@silentstrength9661: انہیں کیا خبر کہ میں کس آگ سے گزر کر آئی ہوں، وہ آگ کسی دشمن کی نہیں تھی، وہ تو اُس کی لگائی ہوئی تھی، اُس شخص کی جسے میں نے خود سے زیادہ چاہا، اس نے ایک ایک لفظ سے، ایک ایک بے رخی سے مجھے دن رات جلایا ہے۔ اب میں کیا جلوں گی؟ میری آنکھوں کے آنسو خشک ہو چکے ہیں، میرے خواب جل کر ختم ہو چکے ہیں، میرے دل کی ہر خواہش راکھ ہو چکی ہے، اب وہ میرے نام کی، میری ذات کی، میری خاموشی کی جو بھی باتیں بنائے، مجھے فرق نہیں پڑتا۔ میں اب اس مقام پر ہوں جہاں نہ تعریف اثر کرتی ہے، نہ تذلیل، کیونکہ میں ختم ہو چکی ہوں، تم جسے جلانے آئے ہو وہ میں نہیں، وہ تو کب کی مر چکی ہے، اب تو صرف اس کی راکھ اڑ رہی ہے ہوا میں، اور ہوا میں اڑتی راکھ کو کوئی قید نہیں کر سکتا، کوئی جلا نہیں سکتا۔