@vn.th.cng10: Phần 2 . Nhẫn Nhịn Suốt 100 Năm Để Kích Hoạt Hệ Thống, Nào Ngờ Nhận Được Năng Lực Mô Phỏng Tu Tiên Giúp Thay Đổi Vận Mệnh ... #fyp #tiktok #foryou #review #usa #xuhuong #donghua #hoathinh

SamSam Review🎥
SamSam Review🎥
Open In TikTok:
Region: JP
Tuesday 20 October 2026 13:05:00 GMT
24716
703
10
19

Music

Download

Comments

cena.vn066
Cena Vn :
chúc ad lên xh nhá
2026-10-20 13:12:15
1
batsatdao1908
📸 Giang & Nhiếp Ảnh :
Từ Điều là cái gì😳
2026-10-20 14:07:55
0
thngbn4
Thằng bạn :
mô phỏng cửu thiên nhé
2026-10-20 17:37:14
1
b.l.trm.ff88
Quân Trần 15 :
Đầu
2026-10-20 13:09:22
1
bamuoiba5
LVH😉 :
Tiep ad oi
2026-10-20 17:27:31
0
hu_chuche7
dog đây✓ :
dag tiếp di
2026-10-20 13:33:53
0
To see more videos from user @vn.th.cng10, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ناظرین مکہ رائل کلاک ٹاور دنیا کی چوتھی سب سے اونچی بلڈنگ ہے، 601 میٹر اونچا اور 16 ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والا دنیا کا سب سے مہنگا اسکائی اسکریپر۔ اس پر لگی گھڑی دنیا کی سب سے بڑی گھڑی ہے، ہر سائیڈ 43 میٹر بڑی، یعنی ایک سائیڈ 16,000 اسکوائر فٹ، مطلب 500 گز کے 35 پلاٹس جتنی بڑی! کہانی شروع ہوتی ہے 2002 سے، جہاں آج یہ ٹاور ہے وہاں پہلے عثمانی دور کا اجیاد قلعہ تھا جو 1780 میں کعبہ کی حفاظت کے لیے بنا تھا۔ حاجیوں کی بڑھتی بھیڑ کی وجہ سے شاہ عبداللہ نے اسے ختم کر کے یہاں 7 ٹاورز کا کمپلیکس بنانے کا فیصلہ کیا، لیکن ایک ٹاور کو مسجد الحرام کے مینار کے طور پر 600 میٹر تک اونچا کرنے کا آئیڈیا آیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ فاؤنڈیشن 450 میٹر کے حساب سے بنی تھی، اب 150 میٹر مزید بڑھانا خطرہ تھا۔ پھر شاہ کی فرمائش آئی کہ ٹاپ پر ایک ہیروں جیسا شیشے کا فساد ہو اور اس پر دنیا کا سب سے بڑا 24 قیراط گولڈ پلیٹڈ چاند ہو۔ انجینئرز نے حل نکالا کہ اوپر کے 150 میٹر کا وزن 36,000 ٹن سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، اس لیے اوپر ہلکا اسٹیل اسٹرکچر بنایا گیا، فلورز کو جان بوجھ کر اونچا اور بیچ سے کھوکھلا رکھا گیا تاکہ وزن کم ہو۔ گھڑی بنانے کا کام 165 سال پرانے تجربے والی جرمن کمپنی PERATE کو دیا گیا۔ اس کے کانٹے عام نہیں، بڑا کانٹا 23 میٹر، چھوٹا 17 میٹر، یعنی 5 منزلہ بلڈنگ جتنا! 600 میٹر پر ہوا 200 کلومیٹر فی گھنٹہ چلتی ہے، اس لیے کانٹوں کو اسٹیل کے بجائے کاربن فائبر سے بنایا گیا جو ہلکا اور زنگ سے پاک ہے۔ 4 گھڑیوں کے لیے 5 سیٹ بنے، ایک اسپئیر۔ سب سے بڑا ڈرامہ چاند اور ہیروں جیسے فساد کا تھا۔ یہ کام جرمن کمپنی SL Rasch / Riva GMBH کو دیا گیا۔ لیکن سعودی قانون ہے کہ مکہ میں صرف مسلم کو انٹری ہے، جبکہ کمپنی کے مالک اور انجینئرز نان مسلم تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ سائٹ پر کام کرنے کے لیے کچھ انجینئرز نے اسلام قبول کیا، جبکہ جنہوں نے مذہب نہیں بدلا انہوں نے سارا کام دبئی میں رہ کر کیا اور ڈیمو بھی وہیں لگایا۔ 75 فٹ اونچا چاند فائبر گلاس اور کاربن فائبر سے بنا ہے، پھر بھی وزن 35 ٹن! اس پر 10 کروڑ موزیک ٹائلز پر سونے کی لیئر چڑھائی گئی۔ اسے ایک ساتھ اوپر لے جانا ناممکن تھا، کیونکہ نیچے لاکھوں لوگ ہوتے ہیں، اس لیے اسے 4 حصوں میں 600 میٹر پر کرین سے کھینچا گیا، ہر حصہ 4 ٹن کا۔ ہوا چلی تو پینڈولم بن گیا، مزدوروں نے رسیوں سے پکڑ کر روکا۔ اس چاند میں 3 فلور ہیں، ایک مسجد بھی جو انسان کی بنائی ہوئی سب سے اونچی مسجد ہے۔ اس ٹاور کا آرکیٹیکٹ گنٹر لین کبھی قریب سے اپنی بلڈنگ نہ دیکھ سکا اور باہر سے دیکھ کر واپس چلا گیا۔ #MakkahClockTower #RoyalClockTower #MasjidAlHaram #GoldCrescent #SaudiArabia
