@user5146122176504:

user5146122176504
user5146122176504
Open In TikTok:
Region: US
Wednesday 21 October 2026 06:16:22 GMT
164
46
7
0

Music

Download

Comments

paul.dengal5
Paul Dengal :
Amen I love you, Jesus
2026-10-21 22:34:17
0
lay.lay.arredon
Lay lay :
Amen I love you too god
2026-10-21 06:20:23
0
deedee67999
deedee67999 :
amen
2026-10-22 01:33:18
0
zkevin_.8
kevindtb4L :
Amen
2026-10-21 20:26:51
0
mtk.honda
mtk.honda :
Amen
2026-10-21 18:58:57
0
user3606693056536
laine :
Amen
2026-10-21 10:12:37
0
michaelgreen1907
Mike Jones :
Amen
2026-10-21 08:25:52
0
To see more videos from user @user5146122176504, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ایف سولہ طیاروں کے پائلٹس کو یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ اگر یہ دونوں سی ون تھرٹی طیارے اپنے راستے سے ذرا سا بھی ہٹیں یا پاکستان سے باہر جانے کی کوشش کریں تو ان دونوں سی ون تھرٹی طیاروں کو مار کر گرا دیا جائے۔ ان جہازوں کے چاغی پہنچنے کے فوراً بعد ہر بم کو سرنگ کے آخر میں قائم ایک کمرے میں لے جایا گیا۔ اس کمرے کو ’’زیرو روم‘‘ کہا جاتا تھا۔ زیرو روم میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی قیادت میں ان بموں کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑا گیا۔ ایک ایٹم بم کو اسمبل کرنے میں کم و بیش ڈھائی سے تین دن لگتے تھے، لیکن جب وہاں اسمبلی کا کام شروع کیا گیا تو صرف تیس گھنٹوں میں چھ کے چھ ایٹم بم بغیر کسی دشواری کے اسمبلی ہو چکے تھے۔ اور اس وقت یہ احساس ہوا کہ یہاں انسان اکیلے کام نہیں کر رہے، بلکہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طاقت بھی شامل تھی۔ یہ کام مکمل ہونے کے فوراً بعد، 25 مئی کو 70 بلوچ رجمنٹ کی مدد سے ان سرنگوں کو 12 ہزار ریت کی بوریوں اور 6 ہزار سیمنٹ کی بوریوں سے بھر کر بند کر دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ اس دن ڈاکٹر ثمر مبارک مند تقریباً پانچ کلومیٹر پیدل چل کر ان تمام تاروں اور آلات کے آخری سرے تک پہنچے۔ 27 مئی 1998 کا دن آیا، جب چاغی کی سرنگوں میں استعمال ہونے والا سیمنٹ خشک ہو چکا تھا۔ اسی دوران نواز شریف نے امریکی صدر بل کلنٹن کو فون کیا۔ اس فون پر نواز شریف نے کلنٹن کی بات نہ ماننے پر معذرت بھی کی۔ ساتھ ہی پاکستان میں جوہری تجربات کرنے کے لیے 28 مئی کو دوپہر تین بجے کا وقت مقرر کیا گیا۔ 27 اور 28 مئی کی درمیانی رات، حسبِ معمول، میں تقریباً بارہ بجے دفتر میں تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ ہمیں انٹیلیجنس رپورٹس ملی ہیں کہ بھارت اور اسرائیل ہماری جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے والے ہیں۔ میں نے کہا کہ رات کے وقت ہم اس بحران کو سنبھال لیں گے۔ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو سب سے پہلا کام جو میں نے کیا، وہ یہ تھا کہ میں نے بھارت کے ہائی کمشنر کو دفترِ خارجہ طلب کیا۔ ان کا نام ستیش چندرا تھا۔ میں نے ان سے کہا: ’’ہمیں یہ خبر ملی ہے، اور اگر یہ خبر سچ ہے تو پھر آپ اپنی حکومت کو بتا دیں کہ پاکستان کا جواب پوری دنیا دیکھے گی۔‘‘
ایف سولہ طیاروں کے پائلٹس کو یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ اگر یہ دونوں سی ون تھرٹی طیارے اپنے راستے سے ذرا سا بھی ہٹیں یا پاکستان سے باہر جانے کی کوشش کریں تو ان دونوں سی ون تھرٹی طیاروں کو مار کر گرا دیا جائے۔ ان جہازوں کے چاغی پہنچنے کے فوراً بعد ہر بم کو سرنگ کے آخر میں قائم ایک کمرے میں لے جایا گیا۔ اس کمرے کو ’’زیرو روم‘‘ کہا جاتا تھا۔ زیرو روم میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی قیادت میں ان بموں کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑا گیا۔ ایک ایٹم بم کو اسمبل کرنے میں کم و بیش ڈھائی سے تین دن لگتے تھے، لیکن جب وہاں اسمبلی کا کام شروع کیا گیا تو صرف تیس گھنٹوں میں چھ کے چھ ایٹم بم بغیر کسی دشواری کے اسمبلی ہو چکے تھے۔ اور اس وقت یہ احساس ہوا کہ یہاں انسان اکیلے کام نہیں کر رہے، بلکہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طاقت بھی شامل تھی۔ یہ کام مکمل ہونے کے فوراً بعد، 25 مئی کو 70 بلوچ رجمنٹ کی مدد سے ان سرنگوں کو 12 ہزار ریت کی بوریوں اور 6 ہزار سیمنٹ کی بوریوں سے بھر کر بند کر دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ اس دن ڈاکٹر ثمر مبارک مند تقریباً پانچ کلومیٹر پیدل چل کر ان تمام تاروں اور آلات کے آخری سرے تک پہنچے۔ 27 مئی 1998 کا دن آیا، جب چاغی کی سرنگوں میں استعمال ہونے والا سیمنٹ خشک ہو چکا تھا۔ اسی دوران نواز شریف نے امریکی صدر بل کلنٹن کو فون کیا۔ اس فون پر نواز شریف نے کلنٹن کی بات نہ ماننے پر معذرت بھی کی۔ ساتھ ہی پاکستان میں جوہری تجربات کرنے کے لیے 28 مئی کو دوپہر تین بجے کا وقت مقرر کیا گیا۔ 27 اور 28 مئی کی درمیانی رات، حسبِ معمول، میں تقریباً بارہ بجے دفتر میں تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ ہمیں انٹیلیجنس رپورٹس ملی ہیں کہ بھارت اور اسرائیل ہماری جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے والے ہیں۔ میں نے کہا کہ رات کے وقت ہم اس بحران کو سنبھال لیں گے۔ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو سب سے پہلا کام جو میں نے کیا، وہ یہ تھا کہ میں نے بھارت کے ہائی کمشنر کو دفترِ خارجہ طلب کیا۔ ان کا نام ستیش چندرا تھا۔ میں نے ان سے کہا: ’’ہمیں یہ خبر ملی ہے، اور اگر یہ خبر سچ ہے تو پھر آپ اپنی حکومت کو بتا دیں کہ پاکستان کا جواب پوری دنیا دیکھے گی۔‘‘

About