@kiran_wriite: ہم نے تو اپنی انا، اپنی ضد، اپنا غرور، سب کچھ اُس ایک شخص کے قدموں میں رکھ دیا تھا، جسے اپنی دنیا سمجھ بیٹھے تھے۔ اُس کی خوشی کے لیے خود کو بھلایا، اُس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے کے لیے اپنے آنسو چھپائے، اُس کی ناراضی سے بچنے کے لیے بار بار اپنی غلطی نہ ہوتے ہوئے بھی معافیاں مانگیں۔ زمانے نے بھی بہت ستایا، لوگوں نے بھی بہت ذلیل کیا، مگر ہم نے ہر زخم ہنس کر سہہ لیا، کیونکہ دل میں کہیں نہ کہیں یہ یقین تھا کہ ہمارا محبوب تو ہمیں کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ لیکن افسوس، سب سے گہرا زخم بھی اُسی نے دیا جس کے سامنے ہم نے خود کو سب سے زیادہ بے بس پایا۔ جس کی ایک مسکراہٹ کے لیے ہم ہزار غم سہہ جاتے تھے، اُسی نے ہماری محبت کو ہماری کمزوری سمجھ لیا۔ ہم نے اُسے دل سے چاہا، اُس نے ہمیں اپنی مرضی سے چاہا؛ ہم نے رشتے کو نبھانے کی کوشش کی، اُس نے ہر بار ہمیں ہماری اوقات یاد دلائی۔ اور پھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ اُس کی بے رخی، اُس کے تلخ لہجے اور اُس کی بے قدری نے ہمارے صبر کا آخری کنارہ بھی توڑ دیا۔ اُس دن آنکھوں سے صرف آنسو نہیں بہے تھے، بلکہ وہ تمام خواب بھی ٹوٹ کر بکھر گئے تھے جو ہم نے اُس کے ساتھ دیکھے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ انسان زمانے کی ٹھوکروں سے اتنا نہیں ٹوٹتا، جتنا اپنے محبوب کی بے قدری سے ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ زمانے سے تو شکوہ ہوتا ہے، مگر محبوب سے تو صرف محبت کی امید ہوتی ہے۔ 💔