@qureshidx5: تیرے ہوتے ہُوئے مَحفِل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سُورج کو دِکھاتے ہیں چراغ اپنی محرُومی کے اِحساس سے شرمِندہ ہیں خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بُجھاتے ہیں چراغ بستیاں دُور ہُوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ دم بہ دم آنکھوں سے چُھپتے چلے جاتے ہیں چراغ کیا خبر اُن کو کہ دامن بھی بھڑک اُٹھتے ہیں جو زمانے کی ہَواؤں سے بچاتے ہیں چراغ گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر خود اندھیرے میں ہیں دُنیا کو دِکھاتے ہیں چراغ بستیاں چاند سِتاروں کی بسانے والو کُرۂ ارض پہ بُجھتے چلے جاتے ہیں چراغ ایسے بے درد ہُوئے ہم بھی کہ اب گُلشن پر برق گرتی ہے تو زِنداں میں جلاتے ہیں چراغ ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ رات تو رات ہے ہم دِن کو جلاتے ہیں چراغ۔۔! #search
بستیاں دُور ہُوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ
دم بہ دم آنکھوں سے چُھپتے چلے جاتے ہیں چراغ
❤️
2026-10-21 11:03:37
0
saherdilljutti :
My father 😘
2026-10-21 06:36:20
0
q khan :
امی
2026-10-20 21:46:38
2
ᏕᏗ💕 :
wah
2026-10-20 18:18:14
2
🌸 محترم کی محترمہ 🫶🏻💍✨ :
Hyeee🙈
2026-10-21 06:14:36
0
━օɖǟǟֆc̷h̷a̷r̷s̷i̷. 🚬 :
میری دنیا کا آدھا سکون تمہاری آواز میں ھے ♥️
2026-10-21 04:14:40
0
•—» 𝐒𝐇𝐀𝐃𝐎𝐖()𝐊𝐈𝐍𝐆 «—• :
hanji
2026-10-20 12:50:26
3
muzamil :
sachii
2026-10-21 04:02:43
0
بابا دا فیض🛖🐥🦁 :
"مدتوں بعد یقین ہوا تھا کسی پر، پھر یہ ثابت ہوا کہ کوئی بھی یقین کے قابل نہیں...
نکال لیتے ہیں دوسروں میں عیب جیسے ہم نیکیوں کے نواب ہیں، گناہوں پر اپنے پردے ڈال کر کہتے ہیں زمانہ بڑا خراب ہے۔"