@twototsandme: The ALOHA Almond butter cup protein bars are SO GOOD

Nicole | Two Tots and Me
Nicole | Two Tots and Me
Open In TikTok:
Region: US
Thursday 22 October 2026 20:00:09 GMT
774
4
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @twototsandme, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

امتیازی سلوک آخر کب تک؟ تھری ایم پی او کے تحت گرفتار اراکینِ قومی اسمبلی کی رہائی کے احکامات خوش آئند ہیں، لیکن بلوچستان سے منتخب رکنِ قومی اسمبلی ملک عادل خان بازئی اور ان کے بھائی ملک خوشدل خان بازئی کی تاحال رہائی نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ جب دیگر اراکینِ اسمبلی کی رہائی ممکن ہے تو ملک عادل خان بازئی اور ان کے بھائی کو اب تک پابندِ سلاسل کیوں رکھا گیا ہے؟ بلوچستان پہلے ہی طویل عرصے سے احساسِ محرومی اور نظراندازی کا شکار ہے۔ ایسے اقدامات عوام میں بے چینی اور اداروں پر اعتماد کو مزید متاثر کرتے ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں شرکت کے لیے جاری پروڈکشن آرڈرز میں ایم این اے ملک عادل خان بازئی کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ منتخب نمائندے کے ساتھ اس طرزِ عمل پر وضاحت ضروری ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک عادل خان بازئی اور ان کے بھائی کے معاملے پر انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے، ان کی رہائی کے حوالے سے فوری اور واضح اقدامات کیے جائیں اور قانون کا اطلاق بلاامتیاز یقینی بنایا جائے۔ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کی گنجائش، عوامی مینڈیٹ کا احترام اور تمام شہریوں کے ساتھ یکساں قانونی سلوک بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام کو بھی وہی حقوق، عزت اور انصاف ملنا چاہیے جو ملک کے دیگر حصوں کے شہریوں کا حق ہے۔ آخر کب تک بلوچستان کے عوام کو اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانا پڑے گی؟
امتیازی سلوک آخر کب تک؟ تھری ایم پی او کے تحت گرفتار اراکینِ قومی اسمبلی کی رہائی کے احکامات خوش آئند ہیں، لیکن بلوچستان سے منتخب رکنِ قومی اسمبلی ملک عادل خان بازئی اور ان کے بھائی ملک خوشدل خان بازئی کی تاحال رہائی نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ جب دیگر اراکینِ اسمبلی کی رہائی ممکن ہے تو ملک عادل خان بازئی اور ان کے بھائی کو اب تک پابندِ سلاسل کیوں رکھا گیا ہے؟ بلوچستان پہلے ہی طویل عرصے سے احساسِ محرومی اور نظراندازی کا شکار ہے۔ ایسے اقدامات عوام میں بے چینی اور اداروں پر اعتماد کو مزید متاثر کرتے ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں شرکت کے لیے جاری پروڈکشن آرڈرز میں ایم این اے ملک عادل خان بازئی کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ منتخب نمائندے کے ساتھ اس طرزِ عمل پر وضاحت ضروری ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک عادل خان بازئی اور ان کے بھائی کے معاملے پر انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے، ان کی رہائی کے حوالے سے فوری اور واضح اقدامات کیے جائیں اور قانون کا اطلاق بلاامتیاز یقینی بنایا جائے۔ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کی گنجائش، عوامی مینڈیٹ کا احترام اور تمام شہریوں کے ساتھ یکساں قانونی سلوک بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام کو بھی وہی حقوق، عزت اور انصاف ملنا چاہیے جو ملک کے دیگر حصوں کے شہریوں کا حق ہے۔ آخر کب تک بلوچستان کے عوام کو اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانا پڑے گی؟

About