@weweweweh2: #vsxvprince #конц #1stworldtour #асха @v s x v prince

mautxan
mautxan
Open In TikTok:
Region: KZ
Tuesday 20 October 2026 19:00:04 GMT
41858
4139
19
180

Music

Download

Comments

001xxx77
dake :
өлең аты срошно
2026-10-22 17:40:02
12
aida_atym
aidoni :
тоже хочу((
2026-10-23 17:26:35
1
aidanaas28
Aidana :
Мены катты тоспа❤️
2026-10-22 08:46:36
4
talgat.uly1
talgat.uly1 :
De lacure Келдыма ?
2026-10-23 08:25:25
2
xcia.dk
aizat.dk :
Ураган деген әнің айтты ма?
2026-10-22 20:41:36
2
nurzhan.nurzhan93.93
Nurzhan Nurzhan :
Канша адам келген. 150 адамдай барма примерно
2026-10-22 15:47:14
1
ilyassov_001
А :
@ᴺᵁᴿᴵᴷメ: Дикая лаванда V $ X V Prince
2026-10-23 03:12:31
0
_bn_aikyn_
𝒜𝒾𝓀𝓎𝓃_𝒷𝓃_ :
кай кала
2026-10-21 06:11:04
2
klopsadddd
N V :
💪👑
2026-10-21 14:32:30
2
madikosha_r
madikosha_r :
😻
2026-10-22 06:13:38
1
To see more videos from user @weweweweh2, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

افغانستان کے صوبے ارزگان کے رہائشی محمد صادق کا خاندان غیر معمولی طور پر بڑا ہے۔ ان کی چار بیویوں سے 58 بچے ہیں، جبکہ ان کے ہاں سب سے چھوٹے بچے کی پیدائش چند ہفتے قبل ہوئی ہے۔ اتنے بڑے خاندان کی کفالت کرنا ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ 57 سالہ محمد صادق گاڑیوں کے ایک شوروم میں ملازمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی زیادہ تر کوشش بچوں کے لیے روزانہ کھانے پینے کا انتظام کرنے پر مرکوز رہتی ہے، تاہم مالی مشکلات کے باعث خاندان کے چھوٹے بچوں کو بھی سخت حالات کا سامنا ہے۔ محمد صادق کے مطابق، ان کی چاروں بیویوں کی شادیاں کم عمری میں ہوئی تھیں اور نکاح کے وقت ان کی عمریں 13 سے 16 سال کے درمیان تھیں۔ محمد صادق نے بتایا کہ بعض اوقات انہیں اپنے تمام بچوں کے نام بھی یاد نہیں رہتے۔ اسی لیے وہ ہر رات سونے سے پہلے بچوں کی گنتی کرتے ہیں تاکہ اطمینان کر سکیں کہ سب گھر میں موجود ہیں۔ محمد صادق کا کہنا ہے کہ جب چھوٹے بچے ان کے گرد جمع ہوتے ہیں تو گھر شور، ہنسی اور چہل پہل سے بھر جاتا ہے، جس سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گھر میں شادی کی تقریب ہو رہی ہو۔ تاہم اس بڑے خاندان کی زندگی خوشیوں کے ساتھ مشکلات سے بھی بھری ہوئی ہے۔ غربت کے باعث بعض اوقات بچوں کو رات کا کھانا بھی میسر نہیں آتا، جس سے خاندان کی مالی پریشانیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ محمد صادق کا کہنا ہے کہ زیادہ بچے پیدا کرنے کے پیچھے ان کا مقصد امتِ محمدیہ کی تعداد میں اضافہ کرنا تھا، لیکن اب اتنے بڑے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ان کے لیے ایک بڑا امتحان بن گیا ہے۔ #madigitalhazara
افغانستان کے صوبے ارزگان کے رہائشی محمد صادق کا خاندان غیر معمولی طور پر بڑا ہے۔ ان کی چار بیویوں سے 58 بچے ہیں، جبکہ ان کے ہاں سب سے چھوٹے بچے کی پیدائش چند ہفتے قبل ہوئی ہے۔ اتنے بڑے خاندان کی کفالت کرنا ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ 57 سالہ محمد صادق گاڑیوں کے ایک شوروم میں ملازمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی زیادہ تر کوشش بچوں کے لیے روزانہ کھانے پینے کا انتظام کرنے پر مرکوز رہتی ہے، تاہم مالی مشکلات کے باعث خاندان کے چھوٹے بچوں کو بھی سخت حالات کا سامنا ہے۔ محمد صادق کے مطابق، ان کی چاروں بیویوں کی شادیاں کم عمری میں ہوئی تھیں اور نکاح کے وقت ان کی عمریں 13 سے 16 سال کے درمیان تھیں۔ محمد صادق نے بتایا کہ بعض اوقات انہیں اپنے تمام بچوں کے نام بھی یاد نہیں رہتے۔ اسی لیے وہ ہر رات سونے سے پہلے بچوں کی گنتی کرتے ہیں تاکہ اطمینان کر سکیں کہ سب گھر میں موجود ہیں۔ محمد صادق کا کہنا ہے کہ جب چھوٹے بچے ان کے گرد جمع ہوتے ہیں تو گھر شور، ہنسی اور چہل پہل سے بھر جاتا ہے، جس سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گھر میں شادی کی تقریب ہو رہی ہو۔ تاہم اس بڑے خاندان کی زندگی خوشیوں کے ساتھ مشکلات سے بھی بھری ہوئی ہے۔ غربت کے باعث بعض اوقات بچوں کو رات کا کھانا بھی میسر نہیں آتا، جس سے خاندان کی مالی پریشانیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ محمد صادق کا کہنا ہے کہ زیادہ بچے پیدا کرنے کے پیچھے ان کا مقصد امتِ محمدیہ کی تعداد میں اضافہ کرنا تھا، لیکن اب اتنے بڑے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ان کے لیے ایک بڑا امتحان بن گیا ہے۔ #madigitalhazara

About