@zaheer.ud.din93: #ایک کتا بھی احساس رکھتا ہے، مگر انسان اپنا ضمیر کیوں بھول جاتا ہے؟ ایک شخص نے ایک کتے کو کھانا دیا۔ کتے نے خود کھانے کے بجائے اپنے ساتھی کتے کی طرف اشارہ کیا، جیسے کہہ رہا ہو: پہلے اسے کھانا دو، یہ اندھا ہے، اسے میری نسبت زیادہ ضرورت ہے۔ ذرا سوچیے! ایک جانور بھی اپنے حصے کی خوشی قربان کرکے اپنے بے بس ساتھی کا خیال رکھتا ہے، مگر افسوس کہ بعض انسان دوسروں کے حصے کا رزق چھین کر اپنے پیٹ بھرنے میں مصروف ہیں۔ انسان، جسے اللہ تعالیٰ نے عقل، شعور، احساس اور ضمیر جیسی نعمتوں سے نوازا ہے، جب وہ کسی یتیم کا حق مارتا ہے، کسی غریب کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتا ہے، کسی مزدور کی مزدوری دبا لیتا ہے یا کسی بے بس انسان کے منہ سے نوالہ چھین کر اپنے دسترخوان کو سجاتا ہے، تو اسے سوچنا چاہیے کہ کیا وہ واقعی اشرف المخلوقات ہونے کا حق ادا کر رہا ہے؟ رزق صرف پیٹ بھرنے کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے کا نام بھی ہے۔ جو رزق کسی دوسرے کا حق مار کر حاصل کیا جائے، وہ بظاہر دولت تو ہو سکتی ہے، مگر اس میں سکون، برکت اور حقیقی خوشی کہاں؟ ہم اکثر جانوروں کو بے عقل سمجھتے ہیں، لیکن کبھی کبھی ان کے عمل انسانوں کو وہ سبق سکھا دیتے ہیں جو برسوں کی نصیحت بھی نہیں سکھا پاتی۔ اس کتے نے ہمیں یہ پیغام دیا کہ احساس کے لیے بڑی ڈگری، اونچا عہدہ یا بہت زیادہ دولت ضروری نہیں؛ ایک زندہ دل اور درد محسوس کرنے والا ضمیر کافی ہے۔ یاد رکھیے! دنیا میں ہر شخص اپنے حصے کا رزق لے کر آیا ہے۔ کسی کی مجبوری کو اپنی طاقت نہ بنائیں، کسی کی خاموشی کو اس کی کمزوری نہ سمجھیں اور کسی کے حق پر قبضہ کرکے اپنی کامیابی کا جشن نہ منائیں۔ کیونکہ دوسروں کے حقوق چھین کر بنائے گئے محل انسان کو دنیا میں بڑا تو دکھا سکتے ہیں، مگر کردار میں چھوٹا کر دیتے ہیں۔ افسوس اُس انسان پر جو ایک اندھے کتے کے لیے بھی رحم نہیں رکھتا، اور اس سے بھی زیادہ افسوس اُس انسان پر جو سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی دوسروں کا حق چھین لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حلال رزق کمانے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے اور ضرورت مندوں کا سہارا بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