@ptlglobal_talkie: Join our LIVE and get exclusive promotions!

PTL Zello SERVER Talkie SELLER
PTL Zello SERVER Talkie SELLER
Open In TikTok:
Region: MY
Thursday 22 October 2026 09:57:54 GMT
127
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @ptlglobal_talkie, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

نَصّ (Nass) اور اسماعیلی عقیدۂ امامت اسماعیلی عقیدے کے مطابق امامت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ایک روحانی اور دینی منصب ہے۔ موجودہ امام اپنے بعد آنے والے امام کو مقرر کرتے ہیں، جسے نَصّ (Nass) کہا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: > وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا “اور جب ابراہیمؑ کو ان کے رب نے چند باتوں سے آزمایا اور انہوں نے انہیں پورا کر دیا، تو فرمایا: بے شک میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔” (سورۃ البقرہ 2:124) اسی طرح فرمایا: > وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا “اور ہم نے انہیں امام بنایا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے۔” (سورۃ الانبیاء 21:73) اور: > وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا “اور ہم نے ان میں ایسے امام بنائے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے۔” (سورۃ السجدہ 32:24) نَصّ کا مطلب کیا ہے؟ نَصّ سے مراد یہ ہے کہ موجودہ امام اپنے بعد آنے والے شخص کو اپنا جانشین اور امام مقرر فرمائیں۔ اسماعیلی عقیدے میں امام کا جانشین عام انتخابات، ووٹنگ یا کسی کمیٹی کے ذریعے منتخب نہیں ہوتا، بلکہ موجودہ امام کی طرف سے تقرری/تعیین بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآن میں مزید ارشاد ہے: > يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ “اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے صاحبانِ امر کی اطاعت کرو۔” (سورۃ النساء 4:59) اسماعیلی تشریح میں اُولِي الْأَمْر کو امام کی روحانی قیادت اور اختیار کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں اللہ تعالیٰ → امامت کا منصب → موجودہ امام → اپنے بعد امام کی تعیین (نَصّ) → نیا امام یعنی اسماعیلی عقیدے کے مطابق جماعت اگلے امام کو ووٹ کے ذریعے منتخب نہیں کرتی؛ بلکہ موجودہ امام کو اپنے بعد امام مقرر کرنے کا اختیار حاصل  ہے: #imamat #faith #unity #foryou #peace
نَصّ (Nass) اور اسماعیلی عقیدۂ امامت اسماعیلی عقیدے کے مطابق امامت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ایک روحانی اور دینی منصب ہے۔ موجودہ امام اپنے بعد آنے والے امام کو مقرر کرتے ہیں، جسے نَصّ (Nass) کہا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: > وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا “اور جب ابراہیمؑ کو ان کے رب نے چند باتوں سے آزمایا اور انہوں نے انہیں پورا کر دیا، تو فرمایا: بے شک میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔” (سورۃ البقرہ 2:124) اسی طرح فرمایا: > وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا “اور ہم نے انہیں امام بنایا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے۔” (سورۃ الانبیاء 21:73) اور: > وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا “اور ہم نے ان میں ایسے امام بنائے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے۔” (سورۃ السجدہ 32:24) نَصّ کا مطلب کیا ہے؟ نَصّ سے مراد یہ ہے کہ موجودہ امام اپنے بعد آنے والے شخص کو اپنا جانشین اور امام مقرر فرمائیں۔ اسماعیلی عقیدے میں امام کا جانشین عام انتخابات، ووٹنگ یا کسی کمیٹی کے ذریعے منتخب نہیں ہوتا، بلکہ موجودہ امام کی طرف سے تقرری/تعیین بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآن میں مزید ارشاد ہے: > يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ “اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے صاحبانِ امر کی اطاعت کرو۔” (سورۃ النساء 4:59) اسماعیلی تشریح میں اُولِي الْأَمْر کو امام کی روحانی قیادت اور اختیار کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں اللہ تعالیٰ → امامت کا منصب → موجودہ امام → اپنے بعد امام کی تعیین (نَصّ) → نیا امام یعنی اسماعیلی عقیدے کے مطابق جماعت اگلے امام کو ووٹ کے ذریعے منتخب نہیں کرتی؛ بلکہ موجودہ امام کو اپنے بعد امام مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے: #imamat #faith #unity #foryou #peace

About