@realeyesreallies8: The French Revolution (1789–1799) was a major social and political upheaval that overthrew the absolute monarchy in France and laid the foundations of modern democratic ideals. Under King Louis XVI, a severe economic crisis, heavy taxation, aristocratic privileges, and the spread of Enlightenment ideas about liberty, equality, and fraternity fueled widespread discontent among the people. The revolution effectively began on 14 July 1789 with the storming of the Bastille prison by the Parisian crowd. It led to the abolition of feudalism, the proclamation of the Declaration of the Rights of Man and of the Citizen, and the transformation of the monarchy into a constitutional one. Later, during the radical phase dominated by the Jacobins, the Reign of Terror saw thousands executed by guillotine. The revolution effectively ended in 1799 with Napoleon Bonaparte’s coup d’état, but it left a lasting legacy by establishing republican principles that influenced not only France but the whole of Europe and the modern world. #francia #francerevolution #2026 #lyon #pari

🏛️
🏛️
Open In TikTok:
Region: DE
Monday 19 October 2026 15:50:56 GMT
5927
288
2
27

Music

Download

Comments

tereza_groendahl
Tereza groendahl :
Keep going!!!
2026-10-19 16:00:30
5
To see more videos from user @realeyesreallies8, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی کی رولنگ پر ڈی آئی جی خضدار رینج کی طلبی، پولیس حکام کو شفاف تحقیقات، ملزمان کی گرفتاری اور متاثرہ خاندانوں کو مؤثر سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت  اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی کی زیرصدارت اسپیکر چیمبر میں اجلاس منعقد ہوا، جس میں رکن صوبائی اسمبلی علی مدد جتک، میر جہانزیب مینگل، میر ظفراللہ خان زہری، سیکرٹری بلوچستان صوبائی اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ اور اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل پولیس آصف خان نے شرکت کی. اجلاس میں اسماء جتک اور ضلع قلات سے تعلق رکھنے والی لائبہ ستار کے مقدمات، ان کے اہل خانہ کو درپیش سیکیورٹی خدشات اور ملزمان کی عدم گرفتاری کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔ اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی نےاجلاس میں دی گئی اپنی رولنگ کے تحت ڈی آئی جی خضدار رینج کو اسپیکر چیمبر میں طلب کیا تھا تاکہ مذکورہ واقعات میں پیش رفت، پولیس تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کے تحفظ کے اقدامات سے متعلق وضاحت حاصل کی جا سکے۔ اسپیکر نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اسمبلی کے اجلاس میں اس معاملے پر ڈی آئی جی خضدار رینج کی طلبی کے باوجود ڈی آئی جی کے بجائے اے آئی جی کی آمد کو استحقاق کی خلاف ورزی کے تناظر میں دیکھا گیا۔ اسپیکر نے اجلاس میں کہا کہ ایسے واقعات بار بار اسمبلی میں زیربحث آنا تشویش ناک ہے۔ پولیس عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کی محافظ ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے محافظ ہیں، اگر آپ ہی ہمیں تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو پھر ہم اس حوالے سے کیا کہہ سکتے ہیں۔ اجلاس کے دوران اے آئی جی آصف خان نے بتایا کہ اسماء جتک اور ان کے اہلِ خانہ کو سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ اس پر اسپیکر نے سوال اٹھایا کہ اگر متاثرہ خاتون کو سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے تو ان کے اہلِ خانہ کو درپیش خدشات اور تحفظ کے معاملات کو کس طرح یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ متاثرہ خاندانوں کی حفاظت محض رسمی کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ان کا اعتماد بحال کیا جائے۔ پولیس حکام نے اجلاس کو بتایا کہ دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اور معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسپیکر نے ہدایت کی کہ تحقیقات شفاف، غیر جانب دارانہ اور مؤثر انداز میں مکمل کی جائیں، مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کی عمل داری اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے پولیس حکام پر واضح کیا کہ ایسے حساس مقدمات میں تاخیر اور عدم پیش رفت سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ ٹھوس اقدامات کے ذریعے انصاف کی فراہمی اور متاثرہ خاندانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی کی رولنگ پر ڈی آئی جی خضدار رینج کی طلبی، پولیس حکام کو شفاف تحقیقات، ملزمان کی گرفتاری اور متاثرہ خاندانوں کو مؤثر سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی کی زیرصدارت اسپیکر چیمبر میں اجلاس منعقد ہوا، جس میں رکن صوبائی اسمبلی علی مدد جتک، میر جہانزیب مینگل، میر ظفراللہ خان زہری، سیکرٹری بلوچستان صوبائی اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ اور اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل پولیس آصف خان نے شرکت کی. اجلاس میں اسماء جتک اور ضلع قلات سے تعلق رکھنے والی لائبہ ستار کے مقدمات، ان کے اہل خانہ کو درپیش سیکیورٹی خدشات اور ملزمان کی عدم گرفتاری کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔ اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی نےاجلاس میں دی گئی اپنی رولنگ کے تحت ڈی آئی جی خضدار رینج کو اسپیکر چیمبر میں طلب کیا تھا تاکہ مذکورہ واقعات میں پیش رفت، پولیس تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کے تحفظ کے اقدامات سے متعلق وضاحت حاصل کی جا سکے۔ اسپیکر نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اسمبلی کے اجلاس میں اس معاملے پر ڈی آئی جی خضدار رینج کی طلبی کے باوجود ڈی آئی جی کے بجائے اے آئی جی کی آمد کو استحقاق کی خلاف ورزی کے تناظر میں دیکھا گیا۔ اسپیکر نے اجلاس میں کہا کہ ایسے واقعات بار بار اسمبلی میں زیربحث آنا تشویش ناک ہے۔ پولیس عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کی محافظ ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے محافظ ہیں، اگر آپ ہی ہمیں تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو پھر ہم اس حوالے سے کیا کہہ سکتے ہیں۔ اجلاس کے دوران اے آئی جی آصف خان نے بتایا کہ اسماء جتک اور ان کے اہلِ خانہ کو سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ اس پر اسپیکر نے سوال اٹھایا کہ اگر متاثرہ خاتون کو سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے تو ان کے اہلِ خانہ کو درپیش خدشات اور تحفظ کے معاملات کو کس طرح یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ متاثرہ خاندانوں کی حفاظت محض رسمی کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ان کا اعتماد بحال کیا جائے۔ پولیس حکام نے اجلاس کو بتایا کہ دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اور معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسپیکر نے ہدایت کی کہ تحقیقات شفاف، غیر جانب دارانہ اور مؤثر انداز میں مکمل کی جائیں، مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کی عمل داری اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے پولیس حکام پر واضح کیا کہ ایسے حساس مقدمات میں تاخیر اور عدم پیش رفت سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ ٹھوس اقدامات کے ذریعے انصاف کی فراہمی اور متاثرہ خاندانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

About