new skincare when appropriate, and discontinue use if irritation occurs. Individual results may vary.
#1000k #foryoupage #fyp #fy #پشتون_تاجیک_هزاره_ازبک_زنده_باد🇦🇫
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھرکے دیکھتے ہیں سو اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اُس کی سو ہم بھی اُس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اُس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اس کو چاند تکتا رہتا ہے ستارے بامِ فلک سے اُتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اُسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں اُس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اُس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اُس کی جو سادہ دِل ہیں اُسے بن سنور کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب سے مائل ہیں اس کی گردن میں مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ اِمکاں میں پلنگ زاوئیے اس کی نظر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں وہ سروقد ہے مگر بے گلِ مراد نہیں کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں بس اِک نگاہ سے لُٹتا ہے قافلہ دل کا سو رہروانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں رُکے تو گردشیں اُس کا طواف کرتی ہیں چلے تو اُس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں کسے نصیب کے بے پیرہن اُسے دیکھے کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں اب اس کے شہر میں ٹھہریں کے کُوچ کر جائیں فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں. . ! #poetry🥀 #emotionalquotes #simplequotes77 #foryoupage #search
It’s crazy how good this works
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy