what a versatile answer,such a wise and knowledgeable person
2026-10-19 16:11:12
25
Abdul@123 :
اس حدیث پر بھی بحث کریں کہ
ولی کی اجازت کے بغیر نکاح باطل ہے!
نکاح تو کورٹ میں بھی ہوتے ہیں تو نتیجہ کیا نکلتا ہے
2026-10-19 17:48:43
22
Cold wind :
Download option please
2026-10-19 20:47:25
1
Abdullah urf Shan :
Well said [Red heart]
2026-10-19 23:07:54
0
Eshal Irfan :
Well explain
2026-10-19 22:37:01
1
user5887600140290 :
ہمارے معاشرے میں ماں باپ اولاد کے مالک بن جاتے ہیں۔
2026-10-19 18:18:40
10
Mateen Iqbal :
download option hi kr do yr
2026-10-19 18:13:12
3
SGS :
Open Save option
2026-10-19 20:06:21
1
Farooq ahmed bughio :
right 100%
2026-10-19 16:23:23
1
🇵🇰Muhammad🌹ali🇵🇰 :
right
2026-10-19 17:48:40
1
nauman :
Jab parent ham ko acha bura sab samjhatay hain sikhatay hain phir hamari personality bhi waisi banti jati hay . Jab ham apnay parent ko apnay se ziyada wise samjhtay hain tabb iss mai bhi wo ham se samjhdar hain . Ye alag baat ho sakti hay kisi se app ko mohabat ho jaiy .
2026-10-19 18:33:17
1
واعتصموا بحبل اللہ 🇵🇰🇧🇭 :
وجہ تسمیہ طلاق خلع ہو جاتی ہے
2026-10-19 15:19:58
3
Light's Shadow :
Aur Aaj Kal Toh Chalti Hai Bas Blackmailing
😳
2026-10-19 19:30:26
1
Abid Hussein :
ماشاءالله
2026-10-19 20:37:21
1
Asif~Panhwar :
والدین دنیا کا سب سے بہترین رشتہ ہیں۔ میری نظر میں ان سے بڑھ کر کوئی رشتہ نہیں ہے۔ لیکن زندگی تو لڑکے اور لڑکی نے خود گزارنی ہوتی ہے، اس لیے اگر دو لوگ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو انہیں اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔
اس معاملے میں والدین کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنی پوری کوشش کریں اور کھل کر اپنی اولاد کو سمجھائیں کہ پسند کی شادی اور جس خاندان میں وہ شادی کرنا چاہتے ہیں، اس میں کیا خامیاں، خدشات اور مسائل ہو سکتے ہیں۔ اکثر معاملات میں والدین کے سمجھانے سے اولاد اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرتی ہے اور شادی کا ارادہ ترک کر دیتی ہے۔
لیکن اگر والدین کی بھرپور کوشش کے باوجود بھی لڑکا یا لڑکی اپنے فیصلے پر قائم رہیں تو پھر انہیں زبردستی روکنے کے بجائے ان کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔ کیونکہ اگر والدین اس کے بعد بھی سختی اور زبردستی کریں گے تو معاملہ عدالت تک پہنچ سکتا ہے، جہاں لڑکا اور لڑکی اپنی مرضی سے نکاح کر سکتے ہیں اور پھر والدین کو معاشرتی رسوائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ محبت، سمجھ داری اور دلیل کے ساتھ اپنا کردار پوری طرح ادا کریں، اپنی اولاد کو ہر پہلو سے آگاہ کریں اور اسے سمجھانے کی بھرپور کوشش کریں۔ لیکن اگر تمام کوششوں کے باوجود اولاد اپنے فیصلے پر قائم رہے تو پھر زبردستی کرنے سے گریز کرنا چاہیے، تاکہ کسی ایسے انجام سے بچا جا سکے جس میں والدین اور اولاد دونوں کو تکلیف اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑے۔
2026-10-19 22:28:40
0
alifarazansari1 :
2026-10-19 23:00:36
0
Awaistahir123 :
2026-10-19 19:05:27
1
وقولوا قولا سديدا :
بہت خوب
2026-10-19 18:02:55
1
shahzad arbabi :
nice
2026-10-19 16:17:15
1
M Sohaib Naseem :
lekin wali ki bagir b larki nhi shdi kr skti hai
2026-10-19 20:50:10
0
Mohammad Ali✨✨ :
اپنے بچوں کی مرضی سے نکاح کراواؤ خدارا ان کے دشمن نہ بنو
2026-10-19 22:50:28
1
ITS MARKHOR :
❤️
2026-10-19 22:51:55
0
mohammadamanullah039 :
لڑکا اور لڑکی مل جی نہیں ڈکتے تو فیصلہ کیسے کریں اور ولی کا کیا ھوگا۔
2026-10-19 19:33:02
1
AM :
Without Wali NO NIKAH
2026-10-19 16:37:44
2
Partisan :
100% nak ka masla ban jata
2026-10-19 17:58:45
1
To see more videos from user @asifpanhwar110, please go to the Tikwm
homepage.