جب عمر ماروی کو زبردستی اپنے گھر سے اٹھا کر لے جاتا ہے تب ماروی کہتی ہے اچھا عمر اپنے ٹائم کا بادشاہ تھا اور ماروی کو تھر سندھ میں دیکھا تھا تب وہاں عمر کو ماروی سے عشق ہو جاتا ہے ، عمر! کچھ خدا کا خوف اور ڈر رکھ میں بھی کسی (انسان) کی جائی (بیٹی) ہوں مجھے اجازت دے تاکہ میں اپنے اپنوں سے مل آؤں اے عمر! تو میرے دل کو اتنی تکلیف نہ دے تو نے میرے ساتھ اتنا بڑا ظلم کیوں کیا؟ مجھ سے ایسی کون سی خطا یا گناہ ہوا ہے؟ میں ایک انسان ہوں، کچھ تو مجھ پر رحم کھا اے عمر! (یاد رکھ) اوپر اس ربِ سچے کی سرکار (عدالت) بھی ہے ڈرانے والوں سے بڑا تو اللہ کا نام ہے تیرے اندر بھی یہ سانس کسی اور کی امانت ہے یہاں سے تو خالی ہاتھ جائے گا جب یہ جان نکلے گی اے عمر! کچھ تو اپنے موت کے وقت کو یاد کر تو کیوں اپنے نفس اور غرور سے اتنی محبت کرتا ہے؟ اور میری عاجزی و التجاؤں کو ٹھکرا رہا ہے میں تیری ان باتوں میں آنے والی نہیں ہوں اے عمر! تو کیوں اپنا وقار اور عزت برباد کر رہا ہے؟ میری محبت تو صرف اپنے (منگیتر) خمیسے پنوار کے ساتھ ہے میری دعا ہے کہ میری موت بھی اپنے ماروؤں (اپنے غریب لوگوں) کے ساتھ ہو جس کا رب ہے، اس کا سب کچھ ہے اے عمر! چاہے تو اب ہزاروں جتن (کوششیں) ہی کیوں نہ کر لے