@xenalaguerierre72: Mendoza hurle devant sa porte sa mère Cleopatre lui aurait fait un guet-apens selon c'est crie elle ne souhaite pas lui donner ses affaires, Cleopatre appelle la police et Mendoza en panique ne veut pas se faire arrêter ! !! ⚠️Avertissement Modération TikTok ⚠️cette vidéo est une archive factuelle d'une diffusion publique en direct sur cette plate-forme, partagée à but strictement informatif, éducatif et de documentation (droit à l'information) Conformément aux règles de la communauté TikTok ce contenus ne relève pas du harcèlement cible ni de l'intimidation. Il s'agit d'un droit critique et de retransmission de propos tenus publiquement par une figure publique de l'application devant des milliers de spectateurs. Aucun propos où élément est modifié par IA. Modérateur TikTok Merci de réviser manuellement en cas de signalement malveillant ou abusif en masse. #mendoza #belgique #crie #police #vetement

Lily_72 🎗⋆˚🧚‍♀️♪✮˚♫
Lily_72 🎗⋆˚🧚‍♀️♪✮˚♫
Open In TikTok:
Region: FR
Friday 23 October 2026 13:45:09 GMT
198
3
1
2

Music

Download

Comments

lapsychiatrie10
la psychiatrie :
😂😂😂
2026-10-23 15:34:06
1
To see more videos from user @xenalaguerierre72, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مادرعلمی گورنمنٹ ھائ اسکول مشکے گجر تحریر۔ کامریڈ مشتاق احمد شاہوانی کہاوت ہے روایت ہے یا کہتے ہے کہ عشق وشک کی خوشبو اور گجر شہر کی خوبصورتی چھپاۓچھپتے نھیں راقم نے گجرشہر میں آنکھ کھولی یہ چھوٹی سی شہر تحصیل مشکے کا خوبصورت چہرہ ہے نخلستانی حسن وجلال بلند بالا پہاڑ دلکش ودلفریب نظارہ پیش کرتے ہیں کجھور انار انگور توت کے باغات سبز پوشاک میں ملبوس سبز گنبدمیں قید سبز چادر لٹکاۓ پورے شہر کو دلہا کی طرح سجا رکھا ہے یہ ہمارے آباواجداد کے ہاتھوں کا معجزہ ہمارےمحسن ہیں ایک کہاوت ہے کہ کجھور کے درختوں کو بچوں کی طرح پالنا پڑتا ہے جب موسم بدلتا ہے کیا ستم جاڑے کے موسم میں درختوں کی شاخیں زرد پتے دور دور بکھر جاتے ہیں اور سرد ہواہیں زرد لباسوں کو میدانوں میں اڑا لیتے پھرتھی؟مگر کجھور کے باغات سر سبز شاداب نظر آتا ہے گجر شہر کی بنیاد کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ یہاں ایران کے بادشاہ یزدگرد اپنے لاؤ لشکر گجر فورس کے ساتھ ریسٹ ہاوس کے قریب پڑاؤڈالا غالبا اس وقت ریسٹ ہاوس نھیں تھی لفظ گجر لفظ فارسی یے گجر کا نام دیا گیا اور گجر مشہور ہو گیا اگر بندہ مہمان تحصیل مشکے آۓ گجر شہر نہ دیکھے یہ کیسے ہو سکتا ہے گجر بازار میں چاۓ نوشی اخبار خوانی عام ہے دوردراز سے لوگ چاۓ پینے کےلیے آتے ہیں چھوٹے ہوٹل دن بھر کھلا رہتے ہیں جہاں امیروغریب اور مسافروں کا ہجوم رہتا ہے لوگوں کے ملاقات سیروتفریح کی بہتریں جگہ چاۓ کے ہوٹل بھی ہے دراصل دودھ پتی چاۓ گجر کا شہر مشہور ہے ہوٹلوں کی رونق صرف چاۓ تک محدود نہی تھی بلکہ یہ شہر کی تہذیب وتمدن روایت مہمان نوازی فکری سماجی سیاسی علاقائ اور روزمرہ کے معاملات اور زندگی کے مراکز تھے کچھ یادیں جب ذہین ماضی کی یادوں میں بھٹکتا ہے جیسے اپنے پرانے اسکول جیسے اپنے بچپن کے دوستوں صلاح