@fa2___25:

𓆩💫¸.*وهــۦـم𓆪
𓆩💫¸.*وهــۦـم𓆪
Open In TikTok:
Region: IQ
Thursday 22 October 2026 09:59:05 GMT
47349
3502
29
715

Music

Download

Comments

zh..rt
زهــراء :
اني لمن انضف
2026-10-23 13:06:24
0
salahalobaidi01
💥الــقـيــᬼ🇮🇶❀⃟ــاده💥 :
ولكم هاي خبللتني ارفه 😂😂😂
2026-10-23 12:58:14
0
ali.25.89
ali.25.89 :
خرب انه😂🤣
2026-10-22 21:02:30
1
01w97
غزاله 🦌عارضه ازياء👩🏼👗 :
اني هم هيج 😂 بس استحي
2026-10-23 07:21:01
0
0.39ar
اياد الجبوري☑️ :
:السلام عليكم الى كل من يقرء تعليقي اخي واختي اعلمو ان الحياة مهما طالت فهيا قصيرة وسنموت ونقف امام الله ويسئلنا عن الصغيره والكبيرة وان القبر مظلم وموحش نورو قبوركم بتقوى الله نصيحه من أخ مسلم العمر فرصة استغلوها بطاعة الله قبل ان يأتي الموت ولا تنفع الحسرة والندامة للاسف اعرف ان الكثير سوف يستهزء بي ولكن لابد ان نذكركم بالله حفظكم الرحمن الرحيم
2026-10-23 04:41:17
0
hag_101
مهَدي :
رجعت بقوه
2026-10-23 16:45:58
0
user2635679932047
مارون الملاكم الماروني :
اموت عل الترافه
2026-10-23 15:41:18
0
user9017279310850
العسكري ابن ساده :
شلون تنضيف هاذا
2026-10-23 13:12:39
0
user3508796185797
الأمير :
ههههههه
2026-10-22 12:53:33
0
k_.s_.p4
قاسم ألعسكري :
2026-10-22 10:02:09
0
qwertyd49
صافي 🤍 :
2026-10-23 13:09:34
0
ll_nop77
أبو مقتدى 07728479688 :
صارت خبرة او كبرت هههههه
2026-10-23 12:39:55
0
weald548
حيدر احمد 😍 :
حترك
2026-10-22 19:54:16
0
h_g..a
حسين العتابي :
اليعرف حسابها لايقصر
2026-10-23 13:55:35
0
7i.ap..1
حسوني أبن كربلاء :
اي اي والج حيل
2026-10-22 11:42:10
0
fn.__39
Hatem Alhasanwy||حاتم الحسناوي :
هزيي
2026-10-23 08:31:36
0
userwtfbpk8p6a
عباس ابو محمد الصريفي :
💋💋💋💋💋💋
2026-10-22 20:59:14
0
dypxdrkti0uv
ابو نور الهدى :
❤️❤️❤️
2026-10-22 10:02:55
0
user4217009166955
علي ابن الموصل :
🥰🥰🥰
2026-10-23 05:31:26
0
user510840762119
عبدالله الزبيدي :
🥰🥰🥰
2026-10-22 13:58:57
0
_.lf3q
11.11🦅 :
🥰🥰🥰
2026-10-22 15:12:43
0
m_98s8
𓆩 𝒁o𝒁o𓆪 ✪ :
🥰🥰🥰
2026-10-23 06:35:19
0
aka9292
رحيل القوافي :
🌹🌹🌹
2026-10-22 18:01:48
0
atma_n_
🌹الدليمي🌹 :
[وردة][وردة][وردة]
2026-10-23 16:05:16
0
To see more videos from user @fa2___25, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں آج بھی بہت سے لوگ بیٹی کو جہیز دینا ایک اسلامی روایت سمجھتے ہیں؟ اور جب کوئی اس رسم پر سوال اٹھاتا ہے تو فوراً کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز دیا تھا۔ لیکن کیا واقعی اسلام نے لڑکی کے والدین پر جہیز کی ذمہ داری ڈالی ہے؟ اور جس رسم کو آج ہم جہیزِ فاطمی کہتے ہیں، اس کی اصل حقیقت کیا ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں چودہ سو سال پیچھے، مدینہ منورہ میں حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے نکاح کی طرف جانا ہوگا۔ سنن نسائی کی ایک روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ فاطمہ کو کچھ دیے بغیر رخصت نہ کرو۔ حضرت علیؓ نے عرض کیا کہ میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے ان سے ان کی زرہ کے متعلق دریافت فرمایا۔ یہ واقعہ ایک اہم حقیقت بتاتا ہے۔ نکاح کے موقع پر مالی ذمہ داری حضرت علیؓ کی طرف بھی تھی، اور اسلامی شریعت میں مہر شوہر کی ذمہ داری ہے، لڑکی کے والدین کی نہیں۔ اللہ تعالیٰ سورۃ النساء کی آیت 4 میں فرماتا ہے: اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کرو۔ لیکن سوال یہ ہے: اگر اسلام نے مہر کی ذمہ داری شوہر پر رکھی ہے، تو پھر ہمارے معاشرے میں شادی کے وقت لڑکی کے والدین سے فرنیچر، گاڑی، سونا اور گھریلو سامان کی توقع کیوں کی جاتی ہے؟ حضرت فاطمہؓ کی شادی کے متعلق بعض روایات میں چند سادہ گھریلو اشیاء کا ذکر ملتا ہے، لیکن ان روایات کی تفصیلات اور اس سامان کے انتظام کے بارے میں اہلِ علم نے گفتگو کی ہے۔ ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر مسلمان باپ اپنی بیٹی کو لازماً جہیز دے، یا لڑکے والوں کو سامان کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہو۔ اب ذرا برصغیر کی تاریخ دیکھیے۔ اس خطے میں ہندو اور مسلمان صدیوں تک ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ شادی بیاہ کی بہت سی معاشرتی روایات دونوں برادریوں میں مشترک ہو گئیں۔ جہیز بھی مختلف صورتوں میں اس معاشرتی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ جہیز کی ہر شکل صرف ہندو مذہب سے آئی ہے، تاریخی طور پر درست نہیں۔ مختلف معاشروں میں شادی کے موقع پر تحائف اور سامان دینے کی روایات پہلے سے موجود رہی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک معاشرتی روایت کو آہستہ آہستہ مذہبی ذمہ داری کا درجہ دے دیا گیا۔ آج بعض گھروں میں بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کے جہیز کی فکر شروع ہو جاتی ہے۔ والدین برسوں پیسے جمع کرتے ہیں، قرض لیتے ہیں، اور کبھی اپنی زندگی بھر کی کمائی صرف اس لیے خرچ کر دیتے ہیں کہ شادی کے بعد ان کی بیٹی کو طعنے نہ سننے پڑیں۔ اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض لوگ اس پورے بوجھ کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نام سے جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ کسی باپ کا اپنی بیٹی کو خوشی سے تحفہ دینا ایک الگ بات ہے، اور لڑکی کے خاندان سے جہیز کا مطالبہ کرنا یا اسے نکاح کی شرط بنا دینا بالکل الگ معاملہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی کی سادہ شادی کو آج کے مہنگے اور نمائشی جہیز کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ سوچیے، جس نکاح کو اسلام نے آسان بنایا، ہم نے اسے اتنا مشکل کیوں کر دیا کہ بعض والدین اپنی بیٹی کی شادی کے نام سے بھی پریشان ہو جاتے ہیں؟ اسلام نے عورت کو مہر کا حق دیا ہے، اس کے والدین پر لڑکے والوں کی خواہشات پوری کرنے کی ذمہ داری نہیں ڈالی۔ اس لیے اگلی بار جب کوئی جہیز کے مطالبے کو جہیزِ فاطمی کہہ کر مذہبی رنگ دینے کی کوشش کرے تو اس سے صرف ایک سوال ضرور کیجیے: کیا رسول اللہ ﷺ نے واقعی ہر مسلمان باپ کو اپنی بیٹی کے لیے جہیز تیار کرنے کا حکم دیا تھا؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے: اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کرو۔ #foryoupage #taybiivibes #deenurdustories #islamic #viral
کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں آج بھی بہت سے لوگ بیٹی کو جہیز دینا ایک اسلامی روایت سمجھتے ہیں؟ اور جب کوئی اس رسم پر سوال اٹھاتا ہے تو فوراً کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز دیا تھا۔ لیکن کیا واقعی اسلام نے لڑکی کے والدین پر جہیز کی ذمہ داری ڈالی ہے؟ اور جس رسم کو آج ہم جہیزِ فاطمی کہتے ہیں، اس کی اصل حقیقت کیا ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں چودہ سو سال پیچھے، مدینہ منورہ میں حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے نکاح کی طرف جانا ہوگا۔ سنن نسائی کی ایک روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ فاطمہ کو کچھ دیے بغیر رخصت نہ کرو۔ حضرت علیؓ نے عرض کیا کہ میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے ان سے ان کی زرہ کے متعلق دریافت فرمایا۔ یہ واقعہ ایک اہم حقیقت بتاتا ہے۔ نکاح کے موقع پر مالی ذمہ داری حضرت علیؓ کی طرف بھی تھی، اور اسلامی شریعت میں مہر شوہر کی ذمہ داری ہے، لڑکی کے والدین کی نہیں۔ اللہ تعالیٰ سورۃ النساء کی آیت 4 میں فرماتا ہے: اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کرو۔ لیکن سوال یہ ہے: اگر اسلام نے مہر کی ذمہ داری شوہر پر رکھی ہے، تو پھر ہمارے معاشرے میں شادی کے وقت لڑکی کے والدین سے فرنیچر، گاڑی، سونا اور گھریلو سامان کی توقع کیوں کی جاتی ہے؟ حضرت فاطمہؓ کی شادی کے متعلق بعض روایات میں چند سادہ گھریلو اشیاء کا ذکر ملتا ہے، لیکن ان روایات کی تفصیلات اور اس سامان کے انتظام کے بارے میں اہلِ علم نے گفتگو کی ہے۔ ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر مسلمان باپ اپنی بیٹی کو لازماً جہیز دے، یا لڑکے والوں کو سامان کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہو۔ اب ذرا برصغیر کی تاریخ دیکھیے۔ اس خطے میں ہندو اور مسلمان صدیوں تک ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ شادی بیاہ کی بہت سی معاشرتی روایات دونوں برادریوں میں مشترک ہو گئیں۔ جہیز بھی مختلف صورتوں میں اس معاشرتی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ جہیز کی ہر شکل صرف ہندو مذہب سے آئی ہے، تاریخی طور پر درست نہیں۔ مختلف معاشروں میں شادی کے موقع پر تحائف اور سامان دینے کی روایات پہلے سے موجود رہی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک معاشرتی روایت کو آہستہ آہستہ مذہبی ذمہ داری کا درجہ دے دیا گیا۔ آج بعض گھروں میں بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کے جہیز کی فکر شروع ہو جاتی ہے۔ والدین برسوں پیسے جمع کرتے ہیں، قرض لیتے ہیں، اور کبھی اپنی زندگی بھر کی کمائی صرف اس لیے خرچ کر دیتے ہیں کہ شادی کے بعد ان کی بیٹی کو طعنے نہ سننے پڑیں۔ اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض لوگ اس پورے بوجھ کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نام سے جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ کسی باپ کا اپنی بیٹی کو خوشی سے تحفہ دینا ایک الگ بات ہے، اور لڑکی کے خاندان سے جہیز کا مطالبہ کرنا یا اسے نکاح کی شرط بنا دینا بالکل الگ معاملہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی کی سادہ شادی کو آج کے مہنگے اور نمائشی جہیز کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ سوچیے، جس نکاح کو اسلام نے آسان بنایا، ہم نے اسے اتنا مشکل کیوں کر دیا کہ بعض والدین اپنی بیٹی کی شادی کے نام سے بھی پریشان ہو جاتے ہیں؟ اسلام نے عورت کو مہر کا حق دیا ہے، اس کے والدین پر لڑکے والوں کی خواہشات پوری کرنے کی ذمہ داری نہیں ڈالی۔ اس لیے اگلی بار جب کوئی جہیز کے مطالبے کو جہیزِ فاطمی کہہ کر مذہبی رنگ دینے کی کوشش کرے تو اس سے صرف ایک سوال ضرور کیجیے: کیا رسول اللہ ﷺ نے واقعی ہر مسلمان باپ کو اپنی بیٹی کے لیے جہیز تیار کرنے کا حکم دیا تھا؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے: اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کرو۔ #foryoupage #taybiivibes #deenurdustories #islamic #viral

About