@lrar_23:

حوراء محمد ❤️
حوراء محمد ❤️
Open In TikTok:
Region: IQ
Thursday 22 October 2026 00:02:38 GMT
3718
405
10
39

Music

Download

Comments

user5973061151263
علي فيصلاوي :
فدوه
2026-10-22 02:35:36
0
user4214088847141
وطن :
2026-10-22 02:33:55
0
m_____lak
نهر النسيان :
😳😳😳
2026-10-22 02:01:50
0
user6431469425281
البصراوي الجميل :
اخ منج حوراء شحلاتچ
2026-10-22 00:26:09
0
ar.vk8
💥👑عسكري 👑💥 :
2026-10-22 01:26:32
0
ali_jasim.81
علــ𓄌ــي 🧿🪬 :
2026-10-22 00:19:49
0
2_iops
𓍼𝑺𝒂𝒓𝒂𝒉 :
🥰🌷
2026-10-22 00:42:36
0
a__a__321o
خلاص يا دنيه افتهمتج :
🥰🥰🥰
2026-10-22 00:10:42
0
ct_er3
مقتدى الفهداوي :
✨✨✨
2026-10-22 00:10:10
0
am513am
ﹻ۬ﹻﹻ۬ﹻﹻﹻﹻ𝑨𝑴𝑴𝑨𝑹ﹻ۬ﹻﹻ۬ﹻﹻﹻ۬ﹻﹻ :
♥️♥️♥️
2026-10-22 02:41:11
0
To see more videos from user @lrar_23, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

بوجھ اٹھانے والے کی کمر جھک جائے تو دنیا اسے دیکھ لیتی  ہے، اور اس کی تھکن پر ترس بھی کھا لیتی ہے۔ مگر جس کا بوجھ سوچوں کا ہو، وہ سیدھا کھڑا رہ کر بھی 💔 اندر سے جھک چکا ہوتا ہے اس کی تھکن کا کوئی گواہ نہیں ہوتا، اس لیے اس کی داد رسی بھی کوئی نہیں کرتا۔ ✨سوچیں رات کو سب سے زیادہ بھاری ہو جاتی ہیں۔ دن کے شور میں وہ کسی کونے میں دبی رہتی ہیں، اور جیسے ہی خاموشی اترتی ہے، سب ایک ایک کر کے سینے پر آ بیٹھتی 🥀 ہیں۔ 👀 وہی ماضی جسے ہم دفنا آئے تھے، اور وہی کل جو ابھی آیا بھی نہیں ہوتا۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم ہاتھوں کی مشقت کو تو محنت کہہ ⚡ دیتے ہیں، مگر ذہن کی مشقت کو
بوجھ اٹھانے والے کی کمر جھک جائے تو دنیا اسے دیکھ لیتی ہے، اور اس کی تھکن پر ترس بھی کھا لیتی ہے۔ مگر جس کا بوجھ سوچوں کا ہو، وہ سیدھا کھڑا رہ کر بھی 💔 اندر سے جھک چکا ہوتا ہے اس کی تھکن کا کوئی گواہ نہیں ہوتا، اس لیے اس کی داد رسی بھی کوئی نہیں کرتا۔ ✨سوچیں رات کو سب سے زیادہ بھاری ہو جاتی ہیں۔ دن کے شور میں وہ کسی کونے میں دبی رہتی ہیں، اور جیسے ہی خاموشی اترتی ہے، سب ایک ایک کر کے سینے پر آ بیٹھتی 🥀 ہیں۔ 👀 وہی ماضی جسے ہم دفنا آئے تھے، اور وہی کل جو ابھی آیا بھی نہیں ہوتا۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم ہاتھوں کی مشقت کو تو محنت کہہ ⚡ دیتے ہیں، مگر ذہن کی مشقت کو "فضول سوچنا" کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ جبکہ جسم کی تھکن نیند سے اتر جاتی ہے، اور سوچوں کی تھکن نیند میں بھی پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ہم میں سے کتنے ہی لوگ مسکراتے چہروں کے پیچھے ایک پورا بازار سوچوں کا اٹھائے پھرتے ہیں۔ کوئی پوچھ لے "کیسے ہو؟" تو جواب میں بس "ٹھیک ہوں" نکلتا ہے، کیونکہ جو بوجھ دکھائی نہ دے، اسے سمجھانا اس بوجھ کو اٹھانے سے زیادہ مشکل لگتا ہے۔ اپنی سوچوں کو دل میں جمع کرتے رہنے سے وہ ہلکی نہیں ہوتیں، اور بھاری ہو جاتی ہیں۔ کسی سے کہہ دینا، کاغذ پر اتار دینا، یا کم از کم خود کو سن 🥀 لینا، یہ بھی ایک طرح سے کندھے بدلنا ہے، اور بوجھ کبھی کبھی 🕊️ بس تھوڑا سا ہلکا ہونے کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔

About