ناظرین مکہ رائل کلاک ٹاور دنیا کی چوتھی سب سے اونچی بلڈنگ ہے، 601 میٹر اونچا اور 16 ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والا دنیا کا سب سے مہنگا اسکائی اسکریپر۔ اس پر لگی گھڑی دنیا کی سب سے بڑی گھڑی ہے، ہر سائیڈ 43 میٹر بڑی، یعنی ایک سائیڈ 16,000 اسکوائر فٹ، مطلب 500 گز کے 35 پلاٹس جتنی بڑی! کہانی شروع ہوتی ہے 2002 سے، جہاں آج یہ ٹاور ہے وہاں پہلے عثمانی دور کا اجیاد قلعہ تھا جو 1780 میں کعبہ کی حفاظت کے لیے بنا تھا۔ حاجیوں کی بڑھتی بھیڑ کی وجہ سے شاہ عبداللہ نے اسے ختم کر کے یہاں 7 ٹاورز کا کمپلیکس بنانے کا فیصلہ کیا، لیکن ایک ٹاور کو مسجد الحرام کے مینار کے طور پر 600 میٹر تک اونچا کرنے کا آئیڈیا آیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ فاؤنڈیشن 450 میٹر کے حساب سے بنی تھی، اب 150 میٹر مزید بڑھانا خطرہ تھا۔ پھر شاہ کی فرمائش آئی کہ ٹاپ پر ایک ہیروں جیسا شیشے کا فساد ہو اور اس پر دنیا کا سب سے بڑا 24 قیراط گولڈ پلیٹڈ چاند ہو۔ انجینئرز نے حل نکالا کہ اوپر کے 150 میٹر کا وزن 36,000 ٹن سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، اس لیے اوپر ہلکا اسٹیل اسٹرکچر بنایا گیا، فلورز کو جان بوجھ کر اونچا اور بیچ سے کھوکھلا رکھا گیا تاکہ وزن کم ہو۔ گھڑی بنانے کا کام 165 سال پرانے تجربے والی جرمن کمپنی PERATE کو دیا گیا۔ اس کے کانٹے عام نہیں، بڑا کانٹا 23 میٹر، چھوٹا 17 میٹر، یعنی 5 منزلہ بلڈنگ جتنا! 600 میٹر پر ہوا 200 کلومیٹر فی گھنٹہ چلتی ہے، اس لیے کانٹوں کو اسٹیل کے بجائے کاربن فائبر سے بنایا گیا جو ہلکا اور زنگ سے پاک ہے۔ 4 گھڑیوں کے لیے 5 سیٹ بنے، ایک اسپئیر۔ سب سے بڑا ڈرامہ چاند اور ہیروں جیسے فساد کا تھا۔ یہ کام جرمن کمپنی SL Rasch / Riva GMBH کو دیا گیا۔ لیکن سعودی قانون ہے کہ مکہ میں صرف مسلم کو انٹری ہے، جبکہ کمپنی کے مالک اور انجینئرز نان مسلم تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ سائٹ پر کام کرنے کے لیے کچھ انجینئرز نے اسلام قبول کیا، جبکہ جنہوں نے مذہب نہیں بدلا انہوں نے سارا کام دبئی میں رہ کر کیا اور ڈیمو بھی وہیں لگایا۔ 75 فٹ اونچا چاند فائبر گلاس اور کاربن فائبر سے بنا ہے، پھر بھی وزن 35 ٹن! اس پر 10 کروڑ موزیک ٹائلز پر سونے کی لیئر چڑھائی گئی۔ اسے ایک ساتھ اوپر لے جانا ناممکن تھا، کیونکہ نیچے لاکھوں لوگ ہوتے ہیں، اس لیے اسے 4 حصوں میں 600 میٹر پر کرین سے کھینچا گیا، ہر حصہ 4 ٹن کا۔ ہوا چلی تو پینڈولم بن گیا، مزدوروں نے رسیوں سے پکڑ کر روکا۔ اس چاند میں 3 فلور ہیں، ایک مسجد بھی جو انسان کی بنائی ہوئی سب سے اونچی مسجد ہے۔ اس ٹاور کا آرکیٹیکٹ گنٹر لین کبھی قریب سے اپنی بلڈنگ نہ دیکھ سکا اور باہر سے دیکھ کر واپس چلا گیا۔ #MakkahClockTower #RoyalClockTower #MasjidAlHaram #GoldCrescent #SaudiArabia

About