@sham_taypist: سنا ہے موت سے چالیس دن پہلے انسان کا دل دنیا میں نہیں لگتا، مجھے ایسا لگنے لگ گیا ہے کہ اب کسی چیز میں دل ہی نہیں لگتا، نہ لوگوں سے بات کرنے کو دل کرتا ہے، نہ کسی کے درمیان بیٹھ کر سکون ملتا ہے، اور نہ ہی وہ خوشیاں اچھی لگتی ہیں جو کبھی زندگی کا حصہ ہوا کرتی تھیں۔ بس ایک عجیب سی خاموشی دل کے اندر اتر گئی ہے، جیسے بہت کچھ کہنا ہو مگر الفاظ ساتھ نہ دیتے ہوں، جیسے دل میں ہزاروں باتیں جمع ہوں مگر کسی کو بتانے کی ہمت نہ ہو۔ کبھی کبھی انسان سب کے سامنے مسکراتا رہتا ہے، ہنستا بھی ہے، باتیں بھی کرتا ہے، مگر اس کے اندر کیا گزر رہی ہوتی ہے، یہ کوئی نہیں جانتا۔ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو آہستہ آہستہ خاموش کر دیتے ہیں، کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جو تنہائی میں بھی پیچھا نہیں چھوڑتیں، اور کچھ احساسات ایسے ہوتے ہیں جنہیں سمجھاتے سمجھاتے انسان خود تھک جاتا ہے۔ پھر دل چاہتا ہے کہ کچھ دیر کے لیے سب سے دور ہو کر سکون سے بیٹھ جائے، نہ کسی سے کوئی شکایت ہو، نہ کسی سے کوئی امید، بس دل کو تھوڑا سا سکون مل جائے۔ لیکن شاید یہ موت کے قریب ہونے کی نشانی نہیں، بلکہ مسلسل اداسی، ذہنی تھکن اور دل پر جمع ہونے والے بوجھ کا احساس بھی ہو سکتا ہے۔ زندگی کبھی کبھی انسان کو اتنا تھکا دیتی ہے کہ اسے اپنی ہی دنیا اجنبی لگنے لگتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ آگے سکون یا خوشی نہیں مل سکتی۔ کبھی کبھی انسان کو بھی کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی خاموشی کو سمجھے، اس کی بات سنے اور اسے یہ احساس دلائے کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ میرے دل کو وہ سکون واپس مل جائے، میری بے وجہ کی اداسی کم ہو جائے، اور میں دوبارہ زندگی کو محسوس کر سکوں، کیونکہ شاید مجھے زندگی سے نہیں، بلکہ ان تکلیفوں سے آرام چاہیے جنہیں میں بہت عرصے سے اپنے اندر لیے پھر رہا ہوں۔ 💔#fyp