الدین قمبرانی مرحوم عبدالمجید عبدالسمیع رخشانی پسند خان گزوزئ مرحوم محمد نسیم کامریڈ نذیر احمد گزوزہی محمد اختر گزوزہی کامریڈ عبدالرشید بزنجو اور دیگر دوستوں کو یاد کرنا یاد ماضی روح میں شامل ایک خاموش لہر ہے اور بکھری یادوں کی خوشبو گورنمنٹ ھائ اسکول مشکے کا ذکر آتے ہی راقم کے ویم وگمان صداہیں دینے لگے وہ سردیوں میں یخ بستا ہواہیں ودھند کے پردے جب سورج ہوتا تو گجر کے آس پاس سے لڑکے کتابیں بغل میں دابے سیاہ رنگ کی وردیاں زیب وتن کیے مختلف راستوں سے نمودار ہونا شروع ہو جاتے کچھ لڑکے پیدل کچھ ساہیکل کچھ گدھوں پہ گپیں ہانگتے قہقے لگاتے سیٹی بجاتے کچھ لڑکے پریشان قدموں سے اسکول کی طرف رواں دواں تھے جب بازار سے گزر جاتے تو وادو ہوٹل حضور بخش ہوٹل چاۓ بنانے میں مصروف قصاب سردار خان اور چروا ناکو مولا بخش نظر آنا شروع ہو جاتے بازار کے آخر میں باہیں ہاتھ شہر خموشاں آجاتا تو داہیں ہاتھ مادرے علمی اور اسکول کے ساتھ ایک ہاسٹل کی عمارت تھی ہوسٹل کے ساتھ جامع مسجد اور چھوٹی سی مدرسہ ایک ریسٹ ہاوس تھی اور بیچ میں ایک عظیم درسگاہ تاریخی اور قدیمی ایک گہوارہ تھا اور عظیم ترین اساتذہ اور بہتریں دوستوں اور انمول یادیں کی چاپ سناہی دیتی ہے راقم نے دس سال کے سرد و گرم اس اسکول کے راہ داریوں میں گزارے اور میرے والد صاحب محترم تبلیغی امیر محمد شہداد شاہوانی ماسٹر محمد عمر صاحب حاجی خیر محمد دوسری اور تیسری جماعت میں پڑھاتے رہے اور اسکول کا ہیڈ ماسڑ نظر محمد بڑیچ  اور  چھٹی کلاس کے انگلش پڑھاتے رہےاس زمانے ہمارا دو نہی زبانوں سے واسطہ پڑا ایک عربی دوسرا انگلش شھید رحمت اللہ ساجدی صاحب محمد انور شاہوانی نذیر احمد شاہوانی حیدر صاحب ہیبوانی حضور بخش ساجدی صاحب اور دیگر اساتذہ جیسے قابل مخلص نرم گفتار اور خندہ پشانی سے پیش آۓ اس پاے کا پورے قلات ڈویژن میں دوسرا تعلیمی ادارہ نہی تھا اگر زندگی کے کچھ شخصیات اعلی عہدوں پر فاہز ہوے دانشور محمد انور ساجدی، ڈسڑکٹ ایجوکیش آفیسر مرحوم رحمت اللہ رخشانی، میر دلمراد ساجدی، شوکت صحراہی، رہیس خداداد گزوزہی، غلام مصطفی (کلملی) حسنی، کیپٹن عنایت اللہ شاہوانی، ڈی ایچ او نصیراحمد، شاہوانی ڈاکٹر طاہر گزوزہی،  دانشور عبدالرازق نادر،مصنف حسن خان آزاد،ماسٹر گل محمد مراد بخش شاہوانی میرے لیے وہ سب انتہاہی معزز و مکرم حد درجہ محترم ہیں اور خراج تحسین کے مستحق ہیں
مادرعلمی گورنمنٹ ھائ اسکول مشکے گجر تحریر۔ کامریڈ مشتاق احمد شاہوانی کہاوت ہے روایت ہے یا کہتے ہے کہ عشق وشک کی خوشبو اور گجر شہر کی خوبصورتی چھپاۓچھپتے نھیں راقم نے گجرشہر میں آنکھ کھولی یہ چھوٹی سی شہر تحصیل مشکے کا خوبصورت چہرہ ہے نخلستانی حسن وجلال بلند بالا پہاڑ دلکش ودلفریب نظارہ پیش کرتے ہیں کجھور انار انگور توت کے باغات سبز پوشاک میں ملبوس سبز گنبدمیں قید سبز چادر لٹکاۓ پورے شہر کو دلہا کی طرح سجا رکھا ہے یہ ہمارے آباواجداد کے ہاتھوں کا معجزہ ہمارےمحسن ہیں ایک کہاوت ہے کہ کجھور کے درختوں کو بچوں کی طرح پالنا پڑتا ہے جب موسم بدلتا ہے کیا ستم جاڑے کے موسم میں درختوں کی شاخیں زرد پتے دور دور بکھر جاتے ہیں اور سرد ہواہیں زرد لباسوں کو میدانوں میں اڑا لیتے پھرتھی؟