@luminescence52: #tiktokshopblackfriday #fypシ #discoverpageforyou #discoveryourgift #discoveryourgift

luminescence52
luminescence52
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 20 October 2026 10:55:00 GMT
270
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @luminescence52, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

شاپر پر پابندی لگانا شاید ماحولیات کے تحفظ کی جانب ایک قدم ہو، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی بھی پالیسی بناتے وقت عوام کی معاشی حالت کو مدِنظر رکھنا ضروری نہیں؟ آج جب عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، تو ایسے میں شاپر پر پابندی لگانے سے پہلے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ایک سستا، آسانی سے دستیاب اور قابلِ برداشت متبادل فراہم کرے۔ کیونکہ اگر پلاسٹک کے شاپر کی جگہ کوئی مہنگا متبادل متعارف کروایا جائے گا، تو اس کی قیمت بھی بالآخر عوام ہی ادا کریں گے۔ کبھی خریداری کے تھیلے کی اضافی قیمت کی صورت میں، کبھی اشیائے ضروریہ کے بڑھتے ہوئے نرخوں کی صورت میں۔ ماحولیات کا تحفظ ضروری ہے، لیکن اس کی ساری قیمت عوام سے وصول کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟ پلاسٹک کے فضلے کو کم کرنے کے لیے مؤثر ری سائیکلنگ کا نظام، کچرے کو مناسب طریقے سے جمع کرنے کا انتظام، عوام میں آگاہی اور سستے متبادل فراہم کرنا بھی تو حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ملک میں ماحولیاتی آلودگی کے کئی دوسرے مسائل بھی موجود ہیں۔ مہنگائی عوام کی کمر توڑ رہی ہے، بنیادی سہولیات کے مسائل ہیں، اور بے شمار ایسے معاملات ہیں جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ہم ماحولیات کے تحفظ کے خلاف نہیں، بلکہ ایسی پالیسیوں کے حامی ہیں جو ماحول کو بھی فائدہ پہنچائیں اور عام آدمی کی زندگی کو مزید مشکل بھی نہ بنائیں۔ حکومت سے سوال ہے: پابندی لگانے سے پہلے متبادل کیوں نہیں؟ پالیسی بنانے سے پہلے عوام کی جیب کا خیال کیوں نہیں؟ عوام پر پابندیاں عائد کرنا آسان ہے، لیکن ایک بہتر نظام بنانا اصل حکمرانی ہے Brst Milk Shop in Islamabad | Pure Dairy in Islamabad  #Dodhwala #puremilk #freshmilk #yogurt #puredairy
شاپر پر پابندی لگانا شاید ماحولیات کے تحفظ کی جانب ایک قدم ہو، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی بھی پالیسی بناتے وقت عوام کی معاشی حالت کو مدِنظر رکھنا ضروری نہیں؟ آج جب عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، تو ایسے میں شاپر پر پابندی لگانے سے پہلے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ایک سستا، آسانی سے دستیاب اور قابلِ برداشت متبادل فراہم کرے۔ کیونکہ اگر پلاسٹک کے شاپر کی جگہ کوئی مہنگا متبادل متعارف کروایا جائے گا، تو اس کی قیمت بھی بالآخر عوام ہی ادا کریں گے۔ کبھی خریداری کے تھیلے کی اضافی قیمت کی صورت میں، کبھی اشیائے ضروریہ کے بڑھتے ہوئے نرخوں کی صورت میں۔ ماحولیات کا تحفظ ضروری ہے، لیکن اس کی ساری قیمت عوام سے وصول کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟ پلاسٹک کے فضلے کو کم کرنے کے لیے مؤثر ری سائیکلنگ کا نظام، کچرے کو مناسب طریقے سے جمع کرنے کا انتظام، عوام میں آگاہی اور سستے متبادل فراہم کرنا بھی تو حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ملک میں ماحولیاتی آلودگی کے کئی دوسرے مسائل بھی موجود ہیں۔ مہنگائی عوام کی کمر توڑ رہی ہے، بنیادی سہولیات کے مسائل ہیں، اور بے شمار ایسے معاملات ہیں جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ہم ماحولیات کے تحفظ کے خلاف نہیں، بلکہ ایسی پالیسیوں کے حامی ہیں جو ماحول کو بھی فائدہ پہنچائیں اور عام آدمی کی زندگی کو مزید مشکل بھی نہ بنائیں۔ حکومت سے سوال ہے: پابندی لگانے سے پہلے متبادل کیوں نہیں؟ پالیسی بنانے سے پہلے عوام کی جیب کا خیال کیوں نہیں؟ عوام پر پابندیاں عائد کرنا آسان ہے، لیکن ایک بہتر نظام بنانا اصل حکمرانی ہے Brst Milk Shop in Islamabad | Pure Dairy in Islamabad #Dodhwala #puremilk #freshmilk #yogurt #puredairy

About