@fluorescent.dreams: @wavytalkofficial knew what they were doing! A salon blown out look without all of the work and flyaways! I have thin flat hair and it completely changed my morning hair routine. Have you tried this? What are your thoughts? #beauty #beautytips #hair #wavytalk #GRWM

Jackie
Jackie
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 20 October 2026 00:54:19 GMT
114044
175
4
8

Music

Download

Comments

rosely.almonte32
Rosely Almonte :
So pretty 😍
2026-10-20 02:45:41
0
bigmom280
🍒big mom official 🌹🌹 :
love
2026-10-20 17:10:34
1
tkr6hmf37q5pbz
tariq :
hi
2026-10-20 12:30:16
0
To see more videos from user @fluorescent.dreams, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مولانا سید کفایت علی کافی مرادآبادی 1857ء کی جنگِ آزادی کے ایک عظیم مجاہد، جید عالمِ دین، مفتی اور نامور نعت گو شاعر تھے۔ آپ نے انگریز سامراج کے خلاف علمی، سیاسی اور عسکری محاذ پر بھرپور کردار ادا کیا  اور اسی پاداش میں انگریزوں کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی زندگی اور 1857ء کی جنگِ آزادی میں ان کے کردار کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں: 1857ء کی جنگِ آزادی میں کردار • جہاد کا فتویٰ:  1857ء کی تحریک شروع ہوتے ہی آپ نے مرادآباد اور روہیل کھنڈ کے علاقے میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ مرتب کیا اور اسے جامع مسجد پر چسپاں کروایا،  جس نے برصغیر کے مسلمانوں میں آزادی کی نئی روح پھونک دی۔ • صدرِ شریعت کا منصب:  مرادآباد میں جب انگریز حکومت کا کنٹرول ختم ہوا اور انقلابی حکومت قائم ہوئی، تو مولانا کفایت علی کافی کو وہاں کا صدرِ شریعت (امیرِ شریعت/ چیف مفتی) مقرر کیا گیا۔ وہ جنگی مشورتی کمیٹی کے اہم رکن بھی تھے۔ • عسکری قیادت:  انہوں نے صرف فتاویٰ ہی جاری نہیں کیے بلکہ مشہور مجاہدِ آزادی جنرل بخت خان کی فوج میں کمانڈر کے طور پر انگریزوں کے خلاف عملی لڑائیوں میں بھی حصہ لیا۔ گرفتاری اور شہادت • اپریل 1858ء میں جب انگریزوں نے مرادآباد پر دوبارہ قبضہ کر لیا، تو مولانا کافی کو گرفتار کر لیا گیا۔ • دورانِ حراست انہیں شدید ترین جسمانی اذیتیں دی گئیں (روایات کے مطابق ان کے جسم پر گرم استریاں تک پھیری گئیں) لیکن انہوں نے انگریزوں کے سامنے جھکنے سے صاف انکار کر دیا۔ • انگریز مجسٹریٹ جان انگلسن نے انہیں سزائے موت سنائی اور 6 مئی 1858ء (22 رمضان المبارک) کو مرادآباد جیل کے قریب عوامی مجمعے کے سامنے انہیں پھانسی دے دی گئی
مولانا سید کفایت علی کافی مرادآبادی 1857ء کی جنگِ آزادی کے ایک عظیم مجاہد، جید عالمِ دین، مفتی اور نامور نعت گو شاعر تھے۔ آپ نے انگریز سامراج کے خلاف علمی، سیاسی اور عسکری محاذ پر بھرپور کردار ادا کیا اور اسی پاداش میں انگریزوں کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی زندگی اور 1857ء کی جنگِ آزادی میں ان کے کردار کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں: 1857ء کی جنگِ آزادی میں کردار • جہاد کا فتویٰ: 1857ء کی تحریک شروع ہوتے ہی آپ نے مرادآباد اور روہیل کھنڈ کے علاقے میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ مرتب کیا اور اسے جامع مسجد پر چسپاں کروایا، جس نے برصغیر کے مسلمانوں میں آزادی کی نئی روح پھونک دی۔ • صدرِ شریعت کا منصب: مرادآباد میں جب انگریز حکومت کا کنٹرول ختم ہوا اور انقلابی حکومت قائم ہوئی، تو مولانا کفایت علی کافی کو وہاں کا صدرِ شریعت (امیرِ شریعت/ چیف مفتی) مقرر کیا گیا۔ وہ جنگی مشورتی کمیٹی کے اہم رکن بھی تھے۔ • عسکری قیادت: انہوں نے صرف فتاویٰ ہی جاری نہیں کیے بلکہ مشہور مجاہدِ آزادی جنرل بخت خان کی فوج میں کمانڈر کے طور پر انگریزوں کے خلاف عملی لڑائیوں میں بھی حصہ لیا۔ گرفتاری اور شہادت • اپریل 1858ء میں جب انگریزوں نے مرادآباد پر دوبارہ قبضہ کر لیا، تو مولانا کافی کو گرفتار کر لیا گیا۔ • دورانِ حراست انہیں شدید ترین جسمانی اذیتیں دی گئیں (روایات کے مطابق ان کے جسم پر گرم استریاں تک پھیری گئیں) لیکن انہوں نے انگریزوں کے سامنے جھکنے سے صاف انکار کر دیا۔ • انگریز مجسٹریٹ جان انگلسن نے انہیں سزائے موت سنائی اور 6 مئی 1858ء (22 رمضان المبارک) کو مرادآباد جیل کے قریب عوامی مجمعے کے سامنے انہیں پھانسی دے دی گئی

About