@fhdvs10: Dubai, دبـــــي 🤍 #viral #fyp #اكسبلور

Fahad | فهد
Fahad | فهد
Open In TikTok:
Region: AE
Tuesday 20 October 2026 13:25:28 GMT
56689
6320
15
290

Music

Download

Comments

sarah_nadyy
N :
masha Allah beautiful dubay
2026-10-20 15:55:00
4
w700lab1
~ :
I love you❤️
2026-10-20 15:25:22
4
zahra44593
zahra :
2026-10-21 15:10:25
0
meriam.sidi
🦢🌺 :
ya Allah
2026-10-21 11:59:33
0
skyflight113
sky🕊 :
laguny dan dubai mengingatkan ku pdanya yg gabisa digapai
2026-10-21 06:28:55
2
janikramv
God bless :
🥺🥺🥺🥺
2026-10-21 09:33:00
0
hengki.heng123
Januari. 05 :
دبي
2026-10-21 07:39:47
0
bak.ishma
ishma_dnyh :
Arabic
2026-10-21 12:11:20
0
mo7ammed_a7med_1
𝐌𝐎𝐇𝐀𝐌𝐌𝐄𝐃☘️❤️‍🩹 :
غير الاغنيه شوف اغنيه غيرها…..
2026-10-20 14:46:41
1
afika29437
Afika29 :
2026-10-21 00:45:21
0
ahlam.jdid
🇱🇧🇦🇪Ahlam Jdid :
🇱🇧🇱🇧🇱🇧🇱🇧🇱🇧🇦🇪🇦🇪🇦🇪🇦🇪
2026-10-20 13:33:08
2
nafta9286
Enigma 13 💌💋💖💥💫 :
🥰🥰🥰
2026-10-20 13:39:59
1
fahadrizwan05
Fahad :
❤️❤️❤️
2026-10-21 10:54:59
0
_thehamad
H | ح :
😍😍😍
2026-10-20 17:13:03
0
To see more videos from user @fhdvs10, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کبھی جو مدتوں کے بعد اسکا سامنا ہوگا سوائے پاس آداب تکلف کے اور کیا ہوگا یہاں وہ کون ہے، جو انتخاب غم پر قادر ہے جو مل جائے وہی غم دوستوں کا مدّعا ہوگا صلیب وقت پر میں نے پکارا تھا محبّت کو میری آواز جس نے بھی سنی ہوگی ہنسا ہوگا نوید سر خوشی جب آئے گی اس وقت تک شاید ہمیں زہر غم ہستی گوارا ہو چکا ہو گا ابھی اک شور ہاو ہو سنا ہے ساربانوں نے وہ پاگل قافلے کی ضد میں پیچھے رہ گیا ہوگا ہمارے شوق کے آسودہ و خوشحال ہونے تک تمہارے عارض و گیسو کا سودا ہو چکا ہوگا نوائیں، نکہتیں، آسودہ چہرے، دلنشیں رشتے مگر اک شخص اس ماحول میں کیا سوچتا ہو گا ہنسی آتی ہے مجھکو مصلحت کے ان تقاضوں پر کے اب اک اجنبی بن کر اسے پہچاننا ہوگا دلیلوں سے دوا کا کام لینا سخت مشکل ہے مگر اس غم کی خاطر یہ ہنر بھی سیکھنا ہوگا وہ منکر ہے تو پھر شاید ہر اک مکتوب شوق اس نے سر انگشت حنائی سے خلاوں میں لکھا ہوگا ہے نصف شب وہ دیوانہ ابھی تک گھر نہیں آیا کسی سے چاندنی راتوں کا قصّہ چھڑ گیا ہوگا صبا! شکوہ ہے مجھکو ان دریچوں سے، دریچوں سے؟ دریچوں میں تو دیمک کے سوا اب اور کیا ہوگا  #search
کبھی جو مدتوں کے بعد اسکا سامنا ہوگا سوائے پاس آداب تکلف کے اور کیا ہوگا یہاں وہ کون ہے، جو انتخاب غم پر قادر ہے جو مل جائے وہی غم دوستوں کا مدّعا ہوگا صلیب وقت پر میں نے پکارا تھا محبّت کو میری آواز جس نے بھی سنی ہوگی ہنسا ہوگا نوید سر خوشی جب آئے گی اس وقت تک شاید ہمیں زہر غم ہستی گوارا ہو چکا ہو گا ابھی اک شور ہاو ہو سنا ہے ساربانوں نے وہ پاگل قافلے کی ضد میں پیچھے رہ گیا ہوگا ہمارے شوق کے آسودہ و خوشحال ہونے تک تمہارے عارض و گیسو کا سودا ہو چکا ہوگا نوائیں، نکہتیں، آسودہ چہرے، دلنشیں رشتے مگر اک شخص اس ماحول میں کیا سوچتا ہو گا ہنسی آتی ہے مجھکو مصلحت کے ان تقاضوں پر کے اب اک اجنبی بن کر اسے پہچاننا ہوگا دلیلوں سے دوا کا کام لینا سخت مشکل ہے مگر اس غم کی خاطر یہ ہنر بھی سیکھنا ہوگا وہ منکر ہے تو پھر شاید ہر اک مکتوب شوق اس نے سر انگشت حنائی سے خلاوں میں لکھا ہوگا ہے نصف شب وہ دیوانہ ابھی تک گھر نہیں آیا کسی سے چاندنی راتوں کا قصّہ چھڑ گیا ہوگا صبا! شکوہ ہے مجھکو ان دریچوں سے، دریچوں سے؟ دریچوں میں تو دیمک کے سوا اب اور کیا ہوگا #search

About