@thuc.quanh.ta8: 🌿 Bí ẩn loại thảo dược giúp ae tìm lại bản lĩnh phái mạnh 👍 #thuocquanhta #thotitu#banlinhphaimanh#trangduong#daytohong

Thuốc quanh ta 🌿
Thuốc quanh ta 🌿
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 20 October 2026 03:42:22 GMT
21978
488
24
79

Music

Download

Comments

tng.t8890
tương tư :
chưa nhìn thấy cây này bao giờ
2026-10-21 16:22:43
1
user8145100984578
user8145100984578 :
thỏ ti tử phải không bạn
2026-10-21 01:24:38
2
user9590756671101
NHÀ VƯỜN HOÀN YẾN :
cách làm như thế nào vậy bạn
2026-10-21 14:36:39
1
user8165243442833
phúc Nguyễn :
giờ khó tìm dây nầy lắm
2026-10-21 13:26:39
1
nguyengthisari
Nguyễn Thị sari :
có phơi khô hong ạ
2026-10-21 10:58:47
1
thaisalemnguyen26
thaisalem :
giờ hiếm lắm
2026-10-21 07:55:04
1
tm.nguyn.vn013
Tám Nguyễn Văn :
kì diệu vậy ư
2026-10-21 07:10:36
1
than.tran023
Than @₫@ 009 :
Bip thoi
2026-10-21 13:18:02
1
benshop159
BenShop ✅ :
Nhìn thấy cây này nhiều , nay mới biết nó có hạt 🙂
2026-10-20 07:54:59
1
haihuynh608
hair tran :
co ban k ban
2026-10-21 09:18:58
1
lantien6789
Nguyễn Văn tiển :
cây nầy dùng sao ạ chỉ giúp e vế ạ
2026-10-21 07:10:19
1
nh.hp.trn1
Đình Hợp Trần :
Bốc phét
2026-10-21 12:57:14
1
hng.ngc4717
196 :
giây tơ hồng mà
2026-10-21 11:00:02
1
nguyenphon77
Nguyễn Văn phon 1979 :
[Ấm lòng][Ấm lòng][Ấm lòng]
2026-10-20 11:54:35
1
alicuran97
trần ngọc rân :
😂😂😂
2026-10-21 13:51:52
1
To see more videos from user @thuc.quanh.ta8, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#کل ٹرمپ کے استقبال میں عورتیں پیش کی جا رہی تھیں، آج ایک عورت کا سر تن سے جدا ہے! ایک وقت تھا جب سعودی عرب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد پر شاہانہ استقبال کیا جا رہا تھا۔ دولت کی نمائش تھی، قیمتی تحفے تھے، رقص و موسیقی کی محفلیں تھیں، اور دنیا بھر کے سامنے عرب شاہی نظام کی شان و شوکت دکھائی جا رہی تھی۔ آج اسی خطے سے ایک ایسی خبر سامنے آتی ہے جو انسان کے دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ ایک عورت، جو کسی کی بیوی تھی، کسی کی بیٹی تھی، کسی کے گھر کی عزت اور کسی کی زندگی کا حصہ تھی، اس کی زندگی ایک ایسے انجام تک پہنچی کہ اس کا سر اس کے دھڑ سے جدا کر دیا گیا۔ کیا عورت صرف استقبال کی زینت بننے کے لیے ہے؟ کیا اس کی عزت صرف محفلوں تک محدود ہے؟ اور جب وہ ایک انسان کی حیثیت سے اپنے ہی گھر میں ظلم کا شکار ہو، تو اس کی حرمت کہاں چلی جاتی ہے؟ کل تک طاقتور حکمرانوں کے سامنے مسکراہٹیں بکھیرنے، دولت لٹانے اور دنیا کو متاثر کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ آج ایک عورت کی موت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محلوں کی چمک دمک، دولت کے انبار اور طاقت کے مظاہرے کسی معاشرے کی اصل عظمت کا ثبوت نہیں ہوتے۔ اصل عظمت تو یہ ہے کہ ایک عورت اپنے گھر میں محفوظ ہو، ایک بیوی اپنے شوہر کے ہاتھوں خوف زدہ نہ ہو، ایک بیٹی اپنی زندگی کے لیے دعا کرنے پر مجبور نہ ہو، اور ایک انسان کی جان کو ہر تعلق، ہر رشتے اور ہر اختلاف سے بڑھ کر اہمیت دی جائے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم عورت کو کبھی عزت کے نام پر قید کرتے ہیں، کبھی غیرت کے نام پر اس کی زندگی چھین لیتے ہیں، اور کبھی اسے طاقتور لوگوں کی محفلوں میں محض ایک منظر بنا کر پیش کرتے ہیں۔ آخر عورت کی اپنی ذات، اس کے خواب، اس کی خواہشات اور اس کی زندگی کی قیمت کب تسلیم کی جائے گی؟ اسلام تو عورت کو عزت، وراثت، تحفظ اور زندگی کا حق دیتا ہے۔ پھر عورت پر ظلم کرنے والا کس منہ سے دین، غیرت اور عزت کی بات کرتا ہے؟ کسی عورت کو قتل کر دینا غیرت نہیں، بلکہ انسانیت کے چہرے پر ایک ایسا زخم ہے جو برسوں تک رستا رہتا ہے۔ اور حکمرانوں سے بھی ایک سوال ہے: اگر دولت سے دنیا کو حیران کیا جا سکتا ہے، تو کیا انصاف سے دل نہیں جیتے جا سکتے؟ اگر عالمی رہنماؤں کے استقبال پر بے شمار وسائل خرچ کیے جا سکتے ہیں، تو معاشرے کی ہر عورت کے تحفظ، انصاف اور وقار کے لیے پوری قوت کیوں نہیں صرف کی جاتی؟ یاد رکھیے، کسی ملک کی عظمت اس کے محلوں سے نہیں، اس کی عورتوں کے تحفظ سے پہچانی جاتی ہے۔ آج ایک عورت کی موت پر صرف اس کے گھر والے نہیں رو رہے؛ ہر وہ شخص غم زدہ ہے جس کے دل میں انسانیت ابھی زندہ ہے۔ اس عورت کی زندگی واپس نہیں آ سکتی، مگر اس کا المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ضرور کر سکتا ہے کہ ہم کیسا معاشرہ بنا رہے ہیں، جہاں عورت کی عزت کے دعوے تو بہت ہیں، مگر اس کی جان کی حفاظت سب سے بڑا امتحان بن جاتی ہے۔ اللہ ہر مظلوم عورت کو انصاف عطا فرمائے، ہر ظالم کو اس کے کیے کی سزا ملے، اور ہمیں ایسا معاشرہ نصیب ہو جہاں کسی عورت کا جنازہ اس کی بے بسی کی کہانی نہ بنے۔ کیونکہ عورت کوئی تماشا نہیں، کوئی ملکیت نہیں، کوئی بے جان شے نہیں؛ وہ ایک مکمل انسان ہے، اور اس کی زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی بادشاہ، کسی حکمران یا کسی طاقتور انسان کی۔
#کل ٹرمپ کے استقبال میں عورتیں پیش کی جا رہی تھیں، آج ایک عورت کا سر تن سے جدا ہے! ایک وقت تھا جب سعودی عرب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد پر شاہانہ استقبال کیا جا رہا تھا۔ دولت کی نمائش تھی، قیمتی تحفے تھے، رقص و موسیقی کی محفلیں تھیں، اور دنیا بھر کے سامنے عرب شاہی نظام کی شان و شوکت دکھائی جا رہی تھی۔ آج اسی خطے سے ایک ایسی خبر سامنے آتی ہے جو انسان کے دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ ایک عورت، جو کسی کی بیوی تھی، کسی کی بیٹی تھی، کسی کے گھر کی عزت اور کسی کی زندگی کا حصہ تھی، اس کی زندگی ایک ایسے انجام تک پہنچی کہ اس کا سر اس کے دھڑ سے جدا کر دیا گیا۔ کیا عورت صرف استقبال کی زینت بننے کے لیے ہے؟ کیا اس کی عزت صرف محفلوں تک محدود ہے؟ اور جب وہ ایک انسان کی حیثیت سے اپنے ہی گھر میں ظلم کا شکار ہو، تو اس کی حرمت کہاں چلی جاتی ہے؟ کل تک طاقتور حکمرانوں کے سامنے مسکراہٹیں بکھیرنے، دولت لٹانے اور دنیا کو متاثر کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ آج ایک عورت کی موت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محلوں کی چمک دمک، دولت کے انبار اور طاقت کے مظاہرے کسی معاشرے کی اصل عظمت کا ثبوت نہیں ہوتے۔ اصل عظمت تو یہ ہے کہ ایک عورت اپنے گھر میں محفوظ ہو، ایک بیوی اپنے شوہر کے ہاتھوں خوف زدہ نہ ہو، ایک بیٹی اپنی زندگی کے لیے دعا کرنے پر مجبور نہ ہو، اور ایک انسان کی جان کو ہر تعلق، ہر رشتے اور ہر اختلاف سے بڑھ کر اہمیت دی جائے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم عورت کو کبھی عزت کے نام پر قید کرتے ہیں، کبھی غیرت کے نام پر اس کی زندگی چھین لیتے ہیں، اور کبھی اسے طاقتور لوگوں کی محفلوں میں محض ایک منظر بنا کر پیش کرتے ہیں۔ آخر عورت کی اپنی ذات، اس کے خواب، اس کی خواہشات اور اس کی زندگی کی قیمت کب تسلیم کی جائے گی؟ اسلام تو عورت کو عزت، وراثت، تحفظ اور زندگی کا حق دیتا ہے۔ پھر عورت پر ظلم کرنے والا کس منہ سے دین، غیرت اور عزت کی بات کرتا ہے؟ کسی عورت کو قتل کر دینا غیرت نہیں، بلکہ انسانیت کے چہرے پر ایک ایسا زخم ہے جو برسوں تک رستا رہتا ہے۔ اور حکمرانوں سے بھی ایک سوال ہے: اگر دولت سے دنیا کو حیران کیا جا سکتا ہے، تو کیا انصاف سے دل نہیں جیتے جا سکتے؟ اگر عالمی رہنماؤں کے استقبال پر بے شمار وسائل خرچ کیے جا سکتے ہیں، تو معاشرے کی ہر عورت کے تحفظ، انصاف اور وقار کے لیے پوری قوت کیوں نہیں صرف کی جاتی؟ یاد رکھیے، کسی ملک کی عظمت اس کے محلوں سے نہیں، اس کی عورتوں کے تحفظ سے پہچانی جاتی ہے۔ آج ایک عورت کی موت پر صرف اس کے گھر والے نہیں رو رہے؛ ہر وہ شخص غم زدہ ہے جس کے دل میں انسانیت ابھی زندہ ہے۔ اس عورت کی زندگی واپس نہیں آ سکتی، مگر اس کا المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ضرور کر سکتا ہے کہ ہم کیسا معاشرہ بنا رہے ہیں، جہاں عورت کی عزت کے دعوے تو بہت ہیں، مگر اس کی جان کی حفاظت سب سے بڑا امتحان بن جاتی ہے۔ اللہ ہر مظلوم عورت کو انصاف عطا فرمائے، ہر ظالم کو اس کے کیے کی سزا ملے، اور ہمیں ایسا معاشرہ نصیب ہو جہاں کسی عورت کا جنازہ اس کی بے بسی کی کہانی نہ بنے۔ کیونکہ عورت کوئی تماشا نہیں، کوئی ملکیت نہیں، کوئی بے جان شے نہیں؛ وہ ایک مکمل انسان ہے، اور اس کی زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی بادشاہ، کسی حکمران یا کسی طاقتور انسان کی۔

About