@visitbeijing: 🍂 A little nature, a slower pace, and a breath of fresh #autumn air. #XihaiziPark in #Tongzhou, #Beijing, is a lovely place to take a break from the city rush and enjoy the changing seasons. #VisitBeijing

VisitBeijing
VisitBeijing
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 24 October 2026 01:30:00 GMT
257
23
2
1

Music

Download

Comments

alibaba110572gmail.com
user83699940782 :
❤️
2026-10-24 07:33:08
0
ali.ahmed.jalbani3
waseem jalbani :
💙💙💙
2026-10-24 01:32:25
1
To see more videos from user @visitbeijing, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

علمِ خاص: یہ اللہ تعالی کی اس ذات کا ذاتی نام ہے جو تمام صفاتِ کمال کی جامع ہے۔ دنیا کی کسی اور زبان میں اس کا متبادل یا جمع (Plural) ممکن نہیں (جیسے 'خدا' کی جمع 'خدائیں' یا 'God' کی جمع 'Gods' ہو سکتی ہے، مگر لفظ 'اللہ' واحد ہی رہتا ہے)۔  اشتقاق (اصل):  اکثریت کے نزدیک یہ
علمِ خاص: یہ اللہ تعالی کی اس ذات کا ذاتی نام ہے جو تمام صفاتِ کمال کی جامع ہے۔ دنیا کی کسی اور زبان میں اس کا متبادل یا جمع (Plural) ممکن نہیں (جیسے 'خدا' کی جمع 'خدائیں' یا 'God' کی جمع 'Gods' ہو سکتی ہے، مگر لفظ 'اللہ' واحد ہی رہتا ہے)۔ اشتقاق (اصل): اکثریت کے نزدیک یہ "الـ" (تعریف کے لیے) اور "إلٰه" (معبود) کا مرکب ہے۔ یعنی الْإِلٰه → الله، جس کا مطلب ہے "تنہا سچا اور حقیقی معبود"۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہ "أَلَهَ" سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں تحیر و حیرت۔ یعنی عقلِ انسانی جس کی ذات و صفات کے ادراک میں حیران و ششدر رہ جائے۔ ایک قول "وَلَهَ" سے بھی ہے، جس کے معنی ہیں شدتِ محبت اور شوق۔ یعنی وہ ذات جس کی طرف تمام مخلوقات بے تابانہ لوٹتی اور محبت کرتی ہیں۔ روحانی راز اور اثرات اہلِ تصوف اور معرفت نے لفظ "اللہ" کے متعدد روحانی راز بیان کیے ہیں: ۱. سانس کی آمد و رفت اور ذکرِ خفی لفظ "اللہ" کے تلفظ میں دو بنیادی آوازیں ہیں: "اَل" (جو سانس کو اندر لے جاتے ہوئے ادا ہوتی ہے) اور "ہُ" (جو سانس باہر نکالتے ہوئے ادا ہوتی ہے)۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ انسان کی ہر سانس بلا ارادہ بھی اپنے خالق کا ذکر کر رہی ہوتی ہے، جسے "پاسِ انفاس" یا ذکرِ خفی کہا جاتا ہے۔ ۲. اسمِ اعظم اور قلبی طہارت اکثر ائمہ و عارفین کے نزدیک "اللہ" ہی وہ اسمِ اعظم ہے جس کے ذریعے کی جانے والی دعا رد نہیں ہوتی۔ اس اسم کے مسلسل ورد اور مراقبے سے: دل میں سے ماسوا (اللہ کے علاوہ ہر چیز) کی محبت اور خوف نکل جاتا ہے۔ روح میں سکون، بصیرت اور طمأنیت پیدا ہوتی ہے۔ ۳. تمام صفاتِ الٰہیہ کا احاطہ باقی تمام نام الٰہی (جیسے الرحمن، الرحيم، الخالق، الرزاق) صفاتی نام ہیں جو اللہ کی کسی خاص صفت کو ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن لفظ "اللہ" اسمِ ذات ہے، جو تمام ۹۹ صفات اور غیر محدود کمالات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ لفظ "اللہ" صرف ایک زبان کا کلمہ نہیں بلکہ خالق اور مخلوق کے درمیان قلبی و روحانی تعلق کی سب سے مضبوط کڑی ہے۔ اس لفظ کی تکرار دل کو روشن اور روح کو بیداری عطا کرتی ہے۔ #islamicfaithandspirituality #creatorsearchinsights #Alah #unfrezzmyaccount #sufism

About