@rajasultn99: طرزِ فریاد زمانے سے جو پائی ہے الگ ہم سخن ور ہیں میاں ، اپنی دہائی ہے الگ دل کی مسند پہ تری فرمانروائی ہے الگ تو نے جو دھاک بٹھائی ہے بٹھائی ہے الگ دامِ کاکُل میں پھنسے کو یہ سمجھ آئی ہے اس اسیری میں تو اک کیفِ رہائی ہے الگ زخمِ دل کو ہے سخن کا کوئی پیکر بخشا ہم نے ہر درد کی صورت ہی بنائی ہے الگ جا نکلتی ہے کہیں اوجِ خرد کی جانب آگہی نے جو ہمیں راہ دکھائی ہے الگ مال و زر، جاہ و حشم، دہر کے ہیں رنگ و فریب عشق والوں کی مگر اپنی خدائی ہے الگ دل ہے سلگایا ہوا جسم کی اس کٹیا میں ہم فقیروں نے یہاں دھونی رمائی ہے الگ ایک دوجے کو میسر ہیں کہاں، ہوتے ہوئے پہلو میں بیٹھ کے بھی اپنی جدائی ہے الگ لوگ ہوتے ہیں جدا ہے یہی دستورِ جہاں آپ نے ہم سے مگر جان چھڑائی ہے الگ ہم نے دربار سے مانگی نہ کبھی دادِ سخن اپنی ملبوسِ فقیری میں گدائی ہے الگ ہوگا ہابیل سے قابیل کا رشتہ کوئی تجھ سے لیکن مری نسبت مرے بھائی ہے الگ پاؤں کے چھالے ہیں دل پر ابھر آئے حاشر عشق کی راہ پہ ہوں، آبلہ پائی ہے الگ حاشر حسین. #minimarg