@@ishtiaqueali mughal:وفا کے نام پر ایک تلخ حقیقت
ہماری نظر میں وفا صرف دعووں، لفظوں اور جذبات کا نام نہیں، بلکہ اللہ کی بندگی اور رسول اللہ ﷺ کی سنت سے محبت کا نام ہے۔ وفا یہ ہے کہ اللہ کے حکم کو مانا جائے، مصطفیٰ کریم ﷺ سے سچی محبت کی جائے اور اس محبت کا ثبوت آپ ﷺ کی سنت پر عمل کرکے دیا جائے۔
لیکن ذرا سوچو! تم اپنے جسم سے کتنی وفا کرتے ہو؟ یہی جسم اللہ کی عطا ہے، یہی زبان، یہی آنکھیں، یہی ہاتھ پاؤں اور یہی زندگی رب کی امانت ہیں۔ پھر تم اسی جسم کو گناہوں میں کیوں جھونکتے ہو؟ اسی زبان سے نافرمانی، انہی آنکھوں سے حرام، انہی قدموں سے گناہوں کی راہیں اور اسی زندگی کو اللہ کی نافرمانی میں کیوں گزارتے ہو؟
جس رب نے تمہیں زندگی دی، اسی نے تمہیں خبردار بھی کردیا کہ نافرمانی کا انجام کیا ہوسکتا ہے۔ قرآن نے جہنم کی آگ، عذاب اور نافرمانوں کے انجام سے واضح طور پر ڈرایا ہے۔ پھر بھی اگر انسان جان بوجھ کر گناہوں پر قائم رہے تو وہ اپنے ہی وجود کے ساتھ بے وفائی کر رہا ہے۔
یاد رکھو! اپنے جسم سے محبت صرف اسے کھلانے، سجانے اور آرام دینے کا نام نہیں؛ اسے اللہ کی نافرمانی اور آخرت کے عذاب سے بچانے کی کوشش کرنا بھی محبت ہے۔
اگر تم اپنے رب کی عطا کردہ زندگی کی حفاظت نہیں کرسکتے، اپنے نفس کو گناہوں سے نہیں روک سکتے، تو وفا کے بڑے بڑے دعوے کس منہ سے کرتے ہو؟
وفا پہلے اللہ کے ساتھ عہد نبھانے میں ہے، رسول اللہ ﷺ کی سنت اپنانے میں ہے، اپنے نفس کو گناہوں سے بچانے میں ہے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں ہے۔
وفا کا اصل امتحان زبان سے محبت کا دعویٰ کرنا نہیں، بلکہ عمل سے اس محبت کو ثابت کرنا ہے۔ آج بھی وقت ہے، توبہ کرو، اپنے رب کی طرف لوٹ آؤ، اس سے پہلے کہ زندگی ختم ہوجائے اور پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔
اللہ ہمیں سچی وفا، خالص عبادت، عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
2026-10-21 03:05:07
1
To see more videos from user @sobia_write1, please go to the Tikwm
homepage.