@zeeshan_kamal12: یہ غزل مفتي اسیر عبدالحنان کا صوفیانہ کلام ہے جو عشقِ مجازی، پیر کی ، اور دنیاوی طاقت و حسن کی بات کرتا ہے۔ اس میں جانان» دندان پر لبان» سلطان خال وزیر وغیرہ الفاظ محبوبِ مجازی کے لیے ہیں اسیر په ځنځیر شوم د پیر دامن گیر» پیر مرشد کی غلامی کی بات ہے نعت میں حضور ﷺ کی مدح ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص اسی دھن اور انہی الفاظ کو ہلکا سا بدل کر نعت بنا دیتا ہے تو دو بڑے مسائل پیدا ہوتے ہیں معنی کا گڈمڈ ہونا — لوگ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ یہ نعت ہے یا دنیاوی غزل۔ 2. ادب کا مسئلہ — صوفیانہ عشق کے الفاظ کو سیدھا نعت پر چڑھا دینا اکثر بے ادبی کا باعث بنتا ہے۔ پشتو اور اردو دونوں روایات میں صوفیانہ کلام کو نعت کے طور پر استعمال کرنے کی مثالیں موجود ہیں، لیکن وہاں کلام پہلے سے ہی رب یا رسول کی طرف اشارہ کرتا ہو، یا پھر شاعر خود اسے نعت کے لیے لکھے۔ یہاں معاملہ مختلف ہے۔ اصل غزل کو صوفیانہ کلام کے طور پر سننا بہتر ہے۔ اسے زبردستی نعت بنانا نہ ادبی لحاظ سے درست ہے اور نہ ہی احترام کے لحاظ سے