مگر کجھور کے باغات سر سبز شاداب نظر آتا ہے گجر شہر کی بنیاد کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ یہاں ایران کے بادشاہ یزدگرد اپنے لاؤ لشکر گجر فورس کے ساتھ ریسٹ ہاوس کے قریب پڑاؤڈالا غالبا اس وقت ریسٹ ہاوس نھیں تھی لفظ گجر لفظ فارسی یے گجر کا نام دیا گیا اور گجر مشہور ہو گیا اگر بندہ مہمان تحصیل مشکے آۓ گجر شہر نہ دیکھے یہ کیسے ہو سکتا ہے گجر بازار میں چاۓ نوشی اخبار خوانی عام ہے دوردراز سے لوگ چاۓ پینے کےلیے آتے ہیں چھوٹے ہوٹل دن بھر کھلا رہتے ہیں جہاں امیروغریب اور مسافروں کا ہجوم رہتا ہے لوگوں کے ملاقات سیروتفریح کی بہتریں جگہ چاۓ کے ہوٹل بھی ہے دراصل دودھ پتی چاۓ گجر کا شہر مشہور ہے ہوٹلوں کی رونق صرف چاۓ تک محدود نہی تھی بلکہ یہ شہر کی تہذیب وتمدن روایت مہمان نوازی فکری سماجی سیاسی علاقائ اور روزمرہ کے معاملات اور زندگی کے مراکز تھے کچھ یادیں جب ذہین ماضی کی یادوں میں بھٹکتا ہے جیسے اپنے پرانے اسکول جیسے اپنے بچپن کے دوستوں صلاح الدین قمبرانی مرحوم عبدالمجید عبدالسمیع رخشانی پسند خان گزوزئ مرحوم محمد نسیم کامریڈ نذیر احمد گزوزہی محمد اختر گزوزہی کامریڈ عبدالرشید بزنجو اور دیگر دوستوں کو یاد کرنا یاد ماضی روح میں شامل ایک خاموش لہر ہے اور بکھری یادوں کی خوشبو گورنمنٹ ھائ اسکول مشکے کا ذکر آتے ہی راقم کے ویم وگمان صداہیں دینے لگے وہ سردیوں میں یخ بستا ہواہیں ودھند کے پردے جب سورج ہوتا تو گجر کے آس پاس سے لڑکے کتابیں بغل میں دابے سیاہ رنگ کی وردیاں زیب وتن کیے مختلف راستوں سے نمودار ہونا شروع ہو جاتے کچھ لڑکے پیدل کچھ ساہیکل کچھ گدھوں پہ گپیں ہانگتے قہقے لگاتے سیٹی بجاتے کچھ لڑکے پریشان قدموں سے اسکول کی طرف رواں دواں تھے جب بازار سے گزر جاتے تو وادو ہوٹل حضور بخش ہوٹل چاۓ بنانے میں مصروف قصاب سردار خان اور چروا ناکو مولا بخش نظر آنا شروع ہو جاتے بازار کے آخر میں باہیں ہاتھ شہر خموشاں آجاتا تو داہیں ہاتھ مادرے علمی اور اسکول کے ساتھ ایک ہاسٹل کی عمارت تھی ہوسٹل کے ساتھ جامع مسجد اور چھوٹی سی مدرسہ ایک ریسٹ ہاوس تھی اور بیچ میں ایک عظیم درسگاہ تاریخی اور قدیمی ایک گہوارہ تھا اور عظیم ترین اساتذہ اور بہتریں دوستوں اور انمول یادیں کی چاپ سناہی دیتی ہے راقم نے دس سال کے سرد و گرم اس اسکول کے راہ داریوں میں گزارے اور میرے والد صاحب محترم تبلیغی امیر محمد شہداد شاہوانی ماسٹر محمد عمر صاحب حاجی خیر محمد دوسری اور تیسری جماعت میں پڑھاتے رہے اور اسکول کا ہیڈ ماسڑ نظر محمد بڑیچ اور چھٹی کلاس کے انگلش پڑھاتے رہےاس زمانے ہمارا دو نہی زبانوں سے واسطہ پڑا ایک عربی دوسرا انگلش شھید رحمت اللہ ساجدی صاحب محمد انور شاہوانی نذیر احمد شاہوانی حیدر صاحب ہیبوانی حضور بخش ساجدی صاحب اور دیگر اساتذہ جیسے قابل مخلص نرم گفتار اور خندہ پشانی سے پیش آۓ اس پاے کا پورے قلات ڈویژن میں دوسرا تعلیمی ادارہ نہی تھا اگر زندگی کے کچھ شخصیات اعلی عہدوں پر فاہز ہوے دانشور محمد انور ساجدی، ڈسڑکٹ ایجوکیش آفیسر مرحوم رحمت اللہ رخشانی، میر دلمراد ساجدی، شوکت صحراہی، رہیس خداداد گزوزہی، غلام مصطفی (کلملی) حسنی، کیپٹن عنایت اللہ شاہوانی، ڈی ایچ او نصیراحمد، شاہوانی ڈاکٹر طاہر گزوزہی، دانشور عبدالرازق نادر،مصنف حسن خان آزاد،ماسٹر گل محمد مراد بخش شاہوانی میرے لیے وہ سب انتہاہی معزز و مکرم حد درجہ محترم ہیں اور خراج تحسین کے مستحق ہیں

About