@waseempardesi985: دن میں ٹریفک سگنل پر بھیک، رات کو قانون کی تعلیم: پاکستان کی پہلی خواجہ سرا وکیل نشا راؤ کا جادۂ عمل! ⚖️✨ کراچی کے مصروف ٹریفک سگنل پر گاڑیاں رکتی تھیں، شیشے نیچے ہوتے اور لوگ چند روپے دے کر آگے بڑھ جاتے۔ انہی گاڑیوں کے درمیان ایک نوجوان خواجہ سرا عورت نشا راؤ بھی اپنی روزی کمانے کی کوشش کرتی تھیں۔ لاہور کے متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی نشا نے 18 سال کی عمر میں معاشرتی دباؤ کی وجہ سے گھر چھوڑ دیا اور کراچی آئیں، جہاں ابتدائی معاشی تحفظ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں سڑکوں پر بھیک مانگنا پڑی۔ مگر وہ اس مجبوری کو اپنا مقدر بنانے پر تیار نہیں تھیں؛ چنانچہ دن بھر جو پیسے جمع ہوتیں، انہی میں سے کچھ بچا کر وہ شام کو قانون کی تعلیم حاصل کرنے جایا کرتی تھیں۔ دن میں سگنل پر کھڑے ہونا اور رات کو قانون کی دشوار کتابیں پڑھنا آسان نہیں تھا، مگر نشا نے تمام تر معاشرتی رکاوٹوں کا مقابلہ کرتے ہوئے قانون کی ڈگری مکمل کی اور 2020 میں پاکستان کی پہلی خواجہ سرا وکیل کے طور پر سامنے آئیں۔ وہ کراچی بار ایسوسی ایشن کا حصہ بنیں اور عدالتوں میں مقدمات کی پیروی شروع کی۔ آج نشا نہ صرف وکیل کے طور پر کام کر رہی ہیں بلکہ اپنی برادری اور دیگر شہریوں کے حقوق کے لیے بھی ایک مضبوط آواز ہیں، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ انسان کی شناخت اس کی صلاحیتوں اور خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ #NishaRao #FirstTransgenderLawyer #PakistanHeroes #InspirationalStory #KarachiBar (Source / Credit) Source: Biographical Accounts & Media Interviews of Nisha Rao (Pakistan's First Transgender Lawyer)