@_tavi32: #fyp #youngerme

ttavi32
ttavi32
Open In TikTok:
Region: RO
Monday 19 October 2026 08:07:04 GMT
409
80
3
10

Music

Download

Comments

andrei_juni30
Andrei_juni :
Who loves tavi
2026-10-19 09:50:56
1
alexandruonciu
AlexandruOnciu :
2026-10-19 09:08:35
1
bokka.prime
Arthur Mihaila☦️ :
2026-10-19 11:53:08
0
To see more videos from user @_tavi32, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اب تم اعتبار کی باتیں کرنے لگی ہو، جب میری آنکھوں میں شک کے سائے اتر چکے ہیں، جب دل کے سارے روشن دریچے تمہارے رویّوں کی دھول سے بھر چکے ہیں۔ میں اب تالا لگا کر تین بار کھینچتا ہوں، کہ کہیں کوئی دروازہ کھلا نہ رہ جائے، کہ کہیں کوئی اپنا بن کر میرے اعتماد کو پھر سے لوٹ نہ جائے۔ یہ عادت نہیں، میرے خوف کی کہانی ہے، یہ احتیاط نہیں، کسی زخم کی نشانی ہے، کبھی میں بھی بےفکر سویا کرتا تھا، ہر بات پہ ہنس کر اعتبار کیا کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے وہ دن بھی جب تمہاری خاموشی میں بھی سکون ملتا تھا، تمہارے ایک وعدے پر میرا سارا وجود یقین کرتا تھا۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ لفظ بدل گئے؟ لہجے بدل گئے، وعدے بدل گئے، جو ہاتھ تھام کر منزل کا یقین دلاتے تھے، وہی ہاتھ راستے میں چھوڑ کر چل دیے۔ اب تم کہتی ہو کہ مجھ پر بھروسا کرو، میں کیسے کروں، ذرا یہ تو بتاؤ؟ جس شاخ نے میرے خواب توڑے ہوں، اسی شاخ پر پھر آشیانہ کیسے بناؤں؟ میں اب ہر بات کو پرکھتا ہوں، ہر مسکراہٹ کے پیچھے مطلب ڈھونڈتا ہوں، کسی کے اپنے پن سے پہلے اس کے بدل جانے کا امکان سوچتا ہوں۔ یہ سب تمہاری دی ہوئی دولت ہے، یہ بےیقینی، یہ خوف، یہ تنہائی، تم نے محبت کے نام پر جو سکھایا، وہ سبق آج تک بھلا نہ پائی۔ مگر سنو، میں ہمیشہ ایسا نہ تھا، میرے اندر بھی اک معصوم دل رہتا تھا، جو ایک بار کسی کو اپنا کہہ دے، پھر عمر بھر اسی کا ہو کر رہتا تھا۔ اب تم اعتبار کی باتیں کرنے لگی ہو، مگر اعتبار لفظوں سے واپس نہیں آتا، تالا کھول بھی دوں اگر میں کبھی، تو دل فوراً دروازہ نہیں کھول پاتا۔ میں اب تالا لگا کر تین بار کھینچتا ہوں، شاید دل کو سمجھاتا ہوں کہ سب محفوظ ہے، مگر سچ یہ ہے کہ دروازے نہیں، میرے اندر کا انسان اب بھی خوف زدہ ہے۔ اور تم کہتی ہو، مجھ پر یقین کرو، کاش تم میرے اندر کا یہ حال پڑھ پاتیں، تو شاید اعتبار مانگنے سے پہلے میرا ٹوٹا ہوا یقین جوڑنے آتیں۔ #fyp
اب تم اعتبار کی باتیں کرنے لگی ہو، جب میری آنکھوں میں شک کے سائے اتر چکے ہیں، جب دل کے سارے روشن دریچے تمہارے رویّوں کی دھول سے بھر چکے ہیں۔ میں اب تالا لگا کر تین بار کھینچتا ہوں، کہ کہیں کوئی دروازہ کھلا نہ رہ جائے، کہ کہیں کوئی اپنا بن کر میرے اعتماد کو پھر سے لوٹ نہ جائے۔ یہ عادت نہیں، میرے خوف کی کہانی ہے، یہ احتیاط نہیں، کسی زخم کی نشانی ہے، کبھی میں بھی بےفکر سویا کرتا تھا، ہر بات پہ ہنس کر اعتبار کیا کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے وہ دن بھی جب تمہاری خاموشی میں بھی سکون ملتا تھا، تمہارے ایک وعدے پر میرا سارا وجود یقین کرتا تھا۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ لفظ بدل گئے؟ لہجے بدل گئے، وعدے بدل گئے، جو ہاتھ تھام کر منزل کا یقین دلاتے تھے، وہی ہاتھ راستے میں چھوڑ کر چل دیے۔ اب تم کہتی ہو کہ مجھ پر بھروسا کرو، میں کیسے کروں، ذرا یہ تو بتاؤ؟ جس شاخ نے میرے خواب توڑے ہوں، اسی شاخ پر پھر آشیانہ کیسے بناؤں؟ میں اب ہر بات کو پرکھتا ہوں، ہر مسکراہٹ کے پیچھے مطلب ڈھونڈتا ہوں، کسی کے اپنے پن سے پہلے اس کے بدل جانے کا امکان سوچتا ہوں۔ یہ سب تمہاری دی ہوئی دولت ہے، یہ بےیقینی، یہ خوف، یہ تنہائی، تم نے محبت کے نام پر جو سکھایا، وہ سبق آج تک بھلا نہ پائی۔ مگر سنو، میں ہمیشہ ایسا نہ تھا، میرے اندر بھی اک معصوم دل رہتا تھا، جو ایک بار کسی کو اپنا کہہ دے، پھر عمر بھر اسی کا ہو کر رہتا تھا۔ اب تم اعتبار کی باتیں کرنے لگی ہو، مگر اعتبار لفظوں سے واپس نہیں آتا، تالا کھول بھی دوں اگر میں کبھی، تو دل فوراً دروازہ نہیں کھول پاتا۔ میں اب تالا لگا کر تین بار کھینچتا ہوں، شاید دل کو سمجھاتا ہوں کہ سب محفوظ ہے، مگر سچ یہ ہے کہ دروازے نہیں، میرے اندر کا انسان اب بھی خوف زدہ ہے۔ اور تم کہتی ہو، مجھ پر یقین کرو، کاش تم میرے اندر کا یہ حال پڑھ پاتیں، تو شاید اعتبار مانگنے سے پہلے میرا ٹوٹا ہوا یقین جوڑنے آتیں۔ #fyp

About